تبدیلی کی ہوائیں!

جبار مفتی......
تغیر کو زمانے میں ایسا ثبات ملا ہے کہ تبدیلی کی ہوائیں تھمنے کا نام ہی نہیں لیتیں۔ مقام و مرتبہ سے لے کر نام و شہرت تک سبھی تغیر کی زد میں ہیں۔ اب جنوبی پنجاب کو ہی دیکھ لیجئے۔ کوئی اڑھائی تین سال قبل یوں لگتا تھا کہ قسمت کی دیوی اسی پر مہربان ہے۔ اقتدار و اختیار چل کر اس کی دہلیز پر آ گئے تھے۔ سربراہ حکومت سید یوسف رضا گیلانی‘ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی‘ وزیر حج و مذہبی امور صاحبزادہ سید حامد سعید کاظمی‘ وفاقی وزیر مملکت دفاعی پیداوار سردار عبدالقیوم جتوئی‘ وزیر مملکت مخدوم شہاب الدین‘ مشیر عامر کوریجہ‘ عبوری وزیراعلیٰ پنجاب (بعد میں وزیر بلدیات) سردار دوست محمد کھوسہ‘ سینئر مشیر سردار ذوالفقار کھوسہ‘ صوبائی وزیر اوقاف مذہبی امور حاجی احسان الدین قریشی‘ صوبائی وزیر خصوصی تعلیم اقبال چنڑ‘ مشیر زیب جعفر گجر‘ سبھی اسی خطے سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ اس کے علاوہ سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین بھی ملتان سے خصوصی تعلق رکھتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ملک بھر سے اہالیان جنوبی پنجاب کو مبارکباد کے خطوط‘ کالیں اور SMS موصول ہوتے تھے جن میں یہاں کے باسیوں کو خوش قسمت تصور کیا جاتا تھا۔ پھر حالات دھیرے دھیرے تبدیل ہوتے گئے۔ تغیر یہاں بھی رنگ دکھانے لگا۔ شہرت بدنامی میں ڈھلنے لگی۔ مقام و مرتبہ کو نظر لگ گئی۔ الزامات کے جن تیروں کا رخ ایوان زرداراں کی جانب ہوتا تھا وہ خانوادۂ گیلانیہ کی جانب چلنے لگے۔ اس میں غیروں کا کردار کم اور اپنوں کی مہربانیاں اور تیز رفتاریاں زیادہ کام دکھا رہی تھیں۔ اب رشک بھرے پیغامات میں طنز و استہزاء کا عنصر نمایاں ہونے لگا۔ خانوادہ گیلانیہ کو ملنے والا تاریخ کا
سب سے بڑا منصب ابھی ہضم نہیں ہو پایا تھا کہ سراپا احترام خانوادہ کاظمیہ کے ایک سپوت پر انگلیاں اٹھنے لگیں۔ حج کے موقع پر سرکاری عازمین کو ہمیشہ ہی شکایات ہوتی ہیں مگر اس بار میڈیا آزاد اور جمہوریت رواں تھی۔ پھر جُبّہ و دستار سے الرجک عناصر کو الزام سے دشنام تک کا موقع مل گیا۔ اس پر مستزاد (بقول خود حضرت حامد کاظمی) ناتجربہ کاری نے ایسا رنگ جمایا کہ دسیوں اشنان بھی شاید اسے نہ اتار سکیں۔ ابھی تک لوگ اس پر حیران ہیں کہ جب مقتدر اعلیٰ نے ڈٹے رہو کا مربّیانہ مشورہ دیا تھا تو پھر مرنجاں مرنج اور فدویانہ شہرت کے حامل ’’مرشد پاک‘‘ کو کیا سوجھی کہ ہرچہ بادا باد کہتے ہوئے ایک نہیں دو دو تین تین بیلوں کو دعوت تصادم دے دی۔ اصل مسئلہ سید حامد سعید کاظمی نہیں سید یوسف رضا گیلانی کا ہے۔ ان کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کے انتہاپسند پالیسی ساز دھڑے
کے ’’معیار‘‘ پر پورا نہیں اتر رہے۔ وہ سیاسی میدان میں دمادم مست قلندر کی بجائے ٹھنڈا ٹھنڈا کر کے کھا رہے ہیں۔ اب ان کے ایک ایک ساتھی کو گندا کر کے نکالا جا رہا ہے۔ ان میں سیکرٹری مذہبی امور قزلباش ہوں‘ این آئی سی کے ایاز نیازی ہوں‘ خواجہ عدنان ہوں‘ ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل ہوں (ابھی نجانے اور کتنے ہوں گے) سبھی کے تانے بانے وڈے ملتانی مخدوم سے ملائے جا رہے ہیں۔ جب سب فرد ہائے جرم تیار ہو جائیں گی تو جس ’’ان ہاؤس تبدیلی‘‘ کو خارج از امکان قرار دیا جا رہا ہے‘ اس کا بگل بجا دیا جائے گا۔ اس وقت سب نکے وڈے مخدوموں کو اپنی اپنی صفائی کی پڑی ہو گی اور اقتدار کا سنگھاسن ڈول جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد بھی قرعہ فال (عبوری طور پر ہی سہی) کسی صاف ستھرے (مسٹر کلین) ملتانی مخدوم کا ہی نکل آئے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ گزشتہ سال بھر سے الزامات کی کالک جتنے لوگوں پر لگائی گئی ہے ان میں سے بیشتر کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ کیا یہ سب مرشد پاک کے نادان دوست ثابت ہوئے ہیں یا صف دشمناں کے چالاک آلہ کار۔ اس کا فیصلہ خود مرشد پاک کو ہی کرنا ہے۔ یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ ایوان صدر گزشتہ کئی ماہ سے کرپشن کے منظر سے غائب ہے۔ وہ گھر جہاں سے کرپشن کی ہر داستان کا آغاز ہوتا تھا وہ اب ایوان عافیت بن چکا ہے۔ اس تغیر میں قسمت کا دخل بھلے نہ ہو عیار تھنک ٹینکس کا ضرور ہے۔ جن کا تعاون ملتانی مخدوم کو حاصل نہیں ہے۔ خدا خیر کرے۔