صدر کا دورئہ لاہور۔ آصف ہاشمی نے میلہ لوٹ لیا

کالم نگار  |  مطلوب احمد وڑائچ

13جنوری سے شروع ہونے والے صدر آصف علی زرداری کے سات روزہ دورہ لاہور جس میں صدر نے میراتھن پرفارم کیا اور ایک محتاط اندازے کے مطابق ہزاروں پارٹی کارکنان ،درجنوں وفود سے صدر نے ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ صدر کو بنکر میں مقید ہونے کا طعنہ دینے والے پریشان ہو گئے کہ صدر بنکر میں واپس کیوں نہیں جا رہے۔ ستم ظریفی یہ کہ تاریخ اپنے آپ کو پھر سے دہرانے لگی۔ میثاقِ جمہوریت کے بانیوں نے تاریخ سے سبق حاصل کرنے کے بجائے پھر پرانی روش کو اختیار کیا جس کی وجہ سے ان کو وہ دن دیکھنا پڑے کہ جب انہیں فضائی سفر کے دوران سیٹوں سے باندھ کے رکھا گیا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جب وزیراعظم کی حیثیت سے لاہور تشریف لاتی تھیں تو تخت پر براجمان ”بھائی صاحب“ ان کی آمد پر میاں چنوں چلے جاتے تھے۔ بالکل اسی طرح 21سال بعد تاریخ سے سبق نہ سیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ شہباز شریف صدر سے ملاقات سے جان بوجھ کر گریزاں رہے۔ ان کا ترکی کا دورہ پہلے سے طے تھا لیکن انہوں نے اس میں جو توسیع کی وہ تو طے شدہ نہیں تھی اور وہ بھی چاردن کی توسیع۔ آج کے اخبارات میں ان کی وضاحت بھی شائع ہوئی ہے جو آپ نے ملاحظہ فرما لی ہو گی!
اسی ماہ کے اوائل میں مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف کوئٹہ اور کراچی گئے تو ان کو پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومتوں کی طرف سے مکمل پروٹوکول دیا گیا۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی اور وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ دورے کے دوران ان کے ساتھ ساتھ رہے جبکہ میاں نوازشریف کی موجودہ پوزیشن یہ ہے کہ وہ ایک منتخب کونسلر بھی نہیں۔ لاہور میں عجیب صورتحال تھی۔ میاں نوازشریف کی چین کے ڈاکٹروں سے پہلے سے ملاقات کا شیڈول تھا۔ تاہم مسلم لیگ ن اور حکومت پنجاب کی دوسرے درجے کی قیادت تو موجود تھی جس نے صدر کے استقبال کے حوالے سے تیسرے درجے کا کردار ادا کیا۔ استقبال تو دور کی بات رانا ثناءاللہ جیسے لوگ صدر پاکستان کے حوالے سے توہین آمیز بیان دیتے رہے۔ اور سیکورٹی کی فراہمی کا یہ حال تھا کہ جیالے اور جیالیاں گورنر ہاﺅس کی دیواریں پھلانگ کر گورنر ہاﺅس میں صدر کا خطاب سننے جا پہنچے۔ جیالوں کے بھیس میں دہشت گرد بھی اپنا کام دکھا سکتے تھے۔ سیکورٹی تو صوبائی حکومت نے فراہم کرنا تھی۔ شہبازشریف کی نمائندگی کرنے والوں نے کہا کہ زرداری صاحب پارٹی چیئرمین کی حیثیت سے آئے ہیں صدر کی حیثیت سے آئیں گے تو پروٹوکول اور سیکورٹی فراہم کریں گے۔
صدر کے دورے کے دوران گورنر سلمان تاثیر کا کردار قابل تحسین رہا جنہوں نے گورنر ہاﺅس عوام کے لیے کھول دیا اور جیالوں کے لیے صدر سے ملاقات اور دیگر ہر قسم کی سہولیات کا اہتمام کیا۔کچھ دوستوں کو گورنر کے کچھ دوستوں سے اس حوالے سے کچھ شکایات بھی تھیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جمہوریت میں ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے۔ ہمیں یقین ہے کہ گورنر ایسے سنگین مسائل کا نوٹس لیں۔ یہ عہدے اور مرتبے آنی جانی چیزیں ہیں آخر کو ہم نے اگر سیاست کرنی ہے تو پھر انہی دوستوں،کارکنان اور عوام میں واپس جانا ہے اور آج کا بویا یقیناً کل کو کاٹنا پڑے گا۔
صدر نے دورہ پنجاب کے دوران فیصل آباد جانے کا اعلان کر رکھا تھا لیکن موسم کی خرابی کے باعث ہیلی کاپٹر کی پرواز ممکن نہ تھی صدر نے کہا میں نے فیصل آبادیوں سے وہاں آنے کا وعدہ کر رکھا ہے وہ شدید دھند اور خراب موسم میں گاڑی پر فیصل آباد گئے وہاں نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کا افتتاح کیا اور 10کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا اور اسی خراب موسم میں بائی روڈ شدیددھند میں لاہور واپس بھی آئے۔ یہ ان کی جرا¿ت اور دلیری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس دورے کے بعد پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر رانا آفتاب پھولے نہیں سما رہے۔جبکہ پیپلز پارٹی لاہور کے صدر چوہدری اصغر اور ان کی پوری ٹیم بھی صدر کے لاہور آنے پر بہت خوش تھی۔
اس دورے کے دوران صدر نے بے شمار ترقیاتی اور فلاحی سکیموں کا افتتاح کیا۔ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت وسیلہ حق سکیم بابا فرید پل بہاولپور، پانی کے ڈیموں اور شاہرات کاافتتاح بھی کیا۔
دورے کے آغاز پر صدر صاحب نے ہم کچھ دوستوں کو گورنر ہاﺅس بلایا تھا۔ میٹنگ کے دوران متروکہ وقف املاک کے چیئرمین سید آصف ہاشمی نے اپنے حلقہ شاہدرہ کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جو بھی منصوبے صدر صاحب کے سامنے رکھے صدر نے ان کو من و عن منظور کرتے ہوئے کہا ان سکیموں کی منظوری سے ہم نے شاہدرہ کے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں اب الیکشن میں ووٹ لینا آپ کا کام ہے۔ آصف ہاشمی کے مجوزہ منصوبوں میں شاہدرہ کے شہریوں کے لیے جدید سہولتوں سے آراستہ 350 بستروں پر مشتمل ہسپتال کی منظوری شامل تھی۔ ہسپتال کا نام شہید بے نظیر بھٹو ہسپتال ہوگا جس کے لیے متروکہ وقف املاک بورڈ72کنال زمین فراہم کرے گا۔ اس ہسپتال کی تعمیر سے اندرون شاہدرہ کے رہائشی کسی حادثے کی صورت میں لاہور شہر تک پہنچتے پہنچتے جانوں سے بھی گزر جاتے تھے اب صحت کی سہولت ان کے دروازے پر موجود ہو گی۔ شاہدرہ لاہور کا حصہ ہے۔ لیکن شہریوں کو راوی پل کراس کرنے کی پاداش میں ٹول ٹیکس کے نام پر جرمانہ ادا کرنا پڑتا تھا۔ سکول سے بچوں کو لانے اورلے جانے کے لیے 60روپے ٹیکس روزانہ دینا پڑتا تھا۔ پل سگیاں پر ٹیکس کا خاتمہ ہو چکا تھا شہریوں کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ یہ ٹیکس شاہدرہ پل پر بھی ختم کیا جائے آصف ہاشمی کے مطالبے پر صدر نے شاہدرہ پل کا ٹیکس ختم کرکے بھی آصف ہاشمی کے حلقے کے لوگوں کے دل جیت لیے۔ ٹیکس کے خاتمے کے اعلان کے روز شاہدارہ میں جشن کا سماں تھا اور آصف ہاشمی ایک دولہے کی طرح اپنے عوام میں موجود راوی ٹول پلازہ پر بھنگڑا ڈالتے ہوئے بہت مسرور تھے۔
وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے صدر کے ساتھ خانیوال سے لاہور تک ڈبل ٹریک کا افتتاح کیاجس پر آصف ہاشمی نے صدر صاحب سے درخواست کی کہ اس ٹریک کو خانیوال لاہور کی بجائے خانیوال شاہدرہ تک کی منظوری دی جائے جس پر صدرِ مملکت نے آصف ہاشمی کی اس تجویز کو بھی منظور کیا اور اس کا اعلان بھی فرمایا۔ سیدآصف ہاشمی کی کامیابیوں پر پنجاب کے سیاسی پنڈتوں کا تجزیہ ہے کہ صدر کے دورئہ لاہور کا میلہ آصف ہاشمی نے لوٹ لیا ہے۔