ساتھ بیٹھیں گے بھی ساتھ کھڑے بھی ہونگے

اسرار بخاری ....
حضرت علیؓ کا فرمان ہے ’’میں نے ارادے ٹوٹنے سے خدا کو پہنچانا‘‘ اس قولِ فیصل کے مظاہر انسانی زندگی میں قدم قدم پر بکھرے نظر آتے ہیں، اور بلاخوفِ تردید دنیا کا کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو ارادے باندھتا ہوں توڑ دیتا ہوں‘‘ کے ذاتی تجربہ سے نہ گزرا ہو یہ بھی ارادوں کا ہی اظہار ہے۔ میاں نوازشریف نے کہا ’’چودھری شجاعت کے ساتھ بیٹھنے کا وقت گزر گیا‘‘ جواب میں چودھری شجاعت نے کہا کہ ’’ وہ ہمارے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہتے ہم ان کے ساتھ کھڑا ہونا گوارہ نہیں کرتے‘‘ لیکن کیا یہ دونوں اپنے ان ارادوں پر قائم رہ سکیں گے؟ کیا ارادوں کو عملی شکل دینا انسانوں کے دائرہ اختیار میں ہے انسانی زندگی اس کی توثیق کرتی نظر نہیں آتی ہے انسان ارادوں کو عملی شکل دینے کے لئے صرف کوشش یا عزم ہی کر سکتا ہے لیکن اس جدوجہد یا کوشش کی کامیابی کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ کامیابی اور ناکامی دونوں کا انحصار مشیت ایزدی پر ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا میں ناممکن کا تصور تک نہ ہوتا یہ دعویٰ کرنے والا نپولین کہ ناممکن کا لفظ میری ڈکشنری میں نہیں ہے وائر لو کے مقام پر ’’ناممکن‘‘ کی حقیقت سے آشنا نہ ہوتا۔ میاں نوازشریف اور بے نظیر بھٹو نے بھی میثاق جمہوریت پر دستخط کرتے وقت کچھ ارادے بابندھے تھے جو بے نظیر کے لہو میں بہہ گئے مگر میاں نوازشریف حسرتِ ناتمام کی کیفیت کے ساتھ یکطرفہ طور پر خود کو ان ارادوں کی ڈور سے باندھے ہوئے ہیں۔ ایک لاحاصل مشق‘ میاں نوازشریف اور چودھری شجاعت نے اب یہ ارادوں کا ہی اظہار کیا ہے۔ ’’ایک ساتھ بیٹھیں گے نہ ایک ساتھ کھڑے ہوں گے‘‘ لیکن کیا یہ ان ارادوں پر قائم رہ سکیں گے؟ یہ سوال اس لئے پیدا ہوا کہ مستقبل پر نظر رکھنے والے دیکھ رہے ہیں۔ یہ ارادے ٹوٹنے والے ہیں یہ دونوں ایک ساتھ بیٹھیں گے بھی اور کھڑے بھی ہوں گے‘‘ یہ اس عاجز کا قیاس ہے نہ کسی دانشور کا تجزیہ اور نہ ہی کسی ستارہ شناس کی پیشن گوئی ہے بلکہ یہ ایک عظیم روحانی شخصیت کی زبان معجزہ بیان سے ادا ہونے والے الفاظ کا مفہوم ہے 90 سال کے لگ بھگ روحانی دنیا کا سفر کرنے والے یہ بزرگ تارک دنیا ہیں۔ ملاقاتوں کا سلسلہ بالکل منقطع کر چکے ہیں چند مخصوص افراد سے جذب سے بیداری کے عالم میں یہ بات اس وقت کہی تھی جب نہ میاں نوازشریف نے چودھری شجاعت کو اپنے گھر آنے سے منع کیا تھا نہ پیر پگاڑا کی جانب سے اتحاد کی کوششوں کا بے نتیجہ آغاز ہوا تھا نہ صدر زرداری کے حوالے سے نوازشریف کے لہجے میں مایوسی کا گہرا رنگ جھلکا تھا اور نہ نوازشریف اور چودھری شجاعت نے متذکرہ ارادوں کا اظہار کیا تھا عقیدت مند نے پریشانی کے عالم میں سوال کیا حضرت ملک کا کیا بنے گا بلا توقف جواب دیا۔ ’’اللہ خیر کرے گا ہاں بداعمالیوں کو بھگتنا ہو گا نواز اور شجاعت مل جائیں گے‘‘ یہ ان بزرگ پر اللہ تعالیٰ کا احسانِ عظیم ہے اللہ ان کے منہ سے وہی بات نکلواتا ہے جو پورا ہونا ہوتی ہے یہی اس عاجز کے یقین کی بنیاد ہے۔ میاں نوازشریف اور چودھری شجاعت چاہیں تو ان بزرگ ہستی کے بارے میں ’’بتایا جا سکتا ہے‘‘ ان کی بابت جان کر یہ دونوں کا یقین بھی اسی عاجز جیسا پختہ ہو جائے گا البتہ ملاقات کرانا اس ناچیز کے بس سے باہر ہے، کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ جناب مجید نظامی مسلم لیگیوں کے اتحاد کے لئے جو کوشش اور خواہش کر رہے ہیں یہ کہیں ان دیکھی قوت نے تو انہیں یہ فریضہ نہیں سونپا ہے یہ دنیا عالم اسباب ہے اور کوئی کام سبب کے بغیر نہیں ہوتا اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ جب ان دونوں رہنماؤں کا ملنا مقدر اور مستقبل ہے تو دونوں بہتر ہے ایک دوسرے کے لئے محتاط رویہ اختیار کریں آج وہ جو کچھ ایک دوسرے کے خلاف کہہ رہے ہیں ٹی وی چینلز ان کی فوٹیج تیار کر رہے ہیں جن کے ذریعہ کل انہیں بدمزہ کیا جا سکتا ہے بہتر ہو گا میاں نوازشریف مخصوص حصار سے باہر نکل کر (ن) لیگ کے کارکنوں کے ذہنوں کو پڑھنے کی کوشش بھی کریں جن میں یہ سوال کلبلا رہے ہیں کہ اگر بے نظیر کے ساتھ بیٹھا جا سکتا ہے اگر مشرف کے بعض ساتھیوں کوقبول کیا جا سکتا ہے اگر موجودہ حکمرانوں کی کرپشن کو بار بار بے نقاب کرنے کے باوجود ان کے اقتدار کی بقا کا ذریعہ بنا جا سکتا ہے اور اگر جناب زرداری کے ماضی کو نظرانداز کر کے صدارت کے لئے ووٹ دیئے جا سکتے ہیں تو بعض کے لئے دوہر امعیار کیوں ہے؟