وکی لیکس۔ انکشاف یا سازش

بشریٰ زبیر تارڑ......
گذشتہ ماہ سے ہر طرف وکی لیکس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ہر ایک اپنے نقطۂ نظر اور قابلیت کے مطابق وکی لیکس کو سازش، انکشاف، سنسنی خیز حقائق قرار دے رہا ہے۔ حالانکہ اگر سنجیدگی سے سوچا اور دیکھا جائے تو یہ سب روزمرہ کے حالات و واقعات ہیں۔ یہ وہ تمام اطلاعات ہیں جو وقتاً فوقتاً ٹی وی چینلز اور اخبارات، ریڈیو کے ذریعے قارئین، سامعین اور ناظرین تک پہنچتی رہی ہیں۔ بہرحال امریکہ بہادر کو آغاز سے ہی یہ عادت ہے کہ کسی نہ کسی طرح دنیا کی توجہ حاصل کرنے کے لئے بچگانہ اور کافی حد تک احمقانہ حرکات کرتا ہے۔ سپر پاور ہونے کے زعم میں مبتلا اس ملک کے حکمران نجانے کتنی حماقتیں کریں گے۔ افغانستان میں بدترین شکست کے بعد اب کھسیاہٹ کا شاندار مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ سب سے زیادہ مضحکہ خیز بیان تو ہیلری کلنٹن کا ہے کہ وکی لیکس کی وجہ سے پاکستانی حکمرانوں کو ہونے والی شرمندگی پر انہیں افسوس ہے۔ یہ کیا بیان ہے؟ کیا پاکستانی عوام اپنے حکمرانوں کے کارناموں سے بے خبر ہے؟ یا پاکستانی سیاستدانوں کی اکثریت کی ڈھٹائی سے ناواقف ہے؟ جنہوں نے قومی حمیت کو دائو پر لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جنرل شجاع پاشا پر الزامات، شریف برادران کے بارے میں انکشافات، جسٹس افتخار محمد چودھری کو بلوچستان کا گورنر بنانے کی تجویز یہ سب اب ہی کیوں لیک آئوٹ کیا گیا۔ ان اطلاعات میں کتنی صداقت ہے واللہ اعلم۔ لیکن غور کریں تو سعودی عرب، ایران، پاکستان یعنی تمام امت مسلمہ کے اتحاد کو زک اور گزند پہنچانے کی بہت بڑی سازش ہے۔ میں تمام اسلامی ممالک کو یہی پیغام دوں گی کہ قرآن پاک کی اس آیت مبارکہ کو فراموش نہ کریں۔ ’’اے ایمان والو تفرقے میں ناں پڑو اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو‘‘۔ قرآن پاک کے پیغامات ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ مایوسی اور ظلم و جبر کا اندھیرا جو یہودیوں کی وجہ سے چہار سُو پھیلا ہوا ہے۔ اسے اسلامی فکر و عمل سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ پروردگار ہمارے ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو توفیق دے کر آپس اتحاد اور اسلامی اخوت کو زیادہ سے زیادہ اہمیت دیں۔