این آر او چھوڑیں! آرٹیکل 6- پکڑیں!

کالم نگار  |  خالد احمد

اہلِ فکر نے ایک مضمون باندھا مگر آغاز سے ہم آہنگ اختتامیہ ہاتھ نہ آ پایا تو اہلِ غور سے رجوع لائے.... ہی بنی! انہوں نے اہلِ فکر کی پوری بات پورے غور سے سنی اور پائپ منہ میں دبا کر جیب سے ماچس نکالی اور دیا سلائی جلا کر اہلِ فکر کے سیاہ کئے ہوئے کاغذات کی طرف بڑھا دی!۔
یہ کالم ا±سی تحریر کی راکھ سے ’ققنس‘ کی طرح برآمد ہوا اور اہلِ غور کے سر پر جا بیٹھا اور انہیں نہال کر گیا! بات صرف اتنی سی تھی کہ ’ڈے اینڈ نائٹ‘ میچ کے دوران ہوا میں نمی غیر معمولی حد تک بڑھ جانے کے باعث ’پچ‘ میں نمی سرایت کر جانے پر مدّمقابل ٹیمیں کرکٹ، چھوڑ کر ’والی بال‘ کھیلنا شروع نہیں کر دیتیں! کیونکہ ’پچ‘ کے ساتھ ساتھ پوری گرا¶نڈ میں بھی ’پھسلن‘ بڑھ جاتی ہے اور دونوں ٹیمیں یکساں مشکلات سے نبرد آزما ہوتی ہیں اور ’کھیل‘ جاری رہتا ہے!۔
کھیل جاری ہے! طرح طرح کی باتیں اور گھاتیں ایک ساتھ چل رہی ہیں! ہر کوئی ’نمبر‘ ٹانگنے کی د±ھن میں اس ’دھند‘ میں بھی ’اندھا دھند‘ بھاگا چلا جا رہا ہے! ایسے ماحول میں جبکہ سید منور حسن بھی با¶نسر پر با¶نسر پھینک رہے ہوں اور جناب عمران خان انہیں یہ بھی یاد کرانے پر آمادہ نہ ہوں کہ ون ڈے کرکٹ میں ’با¶نسر‘ ایک حد تک ہی پھینکے جاتے ہیں کوئی کسی اور سیاست دان سے کیا ا±مید لگا سکتا ہے! ایسے میں کسی معتبر آواز کے لئے کان ’اہلِ سیاست‘ سے ہٹ کر کوئی ’آواز‘ سن پائیں تو اسے ’فردوس گوش‘ کیوں نہ کہیں؟۔
نشانِ جمہوریت جناب مجید نظامی نے جناب ضیاءشاہد کے ایک سوال کے جواب میں ’پرامن پاکستان‘ کے لئے آمریت سے چھٹکارا لازم قرار دیتے ہوئے ڈنکے کی چوٹ پر کہا ’ جب تک ’سیاست دان‘ آمروں کا ساتھ دینے کی ’روایت‘ نہیں توڑتے اور’ہر قیمت پر‘ اقتدار کی ہوس نہیں چھوڑتے کچھ نہیں بننے کا! انہوں نے کہا ’جب تک تمام سیاست دان کسی بھی آمر کا ساتھ نہ دینے کا متفقہ فیصلہ اور پکا عہد نہیں کرتے آمریت کا ٹھوس سدّباب ممکن نہیں!
’نشانِ جمہوریت‘ جناب مجید نظامی نے ’بات تو سچ‘ کہی ہے مگر اہلِ سیاست کے لئے اِسے ’بات‘ ہے رسوائی کی‘ بنا ڈالا! کیونکہ سید منور حسن اور جناب شجاعت حسین کے ہوتے کسی بھی آمر کو کوئی دور کی کوڑی لانے کی کیا ضرورت ہو گی جبکہ جناب عمران خان بھی میدان میں موجود ہوں اور ’معافی تلافی‘ کے بعد پھر وہی با¶نسر پھینک سکتے ہوں، جسے سید منور حسن بار بار آزما رہے ہیں! ان اہلِ سیاست میں لیٹر پیڈ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ جناب شیخ رشید بھی ٹی وی ’فیکٹر‘ کے ہمارے ’پولیٹکل ایکٹرز‘ میں شمار ہونے لگے ہیں اور ’کرکٹ‘ کے پرانے کھلاڑی ہیں! اور ’غلط اپیلیں‘ کرنے کی بناءپر کئی بار ’میدان‘ سے باہر بھیجے جا چکے ہیں، کسی بھی قیمت پر دوبارہ ’اِن‘ ہونے کے لئے تیار بیٹھے ہوں تو اہلِ دین و اہلِ دل کیا کریں؟۔
ایک فقیر گلی سے گزرتے ہوئے آواز لگا رہا تھا! بابا ’چوری وی کھا لیندا! روٹی بھی کھا لیندا! ہریاں مرچاں بھی کھا لیندا! انڈا بھی کھا لیندا! بابا برگر وی کھا لیندا‘ تو ایک گھر کے اندر سے ایک مردانہ آواز آئی ’بابا! ت±وں کچھ نئیں وی کھاندا؟‘ اور فقیر نے بلند آواز میں کہا ’ بابا ! بس ملک نہیں کھاندا! باقی جو مل جائے کھا لیندا‘ اور اپنی ہانک ا±سی تال پر لگاتے لگاتے بابا آئس کریم وی کھا لیندا! پھل فروٹ وی کھا لیندا! چاٹ وی کھا لیندا!۔
ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ پوری قوم کو بیچ ڈالنے والا ’لندن‘ میں بیٹھا ہے اور ا±س کی حمایت میں بولنے والے ’اہلِ سیاست‘ آج بھی اپنے کئے پر شرمندہ نہیں! ایسے لوگوں کو بار بار میڈیا پر لایا جانا چاہئے اور ان سے ایسے ایسے سوالات کئے جانا چاہئیں کہ وہ خود قومی اسمبلی میں جناب پرویز مشرف کے خلاف قانون کو حرکت میں لانے کی قرارداد لانے پر مجبور ہو جائیں!۔
نشانِ جمہوریت نے چینل 5 - پر قوم کے سامنے اصل مسئلہ رکھ دیا ہے اب قوم اس سلسلے میں کیا کرتی ہے؟ یہ ’میڈیا‘ اور خاص طور پر ’برقیاتی ذرائع ابلاغ‘ کے اینکر پرسنز کی ذمہ داری بن گئی ہے کہ وہ ’مشرف بہ زرداری‘ ہو جائیں تاکہ زرداری صاحب ’این آر او‘ کی جگہ ’آرٹیکل 6-‘ کی طرف متوجہ ہو کر اپنا اور اپنی پارٹی کا مستقبل بچا سکیں! ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں!