امینِ علم لدّنی حضرت محمد یوسف علی نگینہ ؒ

علامہ منیر احمد یوسفی.......
پیر طریقت حاجی محمد یوسف علی نگینہ صاحب علیہ الرحمہ اپنی نعتیہ شاعری اور نعت گوئی میں با کمال شخصیت تھے۔
کملی والے حبیبِ خدا ہیں اُن کا کوئی بھی ثانی نہیں ہے
وہ تو کیا اُن میں جو بھی فنا ہے واللہ زندہ ہے فانی نہیں ہے
جگہ جگہ محافل اور جلسوں کا انعقاد ہوتا جہاں ملک کے گوشے گوشے سے نامور علماء کرام تشریف لاکر اپنے مواعظ حسنہ سے حقانیت لوگوں پر واضح کرتے اور باطل کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کرتے ۔ہر طرف رضاؔ کی دھوم اور چرچا ہوتا۔ اِن اسٹیجوں پر خوش الحان بھی چہچہاتے ۔لیکن جس جلسہ میںحضرت حاجی محمد یوسف علی صاحب نگینہ رحمہ اﷲ تعالیٰ نعت پڑھتے تو وہ بھر ا مجمع لوٹ لیتے۔جلسہ کے حسن میں نکھار آجاتا کیونکہ اُن کے نعت پڑھنے میں جذب وحال کی چاشنی سے لطف دوبالا ہوجاتا مولانا قاضی محمد مظفر اقبال رضوی مدظلہ العالیٰ فرماتے ہیں: ایک دن یہ خبر گرم ہوئی کہ شاہی مسجد میں پیر طریقت حضرت حاجی محمد یوسف علی نگینہ صاحب (رحمہ اﷲ تعالیٰ)آرہے ہیں شوقِ دید دامن گیر ہوا۔ جلسہ گاہ میں حاضری کے بعد متلاشی نگاہیں اسٹیج پر جمی ہوئی تھیں کہ اچانک ایک دوست نے بتایا کہ وہ ہیں نگینہ صاحب(رحمہ اﷲ تعالیٰ)‘اُن کا سراپا دیکھتے ہی دید شنید سے بغل گیر ہوگئی ‘بمصداق طابق النعل جیسا سنا تھا ویسا ہی پایا ہے۔ سرخ چہرے پر حسین داڑھی کا ہار ‘چمکدار آنکھیں ‘ معصوم سی مسکراہٹ‘ گندمی رنگ کھدر کے لباس میں ملبوس ‘ گلے میں ایک چھوٹا سا بیگ آویزاں ‘یہ سادگی ہی اُن کا حسن تھا ۔ جلسہ میں جب آپ کے نعت پڑھنے کا اعلان ہوا،تو میں ہمہ تن گوش ہوگیا‘ سکوت کی چادر تن گئی ۔پیر طریقت حضرت حاجی محمد یوسف علی نگینہ (رحمہ اﷲ تعالیٰ) نے اﷲ تعالیٰ کی حمد وثناء اور اُس کے پیارے محبوب ﷺ کی بارگاہ میں صلوٰۃ وسلام کا نذرانہ پیش کرنے کے بعد اپنے بیگ سے کتاب نکالی ‘یہ کتاب ’’شفاشریف‘‘ تھی۔اُس سے ایک عبارت سنائی اور پھر اپنی ترنم ریز اورمسحور کن آواز میں اشعار کے نگینے جابجا جڑنے شروع کردیے ۔وجد وجذب کی حسین محفل کا ایک سماں بندھ گیا ‘ ہر طرف سے واہ واہ اور سبحان اﷲ کی صدائیں بلند ہونے لگیں ‘محدث اعظم پاکستان بھی محظوظ ہو کر دادِ تحسین دینے لگے۔
آ پ جب جلسہ عام میں تقریر کرتے تو سامعین پر وجد طاری ہوجاتا ۔ آپ کا عرس مبارک ہر سال 26دسمبر کو آپ کے مزار واقع آستانہ عالیہ پیلے گوجراں شریف چک 176گ۔ب۔ تحصیل سمندری ضلع فیصل آباد میں منایا جاتا ہے۔