دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو

نذیر احمد غازی (سابق جج ہائیکورٹ) ghaziadvocate1@gmail.com
پاکستان میں اس وقت اہم ترین مسئلہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ گذشتہ چند سالوں سے توہین رسالت کی مغربی مہم نے اب نئے انداز سے اپنی کارروائی کو بڑھاتے ہوئے پاکستانی دانش وروں کو بہت ہی گہری چال میں پھنسا لیا ہے۔ سازش کے اس پیچیدہ جال میں ہمارا میڈیا اور بہت سے دانشور اس بری طرح سے پھنس گئے ہیں کہ اب وہ مغربی طاغوت کا ذہن اور زبان استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری جانب مذہبی و سیاسی جماعتوں نے حسب سابق احتجاج اور روایتی اظہار بیان کا طریقہ اپنایا ہے۔ مغربی پریس اور مغرب کے زیر اثر ملکی میڈیا احتجاج کو محض جذباتیت قرار دیکر عام سادہ مسلمانوں کو بزعم خویش عقل کا راستہ اختیار کرنے کی تلقین کر رہا ہے۔
توہین رسالت کا مسئلہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نہایت دانشمندی اور ملی غیرت کے فکری توازن کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
بین الاقوامی سطح پر یہودی فکری قوت علمی سطح پر اپنے مذموم دل خراش عقائد کو اہل دانش کے ذہن میں اس مکاری سے منتقل کرتی ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی عقائد کیخلاف ایک منظم فکری طبقہ پیدا ہو جاتا ہے۔
عارضی احتجاج اور روایتی جذباتیت اگرچہ ایک مزاحمتی انداز ہے لیکن دشمن قوتیں جامع منصوبہ بندی سے کام کرتی ہیں۔ انکے داخلی اور خارجی محاذ اتنے مستحکم ہیں کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب رہتے ہیں‘ اسی لئے ایک مسلمہ عقیدہ اور مسلمہ فطری قانون کو متنازعہ بنانے میں انہیں زیادہ مشکل پیش نہیں آتی۔
قارئین! مسلمانوں کے بنیادی اور امتیازی عقائد میں جناب رسالت پناہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قلبی اور روحانی تعلق ایک اہم ترین عقیدہ ہے۔ قرآن کی نص قطعی ’’البنی اولیٰ بالمومنین من النفُسِھم کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو مومنین کی جانوں سے بھی قریب ترین ہیں‘ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی الفت و محبت اہل ایمان کی دلوں میں ہر وقت اور ہر جگہ موجود رہتی ہے۔ یہی الفت و محبت انکے ایمان کا جوہر اور امتیاز ہے۔ مسلمانوں کے کلمے میں بھی جو وجود انکی زندگی کو دستوری اور معاشرتی ہدایت کا سبق دیتا ہے‘ وہ حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقدس و بے عیب ذات ہے اس لئے مسلمان اپنی زندگی‘ قبر اور حشر میں بھی اس تعلق محبت سے بے نیاز نہیں رہ سکتے اور رسول کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غیر مشروط محبت اور لامحدود وفاداری انکے عقیدے کی بنیادی ضرورت ہے۔ قبر اور حشر کے مراحل تو تب پیش آتے ہیں جب بدن سے روح جدا ہوجائے اور بدن پر موت وارد ہو جائے۔ یعنی کوئی مسلمان اپنی جان سے گزر جائے۔ وہ جان سے گزر کر قبر اور حشر کے مراحل تک تو پہنچ جاتا ہے لیکن الفت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جان سے بھی قریب ترین تعلق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقیدہ ختم نہیں ہوتا۔
دیگر مذاہب کے پیروکاروں کا عقیدہ بھی اپنے انبیاؑء کے بارے میں اسی طرح کا ہے لہٰذا ایمان اور محبت کو زندگی پر فوقیت حاصل ہے۔ ایمان اور قلبی جذباتیت ایک فطری حقیقت ہے۔ ماں بچے کو بچانے کیلئے اپنی زندگی کی پروا نہیں کرتی۔ یہ جبلت ہے کہ کوئی جاندار اپنے بچے کی حفاظت کیلئے آمادہ بہ جنگ ہو جاتا ہے۔ امریکہ کا خیال ہے کہ 9\\\\11 کے حملوں میں نہ صرف اسکے شہریوں کی جانیں تلف ہوئی ہیں بلکہ اسکی ریاست کی توہین بھی ہوئی ہے‘ اس لئے اس نے گزشتہ کئی سالوں سے قاتل کی تلاش میں کئی ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ امریکہ کو شک تھا کہ عراق میں اس کیخلاف اسلحہ جمع کیا جا رہا ہے۔ اس نے محض شک کی بنیاد پر کئی لاکھ افراد کو قتل کر دیا ہے۔ اب مقام غور یہ ہے کہ امریکہ نے اپنی مادی زندگی اور مصنوعی ملی عزت و وقار کی خاطر انسانی جانوں کو جس طرح گاجر مولی سمجھ کر قتل کیا ہے کیا وہ اس فعل میں حق بجانب ہے۔ انکی دلیل یہی ہو گی کہ ہمارے شہریوں کی جان بہت قیمتی تھی اور اس سے بڑھ کر ہمارا ملی وقار برباد ہوا۔ امریکہ ایک خطہ زمین اور اسکے باشندے دنیا کی آبادی میں محض چند فیصد‘ جبکہ مسلمان تقریباً ڈیڑھ ارب ہیں اور دنیا کا ہر خطہ ان کا وطن ہے اس لحاظ سے انکے حقوق کا معاملہ بھی نہایت ہی اہم ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک انکے عقائد کو انکی مادی زندگی پر برتری اور ترجیح حاصل ہے‘ اس لئے انکے عقائد کا تحفظ انسانی حقوق کے اولین اور اہم دائرے میں آتا ہے۔ مسلمانوں نے ہر دور میں اپنے عقائد کا تحفظ آئینی اور قانونی ضابطوں کے تحت کیا ہے۔ یہ ایک طویل اور وقت طلب موضوع ہے لیکن جب لوگ ازخود آئین اور قانون کو مردہ سمجھ کر کھلی جارحیت پر اتر آئیں تو اہل دانش جواب دیں کہ فطرت کونسا راستہ فراہم کرتی ہے؟
جذباتیت اور عقل کا توازن بہرحال ایک محفوظ راستہ ہے۔ اس محفوظ راستے کو چھوڑ کر اگر کوئی فرد یا طبقہ اپنے لئے نئے راستے تلاش کرتا ہے تو یقیناً ایک فطری اور معاشرتی شدید ناہمواری جنم لے گی۔
ہم پاکستان کی ریاستی اور آئینی حیثیتوں سے بھی ذرا دیر کیلئے اگر صرف نظر کریں تو تب بھی انسانی حقوق کا مسئلہ کسی بھی بین الاقوامی پہلو سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی شخص اور معاشرے کی زندگی اور اسکی عزت نفس کا احترام اسکے داخلی اور مروجہ طریقوں سے کیا جانا نہایت ضروری ہے۔ ڈیڑھ ارب مسلمان کی زندگی اور عزت نفس جناب رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و حرمت سے وابستہ ہے۔ یہاں پر بین الاقوامی معاشرتی اخلاقیات کے تقاضے یہی تلقین کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے جذبات کا احترام نہایت ضروری ہے اور اگر کوئی فرد یا معاشرہ اس احترام کو پیش نظر نہیں رکھتا تو پھر معاشرتی بے چینی اور شدید بے چینی جو بالآخر تصادم کی طرف بڑھتی ہے۔ وہ کسی بھی سطح کی معاشرت کیلئے نقصان دہ ہے اسی لئے پاکستان میں اسی بنیادی فکر کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی ضابطہ 295 سی مرتب ہوا اس ضابطہ قانون میں کسی بھی اقلیت کی جان‘ مال‘ عزت اور عقیدہ قطعاً متاثر نہیں ہوتا‘ یہ ضابطہ معاشرے کو اعتدال کی راہ پر گامزن رکھتا ہے۔
1986ء میں یہ قانون بنایا گیا جو کوئی شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گستاخی کا مرتکب ہوتاہے۔ (چاہے وہ گستاخی بالواسطہ ہویا بلاواسطہ) اس شخص کو عمر قید یا موت کی سزا دی جائیگی۔ پھر 30 اکتوبر 1990ء کو وفاقی شرعی عدالت کے فل بنچ نے کئی مہینوں تک وکلاء اور ماہرین اسلامی قانون کو سننے کے بعد یہ فیصلہ دیا کہ گستاخ رسول کی سزا صرف موت ہے‘ اس لئے عمر قیدکے لفظ حذف کر دئیے جائیں۔ راقم بھی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی حیثیت سے عدالت کی معاونت کرتا رہا تھا۔
پھر اگلا مرحلہ یہ پیش آیا کہ 1994ء میں ایک مقدمے کے سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے بھی اس قانونی دفعہ کو جائز قرار دیا اور کہا کہ اس دفعہ کے الفاظ آئین پاکستان سے قطعاً متصادم نہیں ہیں۔ خاص طور پر جسٹس میاں نذیر اختر نے ایک نوٹ لکھا۔ جس میں انہوں نے یہ وضاحت کی کہ ’’اگر اس قانون کو ختم کر دیا جائے تو پھر توہین رسالت کے ملزمان کو لوگ موقع پر ہی کیفر کردار تک پہنچا دیں گے اور یہی طریقہ قدیم سے رائج ہے۔‘‘
قارئین کی سہولت اور اصل فیصلے تک رسائی کیلئے اصل عبارت دی جا رہی ہے۔
If the provisions of section 295c of the PPC are repealed or declared to be ultra vires to constitution, the time old method of doing away with the culprits at the spot would stand revived.\\\"
ہمارے اہل دانش اس ایمانی حقیقت کو کیوں پس پشت ڈالتے ہیں کہ مسلمانوں کی ایمانی حقیقت کا وجود حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی محبت سے وابستہ ہے۔
بقول ظفر علی خان مرحوم…؎
دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو
آج کل ٹی وی چینلز پر آنیوالے چند معترضین اس بات کو مسلسل دہرا رہے ہیں کہ 295 سی کے غلط استعمال کو روکنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عام سادہ ذہن پڑھے لکھے لوگ بھی ان کی اس غیر حقیقی بات کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ اپنے حلقوں میں اسکی تائید بھی کرتے ہیں اور افسوسناک پہلو تو یہ ہے کہ اپنے بہت سے دینی حلقے بھی اس خیانت بھرے جاہلانہ پروپیگنڈے کا شکار ہیں جبکہ قانون نے واضح طور پر تعزیرات پاکستان میں اس شعبہ اعتراض کا مکمل جواب دیا ہے اور پوری طرح سے تدارک کر دیا ہے اس سلسلے میں آپ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 194 کا ملاحظہ کریں جس کے مطابق اگر کوئی شخص کسی آدمی کو ایسے جھوٹے مقدمے میں ملوث کرے اور اس کیخلاف جھوٹی گواہی دے جس کی سزا عمر قید یا موت ہو تو ایسے شخص کو عمر قید کی سزا دی جائے گی۔ اسی شق میں یہ بات بھی موجود ہے کہ اگر کسی شخص پر سزائے موت نافذ ہو گئی اور وہ بے گناہ تھا تو قانون کے مطابق جھوٹی گواہی دینے والے شخص کو بھی سزائے موت دی جائیگی۔ قارئین! آپ خود فیصلہ کیجئے کہ عمر قید اور سزائے موت سے بڑھ کر کونسی سزا ہو گی جو اس سلسلے میں دی جا سکتی ہے لہٰذا یہ بات واضح ہو گئی کہ 295 سی کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے جو قانون موجود ہے وہ نہایت سخت اور کارگر ہے۔