میں نے پاکستان بنتے دیکھا

(میجر ایم اے واحد تمغہ امتیاز نشاط کالونی لاہور کینٹ 0302-8401312)
ہم لوگ یہ نعرے لگاتے تھے۔ لے کے رہیں گے پاکستان۔ بن کے رہے گا پاکستان۔ دینا پڑے گا پاکستان۔ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ۔ انہی دنوں ایک خبر شاید زمیندار یا نوائے وقت میں چھپی کہ امرتسر کے محلہ شریف پورہ میں ٹرین کو روک کر قتل عام کیا گیا حالانکہ ٹرین تقریباً خالی تھی۔ پاکستان بن گیا ہمارے علاقے پاکستان میں شامل نہ تھے اور عید کے دن حالات کچھ اس طرح کے ہو گئے۔ ہندوﺅں، سکھوں اور پولیس فوج نے مہان سنگھ گیٹ کی طرف سے محلہ پر حملہ آور ہونے کے لئے سیدھا محلہ شریف پورہ کی طرف جلوس کی شکل میں مارچ شروع کر دیا۔ ہمارا محلہ شریف پورہ جی ٹی روڈ اور ریلوے لائن جو کہ دلی کی طرف جاتی تھی واقع تھا۔ ہمارے محلہ کے باہر بہت بڑا خراد تھا۔ ایک پرانے فوجی کی مدد سے ایک توپ بنائی گئی جو کہ ایک لے کا پول تھا اس میں بارود بھر دیا گیا اور بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ اب یہ توپ چلا دی جائے۔ توپ کے چلنے کی وجہ سے جلوس منتشر ہو گیا اور 28 اگست 47ءتک محلہ شریف پورہ پر کوئی حملہ وغیرہ نہ ہوا اور ہم لوگ 26 اگست 47ءکو پاکستان لاہور کینٹ آ گئے۔ پاکستان کی گورنمنٹ مہاجر ٹرین کا بندوبست کیا جو محلہ شریف پورہ کے باہر کھڑی ہو جاتی اور اس میں لوگ سوار ہو کر پاکستان آ جاتے۔ یہ سلسلہ 28 اگست 47ءتک جاری رہا اور مہاجرین کی ٹرینوں کو مختلف اطراف میں بھیج دیا گیا اور یہ سب کچھ ممتاز دولتانہ نے کیا جو کہ نواب افتخار ممدوٹ کے خلاف تھا۔ اس کو شاید فکر تھا کہ نواب ممدوٹ پنجاب میں حاوی نہ ہو جائے اور اس غلط فیصلہ کی وجہ جو اے کلاس سٹی تھے ان کو مختلف جگہوں کی طرف بھیج دیا۔ پنجاب (لاہور) میں بی اور سی کلاس شہروں کو آباد کیا جو کہ بارانی علاقوں سے آئے تھے ان کو نہری علاقوں میں آباد کیا گیا جن کو پاکستان بننے کا بہت فائدہ ہوا۔ ان حالات سے لاہوریوں نے بہت فائدہ اٹھایا اور ہندوﺅں سکھوں کی جائیداد جن کو وہ جانتے تھے قبضہ کر لیا اور مہاجرین کی حق تلفی ہوئی۔