امریکہ کی ’’تکہ سفارت کاری‘‘

کیمرون منڑ (امریکی سفیر) ........
حال ہی میں میری اہلیہ میریلین اور میں نے اور‘ جیسا کہ میڈیا نے بھی ذکر کیا‘ ہم ایک دیسی ریستوران بھی گئے اور وہاں روایتی کھانوں سے لطف اندوز ہوئے جن کیلئے لاہور بجا طور پر شہرت رکھتا ہے۔ ہم نے کھلی فضا میں بیٹھ کر حلوہ پوری‘ چنے‘ نان اور لسی سے ناشتہ کیا۔ کیلیفورنیا‘ جہاں میں نے پرورش پائی ہے‘ کے پکوانوں کی طرح پنجابی کھانے مصالحہ دار اور لذیذ ہوتے ہیں۔ بعد ازاں ہمارے ناشتے کو ایک قومی اخبار نے اپنے اداریے میں ’’تکہ ڈپلومیسی‘‘ کا نام دیا۔ میں نے اس کے متعلق ایسا نہیں سوچا تھا‘ تاہم اس اصطلاح کی داد دینی چاہئے۔ میں اس کی وجہ بتاتا ہوں۔ ہم پاکستان میں صرف بطور سفارت کار کام نہیں کرتے‘ ہم یہاں زندگی بھی گزارتے ہیں۔ ہم پاکستان کے کھانوں‘ موسیقی اور خوبصورت قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو کر اور شاندار آرٹ اور کلچر کے مشاہدے کے ذریعے یہاں کی زندگی کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم پاکستانیوں سے محض سفارتکار کے طور پر نہیں بلکہ عام انسانوں کی طرح تعلق پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اس بنا پر میں اور میریلین ان پاکستانیوں کے انتہائی مشکور ہیں جنہوں نے بالخصوص عید کے موقع پر اپنے گھر اور اپنے دلوں کے دروازے ہمارے لئے کھول دیئے۔ جب ہمیں احساس ہوا کہ ہمارا خیرمقدم محض مہمانوں کے طور پر نہیں بلکہ افراد خانہ کی حیثیت سے کیا جا رہا ہے۔اس قسم کے ذاتی روابط واقعتاً اہمیت رکھتے ہیں۔ ہمیں پاکستانیوں کے ساتھ امریکیوں کے براہ راست رابطوں کو توسیع دینے کی ضرورت ہے، پاکستان میں بھی اور امریکہ میں بھی۔ میں امریکی سینیٹر ولیم فکبرائیٹ کی دور اندیشی کو یاد کرتا ہوں جنہوں نے تعلیمی تبادلے کا وہ شاندار پروگرام شروع کیا جو ان کے نام سے موسوم ہے۔ ’’اقوام کو انسانوں کے روپ میں ڈھالنے کیلئے‘‘ ہمیں اس طرح کے ذاتی رابطوں کی ضرورت ہے۔ہم بہت سی مختلف سطحوں پر ’’تکہ سفارت کاری‘‘ کے ذریعے اس تصور پر عمل کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ مجھے یہ کہتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان میں ہمارے ثقافتی اور تعلیمی پروگرام دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں ہمارے پروگراموں سے کہیں بڑے ہیں۔ ہم ہر سال معاشرے کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے ہزاروں پاکستانیوں اور امریکیوں کے دوطرفہ دوروں اور تبادلوں کا اہتمام کرتے ہیں‘ کم آمدنی والے گھرانوں کے ہزاروں بچوں کو انگریزی زبان کی تعلیم دیتے ہیں اور دونوں ملکوں میں ثقافتی پروگراموں کیلئے امداد فراہم کرتے ہیں۔ ہم پاکستان کے شاندار تاریخی ورثے کا اعتراف اور احترام کرتے ہوئے آثار قدیمہ کی تحقیق میں بھی مدد دے رہے ہیں‘ کانفرنسوں کا اہتمام بھی کرتے ہیں جہاں پاکستانی اور امریکی ماہرین کو ایک جگہ مل بیٹھنے کا موقع ملتا ہے اور ہم اُچ شریف میں حضرت جلال الدین سرخپوش بخاری کے مزار کی بحالی اور پاکستان میں دیگر چھ مزاروں کو محفوظ بنانے کیلئے بھی مدد دے رہے ہیں۔
امریکی عوام ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کیلئے پُرعزم ہیں‘ چاہے وہ ملتان میں ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کے ذریعے زچہ و بچہ کو صحت کی بہتر سہولتیں فراہم کرنا ہو‘ کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں غیر مراعات یافتہ لڑکوں اور لڑکیوں کو انگریزی زبان کی تعلیم و تربیت دینا ہو یا سندھ میں ملازمت کے متلاشی افراد کیلئے بہتر روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہو۔
اب جبکہ ہم حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے‘ ہماری سفارت کاری کا بنیادی مقصد ہمارے دونوں ملکوں کے لوگوں کے درمیان عوامی سطح پر موجود اٹوٹ تعلقات کو توسیع دینا اور انہیں مضبوط بنانا ہے۔ لہٰذا ہم ’’تکہ سفارتکار‘‘ بننے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ میرا پختہ یقین ہے کہ ہم دونوں ملکوں کے عوام اور ثقافتوں کو ایک دوسرے سے بہتر انداز میں روشناس کروا کے اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہم حقیقی اشتراک کاروں کے طور پر آگے بڑھیں۔