جناب مجید نظامی کی صائب رائے

پروفیسر راشدہ قریشی ۔۔۔
کھری اور صاف ستھری صحافت کے درس کی عملی تصویر جناب مجید نظامی کا کہنا ہے کہ ہمیں کسی مرد مومن کی تلاش ہے جو ایسے اقتدار میں ہو کہ سپر پاور کی آشیرباد ختم کر دے۔ ہمیں ایک آزاد اور خود مختار ملک بننا ہے۔ ہمیں اپنی پالیسی نئے سرے سے وضع کرنی چاہئے۔ جنگ ہوتی ہے تو ہو ہم اپنی خود مختاری کا سودا نہیں ہونے دیں گے۔ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیاءشاہد صاحب سے کی گئی چینل 5 کی گفتگو میں جناب مجید نظامی صاحب نے قومی حکومتوں کے مقابلے میں منتخب سیاسی حکومتوں کے احیا کی اہمیت و ضرورت کو اجاگر کیا تاہم یہ بھی بتا دیا کہ فوج نے برسر اقتدار آ کر جب سیاست کی نرسری ختم کی تو ہمارے سیاستدان حکومت کی اصل ڈرائیو سے نابلد رہ گئے۔
اس میں شک نہیں کہ ادارہ نوائے وقت نے جناب مجید نظامی کی سرپرستی میں ملک میں جمہوری نظام کے پنپنے میں اہم کردار ادا کیا اور مارشل لاءو ڈکٹیٹر راج کے خلاف شدید مزاحمت پیش کی۔ قیام پاکستان کے داعی اخبار نوائے وقت نے گذشتہ 62 سال سے استحکام پاکستان کے لئے جو کردار ادا کر رکھا ہے وہ پاکستانی قوم پر ایک احسان ہے۔ کوئی تو ہے جو کٹھن اور تکلیف دہ مراحل کے باوجود کلمہ حق بلند کرنے کی کڑی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔ دشمن خواہ کتنا ہی بڑا پھنے خاں کیوں نہ ہو مجید نظامی ایک بے باک فوجی کی طرح جنگ سے نہیں ڈرتا اور ایک مدبر و اصلاح کوش سیاستدان کی طرح ملکی و قومی آزاد و خود مختار تشخص کے ہر آن نئے سرے سے احیاءکی امید ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ اس وقت اندرون ملک حالات یہ ہیں کہ وطن عزیز میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے ہماری قومی سلامتی اور معاشی استحکام کو زبردست خطرات نے گھیر لیا ہے۔ صدر اوباما کی نئی افغان پالیسی کے بعد نہ صرف پاکستان پر ڈرون حملے بڑھے ہیں بلکہ ان کی نقصان دہ شدت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کی آڑ میں امریکی پاکستان کے اندر داخل ہو چکے ہیں جس سے اب بلوچستان ہی نہیں بلکہ ملک کے تمام صوبوں میں سنگین صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ موجودہ صورتحال میں جناب مجید نظامی صاحب کی اپنی آزادی و خود مختاری کی فکر ہر محب وطن پاکستانی کی فکر کی عکاس ہے۔ مشرف نے امریکی فرنٹ لائن اتحادی ہونے کی جو بش وار ڈاکٹرائن کی مصیبت گلے لگائی ہے اس نے قومی سالمیت کو داﺅ پر لگایا ہی ہے دوسری جانب عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں اور امریکی امدادوں پر پلنے والی قوم کی خود مختاری کا پھر کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟ صرف آئی ایم ایف نے نومبر 2008ءکے بعد سے اب تک انتہائی تباہ کن شرائط پر پاکستان کے لئے 11300 ملین ڈالر کا قرضہ منظور کیا تھا بلکہ گذشتہ 50 برسوں کے دوران آئی ایم ایف نے پاکستان کو 362.50 ملین ڈالر کے قرضے دئیے ہیں۔ ان قرضوں کی ناروا شرائط سمیت ہمارے حکمران قرضوں کو بڑے فخزیہ انداز میں قبول کرکے ملک کو معاشی طور پر مستحکم کر دینے کا عندیہ دیتے رہتے ہیں حالانکہ یہی قرضے سلطانی¿ جمہور کے تدبر کے قاتل ہونے کے ساتھ ملکی خود مختاری کا سودا ہوتے ہیں جن کے تحت آج ہم امریکہ اور عالمی مالیاتی اداروں کے آگے گروی رکھ دئیے گئے ہیں۔ حقیقت میں یہ سب ہماری ناقص معاشی پالیسیوں کے سبب ہو رہا ہے اور یہ گذشتہ 62 سال سے ہو رہا ہے جبکہ دہشت گردی کی جنگ کا بوجھ تو محض 8 سال پرانا ہے اور ہمارے حکمران اپنی معاشی ناقص پالیسیوں کی کمزوری چھپانے کے لئے دہشت گردی کی جاری جنگ کو ملک میں معاشی انحطاط کا سبب گنواتے نہیں تھکتے۔ ہمارے لئے بھی اب سرزمین وطن کے قدرتی وسائل کی دولتوں کو گنوانا، صنعتی و زرعی و توانائی کی پیداواری دستیاب قوتوں کا احاطہ کرانا عبث معلوم ہو رہا ہے کہ ہمارے ارباب بست و کشاد انہیں کسی خاطر میں لانے کا مزاج ہی کھو گئے ہیں۔ (جاری ہے)