ڈینگی ختم کرنے کےلئے شہباز شریف کا جنون

کالم نگار  |  عبدالباسط

کوئی اور مانے یا نہ مانے لیکن میں بہت شدت سے مانتا ہوں کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف عام انسان نہیں بلکہ جنونی ہیں اور جس کام کا بیڑہ اٹھالیتے ہیں اُسے پایہ تکمیل تک پہنچاکر ہی دم لیتے ہیں خواہ چیلنج کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو؟ اس کے لیے میں درجنوں مثالیں دے سکتا ہوں لیکن یہاں بات کروں گا صرف ڈینگی کی۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ 1995ءمیں ڈینگی نمودار ہوا اور اِکا دکا کیسز سامنے آتے رہے لیکن دو سال قبل اِس نے پوری طاقت کے ساتھ بالخصوص لاہور پر حملہ کردیا ، غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو سال قبل کم و بیش پندرہ سو افراد کو موت کی نیند سلا دیا اور ہزاروں کو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رکھا ۔ڈینگی کے مہلک مرض میں مبتلا معصوم بچوں، نوجوانوں، بزرگوں اور خواتین کو خون کی اُلٹیاں کرتے دیکھنا، دھیرے دھیرے قریب آتی موت کا سامنا کرتے ہوئے دیکھنا صرف اُن کے عزیز و اقارب کے لیے ہی نہیں بلکہ ہر ذی حس پاکستانی کے لیے شدید اذیت کا باعث تھا، ہر کوئی خوف کا شکار تھا کہ کیا پتہ کب یہ موذی مرض اُسے آن جکڑے ۔ دوسری طرف عالمی ماہرین پاکستان میں ڈینگی کی شدت دیکھ کر حیران و پریشان تھے اور مستقبل میں اُس کی شدت میں مزید اضافے کا پیشگوئی بھی کررہے تھے۔ ایسے میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے میدان عمل میں آکر جو کردار ادا کیا ، میرے خیال میں تاریخ اُسے ہمیشہ بہت اچھے الفاظ میں یاد رکھے گی۔ انہوں نے ڈینگی کے خلاف لڑنے کے لیے تمام مشینری کو فعال تو کیا ہی لیکن خود بھی محفوظ اور آرام دہ دفتر میں بیٹھنے کے بجائے سڑکوں پر نکل آئے ۔ عوام نے جب شہباز شریف کو خود ٹائر شاپس، گرین بیلٹس، باغوں، قبرستانوں یہاں تک کہ گندے پانی میں ڈینگی لاروا تلاش کرتے دیکھا تو اُن کے حوصلے بھی بلند ہوگئے ۔ میاں صاحب کی کوششیں صرف ڈینگی مچھر اور لاروا کو تلف کرنے تک محدود نہیں تھیں بلکہ انہوں نے ذاتی طور پر ہسپتالوں اور دوائیں بنانے والی کمپنیوں کی مانیٹرنگ کی جس کے نتیجے میں سرکاری سطح پر عوام کو جدید علاج و معالجہ کی سہولیات ملیں اور دواﺅں کی قیمت کنٹرول میں رہنا تو دور کی بات پہلے کی نسبت بھی کم ہوگئیں۔ شاید ہی کوئی گلی کوچہ ایسا ہو جہاں متعلقہ اہلکاروں نے مچھر مار ادویات کا سپرے نہ کیا ہو۔ شہباز شریف کی انتھک کاوشوں کے نتائج دیکھ کر وہی ماہرین بہت حیران ہوگئے جو پہلے اس مہلک وائرس کی تباہ کاریوں کو دیکھ کر شدید پریشان تھے۔ اگرچہ اس سال بھی شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ڈینگی کی وباءنے سر اٹھایا ہے لیکن پچھلے دو سالوں کی نسبت اس کی شدت آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیںاور ابھی تک شاید چالیس کے آس پاس کیس سامنے آئے ہیں جبکہ بفضل ِ باری تعالیٰ ایک بھی جان نہیں گئی لیکن اس پر ہمیں مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بڑی خوشی اور اطمینان کی بات ہے کہ اپنے کارناموں پر مطمئن ہوکر بیٹھنے کے بجائے آج بھی میاں شہباز شریف روز اوّل کی طرح ڈینگی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں اور انتہائی سخت اقدامات اٹھارہے ہیں۔ قوی امید ہے کہ اگلے سال انشاءاللہ ڈینگی کا نام و نشان تک مٹ جائے گا لہٰذا فیکٹریوں کا جائزہ لینے کے لیے جو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں انہیں فیکٹری سیل کرنے کے اختیارات نہ دئیے جائیں بلکہ وہ فیکٹری مالکان کو صرف ہدایت کریں نہ کہ اُن کا کاروبار بند کرکے مزدوروں کو بے روزگار کرتے جائیں۔ دو سال کی قلیل مدت میں ڈینگی کا 95%تک خاتمہ کردینا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے کیونکہ آج بھی ہر سال دنیا بھر میں مجموعی طور پر پانچ کروڑ افراد ڈینگی وائرس کا شکار ہوجاتے ہیںجبکہ برازیل اور سری لنکا جیسے ممالک کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود اس پر قابو پانہیں پاسکے۔ تمام طبقات ہائے فکر بالخصوص سیاستدان تنقید کرنے کے بجائے میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف سے تعاون کریں کیونکہ ایک طرف تو ملک بھر میں بدترین بارشوں اور ہولناک سیلاب نے کہرام مچا رکھا ہے اور دوسری طرف پنجاب میں ڈینگی کی وباءکا سامنا ہے ۔ ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے کے لیے ساری عمر پڑی ہے لیکن اگر میاں محمد نواز شریف، میاں شہباز شریف یا کوئی اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے سرگرمِ عمل ہے تو اُس کی بھرپور معاونت کرنا ملک و قوم کی خدمت کرنے کے مترادف ہے۔