تین سال بعد…؟

صحافی  |  عطاء الرحمن

بے نظیر بھٹو مرحومہ کے قتل کی تیسری برسی سے پانچ روز پہلے اس وقت کے سی پی او راولپنڈی سعود عزیز اور ان کے ماتحت ایس پی خرم شہزاد کی گرفتاری نے اس سنگین حادثے کے اصل ذمہ داران اور انہیں ابتک بے نقاب کرکے کیفر کردار تک پہنچانے کے بارے میں کئی سوال پیدا کردئیے ہیں۔ دونوں گرفتار شدہ سابق پولیس افسران پر الزام ہے انہوں نے شواہد مٹائے(جائے حادثہ کو فوراً دھلوا دیا) اور مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا… کیا اس سے قتل کے اصل مجرموں تک پہنچنے اور انہیں گرفتار کرکے سزا دینے میں مدد ملے گی۔ یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے… سعودعزیز کو کس نے حکم دیا کہ جائے حادثہ کو فوراً دھویا جائے اس جانب اقوام متحدہ کی رپورٹ میں تو واضح اشارہ موجود ہے۔ بلکہ خاص حد تک نشاندہی بھی کردی گئی ہے۔ لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ ’’ایف آئی اے‘‘ اور نیب کے دائرہ تحقیق کو نہائت درجہ با اثر لوگوں تک نہیں پھیلا جارہا ہے ایسا کیوں ہے اور کس مجبوری یا دبائوکے تحت کیا جارہا ہے۔اس کا جواب بھی محدودئے چند با خبر افراد اور صاحبان نظر کے سوا کسی کو معلوم نہیں… تو پھر یہ گرفتاری معاملے کو کہاں تک پہنچائے گی۔اس کا جواب بھی آنے والا وقت دے گا۔
پاکستان کے عوام خاص طور پر ملک کے ایک کونے سے دوسرے تک پھیلے ہوئے کارکنوں کے ذہنوں میں جو سوال مسلسل انگڑائیاں لے رہا ہے اور مناسب جواب نہ ملنے کی وجہ سے اضطراب میں اضافہ کر رہا ہے۔ وہ یہ ہے تین برس کا طویل عرصہ گزر چکا بے نظیر کے خاندانی وارثوں اور انکی جماعت کی حکومت ہے تمام اختیارات کے مالک ہیں۔ ابھی تک مرحوم کے قتل کی باقاعدہ ’’ ایف آئی آر‘‘ درج نہیں ہوئی۔ دو برس پہلے قتل کی پہلی سالگرہ پر ان کے مزار کے قریب منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقتولہ کے شوہر اورصدر پاکستان آصف علی زرداری نے ببانگ دہل اعلان کیا تھا وہ قاتلوں کوجانتے ہیں۔ انہیں نامزد کیوں نہیں کیا گیا۔ ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ دائر کرکے …تفتیش کی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ یہ سوال بھی گزشتہ تین برس سے زیر بحث ہے جب بے نظیر نے نعروں کا جواب دینے کیلئے گاڑی کی چھت سے سر باہر نکالا تو گولی بائیں جانب سے آئی لیکن ان کے سر پر زخم دائیں جانب تھا۔ یہاںضرب کیسے لگی کس نے
لگائی۔ جو امکاناً جان لیوا ثابت ہوئی۔ اس کا جواب مرحومہ کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرکے حاصل کیاجاسکتا تھا جو نہیں ہونے دیاگیا۔ کون ذمہ دار ہے۔ ایک الزام ناہید خان پر لگایاجارہا ہے جو بے نظیر کی قابل اعتماد معاون تھیں اورگاڑی میں ان کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ کہاجاتا ہے انہوں نے ایسا نہ کرنے کا کہا تھا۔ لیکن پوسٹ مارٹم نہ کرنے کا حکم تو آصف علی زرداری صاحب نے ہی دبئی سے واپسی سے فوراً بعد دیا تھا۔ دونوں گرفتار شدہ پولیس افسروں نے بھی اپنے بیانات میں کہا ہے زرداری صاحب کے حکم کی وجہ سے پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا۔حالانکہ یہ لازمی قانونی کارروائی تھی۔ جناب زرداری صدر پاکستان ہیں۔ انہیں وضاحت کیلئے اگر کسی عدالت نے طلب بھی کیا تو آئین کی دفعہ 248کے تحت استثناء کرالیں گے پھر حقیقی اور غیر جانبدار انہ تفتیش کیسے ہوگی۔ کون کریگا؟
دو مزید بنیادی سوالات پھی سر اٹھائے ہوئے ہیں اخبارات کے کالموں اور ٹی وی چینلوں پر زیر بحث ہیں۔ایک یہ کہ قتل کے حادثے کے وقت مرحومہ کی گاڑی کے عین پیچھے گاڑی میں جو سیکورٹی نظام کا باقاعدہ حصہ تھی سوار موجود وزیر داخلہ رحمن ملک اور موجود وزیر قانون بابراعوان اسی مرحلے پر گاڑی کا رخ موڑ کر فوراً زرداری ہائوس اسلام آباد کیوں چلے گئے۔ خون میں لت پت تڑپتی ہوئی اپنی قائد کو کیوں چھوڑ گئے۔ ایف آئی اے کا ادارہ جو اس وقت تفتیش کر رہا ہے رحمن ملک کے زیر ماتحت ہے۔ اس سے اس الزام کی غیر جانبدارانہ تحقیق کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔بے نظیر کی گاڑی کا پیچ کس نے کھولا گاڑی پر ان کے عین پیچھے کی نشست پر بیٹھے ہوئے ناہید خان کے شوہر سینیٹر صفدر عباسی کو اس کا علم نہیں موصوف کا خیال ہے یہ ہیچ بینظیر کے ذاتی محافظ خالد شہنشاہ یا ان کے خادم رزاق نے کھولا ہوگا۔خالد شہنشاہ کو بھی بے نظیر کے چند ماہ قبل ان کے گھر کے باہر نامعلوم افراد نے گولیوں کا نشانہ بنادیا۔ ان کے قاتلوں کو پکڑنے کی بھی سنجیدہ کوشش یا کارروائی نہیں کی گئی۔ تو پھر محض سعود عزیز اور خرم شہزاد جیسے ماتحت پولیس افسروں کو ٹیلیفون پر وقت کی’’ ہائر اتھارٹی‘‘ کا حکم مان کر جائے حادثہ کو دھودینے والوں کو گرفتار کرکے وہ بھی تین برس بعد اتنے بڑے قتل کا سراغ لگا یا جاسکتا ہے؟ کیا بہتر ہو اگر عوام کی منتخب پارلیمنٹ اس ضمن میں اپنا کردارادا کرے۔ اس کی ایک مشترکہ کمیٹی وجود میں لائی جائے جو سارے پہلوئوں کا جائزہ لیکر سپریم کورٹ کے پاس مقدمہ دائر کرائے۔عدالت عظمیٰ از خود نوٹس لیکر فل بنچ تشکیل دے جو اپنی نگرانی میں متعین وقت کے اندر قتل کی تفتیش کرائے۔بے نظیر مرحومہ کی تیسری برسی پر ان کی روح کو تسکین پہنچانے والا یہ سب سے ضروری اقدام ہوگا۔