شعور کا ارتقا اور جدید گلوبل نظام

زندہ اور موجود ہونے کے احساس، ماحول سے شناسائی اور جذبات کی موجودگی کو شعور کہتے ہیں اس کے علاوہ انسانی دماغ کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جو انسان کی حالت نیند میںبھی کام کرتا رہتا ہے اور ہم مختلف خواب دیکھتے رہتے ہیںجن میں کچھ یاد رہتے ہیں کچھ بھول جاتے ہیں۔دماغ کے اس حصے کو لاشعور کہتے ہیں۔ قارئین مجھے یقین ہے کہ آپ کو پتہ ہی ہوگا کہ انسانی دماغ شعوری اور لاشعوری طورپر ہر وقت تخلیقی کام کرتا رہتا ہے۔ خواہ ہم سو رہے ہوں یا جاگ رہے ہوں اسکے علاوہ یہ conscious اور subconscious دماغ دونوں ایک دوسرے پر انحصار بھی کرتے ہیں دماغ کے ان دونوں حصوں کے آپس میں باہمی عمل سے ہی انسانی شناخت یا Human Identifyممکن ہوئی subconscious دن کے وقت بھی دل کی دھڑکن اور سانس کو اسی طرح چلاتا ہے جسے رات کو سوتے وقت اس عمل کو جاری رکھتا ہے لاکھوں سال پہلے تو انسان جنگلوں میں درختوں پر تھا اور ہاتھ بھی پائوں کے ساتھ چلنے کیلئے استعمال کرتا تھا پھر شعور اور لاشعور کے ارتقا نے اس کو دو پائوں پر چلنے کی ترغیب دی تو ہاتھ دوسرے کاموں کیلئے استعمال ہونے لگے اور انسان نے ہنر سیکھنے شروع کئے اس طرح انسان نے آہستہ آہستہ ارتقا کی منازل طے کیں پھر افراد نے اکٹھے ہوکر گروپ بنائے پھر جب انسان کے گرو پ اکٹھے ہوگئے تو culture نے جنم لیا اور بعد میں مختلف کلچرز کو ملا کر تہذیبیں (civilization) وجود میں آئیں بعد ازاں مذہب اپنا گئے اور پالیسیاں تشکیل پائیں تہذیبوں کے عروج اور زوال کایہ سلسلہ کئی ملین سالوں پر محیط ہے ساتھ ساتھ انسانی دماغ کا حجم بھی بڑھا اور مزید صلاحیتیں بھی اجاگر ہوئی جس سے مختلف نظاموںنے جنم لیا اور اب ہم اس موجودہ دور میں ہیں جس کو جدید گلوبل سسٹم کہا جاتا ہے ۔قارئین یہ مختصر سا خلاصہ اٹلی کے پاکستان میں تعینات موجودہ سفیر Vineenzo کی بہترین اور بہت ہی کشادہ سکوپ والی کتاب\\\"the system and human consciousness\\\" کا ہے جس کی نقاب کشائی اگلے دن اکیڈمی آف ادبیات اسلام آبادمیں ہوئی اس تقریب میں میرے علاوہ چودھری اعتزاز احسن اور محترمہ شیری رحمان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار بہت ہی شاندار الفاظ میں کیا۔
مصنف کی اس لاجواب تخلیق کی تعریف کے ساتھ ساتھ میں نے یہ بھی کہا کہ اس کتاب میں ایک آدھ جگہ پر استعمال کی گئی اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح ٹھیک نہیں چونکہ اسلام جیسے عظیم اور پُر امن مذہب کا دہشت گردی سے کوئی جوڑ نہیں۔ دوسرا میں نے عرض کیا کہ امریکہ عراق میں مسلم دنیا کو modernise کرنے کیلئے نہیں بلکہ تیل کی تلاش اور اسرائیل کی سیکورٹی کیلئے داخل ہوا تھا جس کا ذکر سابق صدر نکسن نے اپنی کتاب sleze the moment میں دو ٹوک الفاظ میں کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشرق وسطی میں امریکہ کے صرف دو مفادات ہیں یعنیOIL اور اسرائیل ساتھ ہی میں نے یہ بھی عرض کیا کہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطی کیلئے امریکہ کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر اب عسکری رنگ میں رنگی جاچکی ہے اور یہی Militerised خارجہ پالیسی امریکہ کی ناکامی کا باعث بن رہی ہے میں نے مصنف کی کتاب پر کی گئی ریسرچ کی تعریف کے ساتھ یہ بھی درخواست کی کہ موجودہ گلوبل سسٹم کا تجزیہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک اس کتاب میں ایک اور باب کا اضافہ نہ کیاجائے جس کا عنوان ہونا چاہئے مسلمانوں کیخلاف بین الاقوامی سطح کی نا انصافیاں جس کا اشارہ میں نے کشمیر ،فلسطین، افغانستان اور عراق کی طرف کیا اور ساتھ ہی میں نے پوچھا کہ کیا اپنے ملک کی آزادی کو بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ رکھنے کیلئے کی گئی جدوجہد کو دہشتگرد کہنا بجا ہے؟ کیا امریکہ کو برطانیہ کے چنگل سے نکالنے والے مزاحمت کو دہشتگردی کہاجاسکتا ہے اگر پتھروں سے لیس فلسطینی اورکشمیر ی بچے دہشت گرد ہیں تو پھر اُن پر خود کار ہتھیاروںسے حملہ کرنے والے اور اُن کی مائوں بہنوں کی عزتیں لوٹنے والے کیوں دہشت گرد نہیں۔ اوبامہ سمیت بہت بارے امریکی دانشور عراق پر حملے کو غلطی سمجھتے ہیں ٹونی بلیئر کو تو عدالتی کٹہرے میں بھی لایا گیا افغانستا ن پر حملے کا بھی کوئی قانونی جواز نہیں ۔چوہدری اعتزاز احسن اور محترمہ شیری رحمن نے خوبصورت انگریزی بولتے ہوئے کتاب پر چشم کشا تبصرے پیش کئے لیکن میں اس وقت حیران رہ گیا جب دونوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی militerised نہیں دونوں نے کہا کہ قصور وار ہم مسلمان ہی ہیں اور ہمیں اس مصنوعی خول سے نکل کر باہر کی دنیا کی بات کو سمجھنا چاہئے۔
چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ میں انڈیا FAME والا شخص نہیں پتہ نہیں شائد اُنکے ذہن میں وہ سکھوں والا الزام تھا) لیکن آپ دیکھ لیں چوہدری صاحب نے فرمایا کہ ہندوستان20کروڑ مسلمانوں سمیت اقلیتوں کا بھی خیال رکھ رہا ہے۔ ہم پاکستانی تو عیسائیوں کے پیچھے بھی پڑے ہوئے ہیں میں ان دونوں حضرات کا بہت احترام کرتا ہوں اور ان دونوں کی ذہانت اور اہلیت کا معترف بھی ہوں اور حیران ہوں کہ حکمران جماعت انکی اہلیت سے کیوں مستفید ہونے کو تیار نہیں۔ لیکن معذرت کیساتھ مسلم دنیا کے اندر قیادت کے فقدان اور بہت ساری خرابیوں کے باوجود میں فلسطینیوں پر اسرائیل کے مظالم، کشمیریوں پر ہندو افواج کے ظلم و ستم اور عراق اور افغانستان پر امریکی اتحادیوں کی یلغار اور لاکھوں بے گناہ جانوں کے ضیاع کواس لئے جائز قرار نہیں دے سکتا چونکہ مسلمانوں کی صفوں میں کچھ انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیمیں بھی ہیں ۔فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیل کا حملہ، وکی لیکس کے مطابق کشمیر میں نہتے مسلمانوں پر بد ترین تشدد، پاکستان کیخلاف ڈرون حملوں میں سینکڑوں بے گناہ جانوں کا ضیاع اور گوانتانا موبے میں انسانوں پر کتے چھوڑنے کے عمل کو ہمارے روشن خیال بھائی کیوں اسے ریاستی دہشت گردی کہنے کو تیار نہیں۔ اکیڈمی آف ادبیات جیسے پاکستان کے مایہ ناز ادارے میں بھی اگر ہم اپنی دیانتدارنہ سوچ اور intellecutal جزی ڈم کے ساتھ حق کو حق نہیں کہیں گے تو یہ ایک بد نصیبی ہوگی دوسرا میں یہ ماننے کو تیار نہیں کو اعتزاز جیسے منجھے ہوئے سیاستدان کو ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت زار کا پتہ نہ ہو اور ان کو اس کا ادراک نہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے محلے اور گائوں بھنگی کالونیاں سمجھی جاتی ہیں اسکے علاوہ روزگار اور تعلیم وغیرہ میں بھی مسلمانوں سے ناجائز سلوک روا رکھا جارہا ہے لیکن چونکہ چوہدری اعتزاز احسن صدرِ محفل بھی تھے اس لئے اُنکی تقریر کے بعد کچھ کہنا ادابِ محفل کیخلاف ہوتا لیکن چائے کے وقفے میں بہت سے قابلِ احترام ادیب اور سفراء مجھے کہتے رہے کہ جو نقاط آپ نے اٹھائے اُن کا کسی کے پاس جواب نہ تھا اور حیرانگی ہے کہ مذکورہ بالا دو مقررین نے اُن کی تائید کرنے یا چپ رہنے کی بجائے اُن سے اختلاف کیا۔
قارئین اشرف جہانگیر قاضی پاکستان کے ایک بہت مانے ہوئے سمجھے ہوئے اور لائن پیشہ ور سفر رہے ہیں اُن کو ہمارے ہندوستان اور امریکہ میں موجود دونوں سفارت خانوں کی سربراہی کا اعزاز حاصل ہے22دسمبر کی کے معاصر انگریزی اخبار میں اپنے ایک مضمون میں انہوں نے لکھا۔
’’ امریکہ کے عراق اور افغانستان پر حملوں کی وجہ سے اموات ہوئیں بڑے پیمانے پر لوگ اجڑ گئے، خوف پھیلا، حکومتی ادارے پاش پاش ہوگئے، ناقابل یقین کرپشن نے مفتوحہ مسلمان ممالک میں جنم لیا روزمرہ کی ضروریات اور ترسیل کا سلسلہ ٹوٹ گیا، جرائم بڑھے، انتہا پسندی دہشت گردی اور فرقہ واریت بڑھی، معاشروں کے اخلاقی، سیاسی، معاشی اور تعلیمی نظام کے دھاگے اکھڑ گئے اوبامہ کہتا ہے وہ ان ممالک میں نیشن بلڈنگ کرنے نہیں آیا حقیقت یہ ہے کہ وہ تو ان مسلمان ممالک کو تباہ کرنے آیا ہے… دراصل پاکستان کی پالیسیوں میں شائد بہت سقم ہونگے لیکن اس سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ AFPAK کے علاقہ میں امن کی راہ میں سب سے بڑا خطرہ امریکہ کی لانگ ٹرم پالیسیوں کی شارٹ سائیڈنس ہے ۔20دسمبر کی لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق امریکہ کا افغانستان میں سالانہ خرچ 100 ارب ڈالر ہے۔ پچھلے سال 317 امریکی مرے تو اس سال 500 سے زیادہ ہلاک ہوئے۔ 2014ء میں امریکہ جب افغانستان سے نکلے گا بھی تو 3500 فوجی افغانستان میں رہیں گے۔ 21 دسمبر کے برطانیہ کے فنانشل ٹائمز میں Max hastings نے ایک مضمون لکھا ہے جس کے مطابق مارچ2010میں امریکی فوج کے چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے یہ کہا تھا اور میں چاہونگا کہ میڈم شیری رحمن ان سطور کو غور سے پڑھیں:
\\\'\\\'Us foreign policy is still dominated by the military, too dependent upon the generals and admirals who lead our overseas commands\\\"
یعنی امریکہ کی خارجہ پالیسی پر فوج چھائی ہوئی ہے اور اس کو بنانے اور چلانے میں ہمارے بیرون ملک فوج کے جرنلوں اور بحریہ کے ایڈمرلوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے کالم نگار لکھتا ہے کہ افغانستان میں صرف800تو سی آئی اے کے آفیسرز ہیں جو الیکٹرانک سراغ رسائی تو شائد کرسکتے ہیں لیکن سیاسی سراغ رسائی ان کے بس کی بات نہیں، مغربی صحافی آگے جاکر یہ بھی لکھتا ہے کہ
\\\"Many thoughtful westners belive it is impossilbe to achive regional progress without defusing the kashmir confrontaton\\\"
یعنی بہت سارے مغربی دانشوروں کا اس بات پر یقین ہے کہ اس خطے میں اس وقت تک امن نہیں لایا جاسکتا جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہ کیاجائے قارئین کو یاد ہوگا کہ یہی بات صدر اوبامہ نے وائٹ ہائوس میں قید ہونے سے پہلے کہی تھی لیکن اس وقت وہ آزاد اوبامہ تھے اب اسیر اوبامہ ہے جو یہودیوں کے چنگل میں ہے آخر میں قلم کار نے لکھا:
’’ میں سپاہیوں کی عزت کرتا ہوں لیکن اس بات پر یقین نہیں کرتا کہ افغانستان کا مسئلہ صرف امریکی فوج حل کریگی احمقوں کی جنت میں رہنے کے متراف ہوگا‘‘
کاش کہ امریکہ جدید گلوبل نظام کی تشکیل میں شعوری ارتقا سے مستفید ہوتا افسوس کہ ایسا نہ ہوا۔