ہمالیہ سے اونچی اور بحیرہ عرب سے گہری پاک چین دوستی … (آخری قسط)

کالم نگار  |  رانا عبدالباقی

31 مارچ 1966 میں صدر لیو شائو چی نے پاکستان کا دورہ کیا اور چینی حکومت و عوام کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر حکومت پاکستان کے جائز موقف اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی بھر پور حمایت کا اعادہ کیا جسے بین الاقوامی امور میں ذوالفقار علی بھٹو کی تاریخی کامیابی سے ہی تعبیر کیا جائیگا ۔ اِسی تناظر میں ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت میں شملہ معاہدے پر دستخط کرنے سے قبل صدر پاکستان کی حیثیت سے 31 جنوری سے 2 فروری 1972 تک چین کا یادگار دورہ کیا۔ اِس دورے میں چینی لیڈر شپ بشمول چیئرمین ماوزے تنگ ، وزیراعظم چو این لائی نے 1971 کی جنگ میں بھارت کی جانب سے مغربی پاکستان کے مقبوضہ علاقے خالی کرنے اور جنیوا کنونشن کیمطابق پاکستانی جنگی قیدیوں کو چھوڑنے کا پُرزور مطالبہ کیا ۔
اِسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ چینی وزیراعظم نے پاک چین مشترکہ اعلامیہ میں ایک مرتبہ پھر خاص طور پر کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کاغیر مشروط اعلان کیا:
\\\" The Prime Minister of China reiterated the Chainese Government and people\\\'s firm support to the Pakistan Government and people in their just struggle to preserve their state sovereignty and territorial integrity against outside aggression and interference and their support to the people of Jammu and Kashmir in the just strrugle for the right of self determination.\\\"
ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت کیساتھ شملہ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد بھی چینی لیڈروں سے خطے میں امن قائم رکھنے کیلئے گفت و شنید کا سلسلہ جاری رکھا اور 1976 میں وزیراعظم کی حیثیت سے 26 تا 30 مئی تک چین کا دورہ کیا اور چینی رہنمائوں کو باور کرایا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق کشمیریوں کے حق خور ارادیت کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر کا حل کیا جانا جس کو دونوں ملکوں نے تسلیم کیا تھا ،باقی رہ گیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے یہ واحد مسئلہ ہے جسے حل کرنا ضروری ہے ۔ مشترکہ اعلامیہ میں چینی وزیراعظم نے وضاحت سے کہا:
\\\"The Chinese Premier reitrated that the Chinese Government and people will, as always, firmly support the Pakistan people in safeguarding national independence , state soverenignty and territorial integrity. They also firmly support the struggle of the people of Jammu and Kashmir for attaining their right to self determination.\\\"
فی الحقیقت ، ذوالفقار علی بھٹو کو ایک بین الاقوامی سازش کے تحت پاکستان کے سیاسی منظر نامے سے ہٹائے جانے کے بعد بھی پاکستان چین تعلقات میں گرمجوشی کا عنصر قائم رہا اور بالخصوص محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی حکومتوں کے دور میں پاکستان چین تعلقات بدستور بہتری کی جانب گامزن رہے‘ چنانچہ خطے میں پاکستان کی قومی سلامتی کے تحفظ اور مسئلہ کشمیر کے باوقار حل کیلئے چین کی بے مثال حمایت کو کبھی بھی نہیں بھلایا جا سکے گا ۔ نائین الیون کے بعد خطے میں بھارت کی بالا دستی کی خواہشات کے پیش نظر بھی پاکستان کو اپنے قومی سلامتی ، وقار اور اقتدار اعلیٰ کے تحفظ کیلئے پاکستان چین تعلقات میں مزید بہتری لانے کے کسی موقع کو بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ یقینا چینی وزیراعظم وین جیا بائو کا موجودہ دورہ پاکستان چین دوستی کو عظیم سے عظیم تر بنانے میں ایک بار پھر سنگ میل ثابت ہوگا ۔