سیلاب کی تباہ کاریاں شیر شاہ سوری کی یاد اور کالاباغ ڈیم

کالم نگار  |  مظہر علی خان لاشاری

ہمارے ملک میں ہر سال اگست اور ستمبر کے کچھ دنوں تک سیلاب کی تباہ کاریاں عروج پر ہوتی ہیں۔ سیلاب کے سیزن میں ہر سال جہاں پر ہزاروں لوگ بے گھر ہوتے ہیں تو وہاں پر سینکڑوں لوگ اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یہ سلسلہ آج تک پہلے کی طرح جاری و ساری ہے۔ ہر سال سیلاب کے انتظامات کی صورت میں اربوں روپے پانی کی طرح بہہ جاتے ہیں لیکن پھر آئندہ سال وہی سیلاب اور اس کی تباہ کاریاں شروع ہو جاتی ہیں یقیناً سیلاب قدرت کی طرف سے ایک آفات کا نام ہے۔ کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ یہ سیلاب ہر سال زیادہ سے زیادہ تباہی کیوں پیدا کر رہے ہیں۔ یہ یقیناً ہمارے اعمال بد کا نتیجہ ہے جو ہمیں مل رہا ہے ہم کرپشن میں تو کب سے بہت آگے نکل چکے ہیں لیکن افسوس کہ اب دوسری برائیاں بھی بڑی تیزی کے ساتھ ہمارے اندر شامل ہو رہی ہیں لالچ اور خود غرضی نے تو ہمیں تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ حضرت علیؓ نے شاید اس لئے فرمایا تھا کہ خود غرض انسان کبھی بھی اچھا دوست نہیں بن سکتا بالکل صحیح ہے اس طرح خود غرض ہمسایہ بھی کبھی اچھا ہمسایہ نہیں بن سکتا گزشتہ دنوں جب ہمارے گاﺅں میں سیلاب آنے کا اعلان ہوا تو یہ منظر دیکھنے کے قابل تھا کہ خود غرض انسان ٹریکٹر ٹرالیوں پر اپنا اپنا سامان لوڈ کرکے بستی سے نکلنے میں سب سے آگے تھے۔ غریب رشتہ دار اور غریب ہمسائے جن کے پاس گدھا ریڑھی تک نہیں ہے وہ کہاں جائیں یہ کسی نے بھی نہ دیکھا بس زمینداروں کو اپنی فکر لاحق تھی اور غریب منتیں کرتے کرتے تھک گئے یہ تو قدرت کا کرم ہوا کہ سیلاب نے دوسری طرف رخ کر لیا اور یوں ہمارا گاﺅں سیلابی پانی کی زد سے بچ گیا لیکن چند لمحوں میں خود غرض لوگ مزید کھل کر سامنے آ گئے اسی طرح لالچ میں بھی ہم اب کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ دوسروں کے مال ہڑپ کرنا نہ صرف اپنا حق سمجھتے ہیں بلکہ اپنی نئی نسلوں کو بھی یہی ترغیب دے رہے ہیں اس طرح کی کئی اور برائیاں ہیں جو ہمارے اندر بڑی تیزی کے ساتھ سرایت کر رہی ہیں اور ہم ہیں کہ اپنی ڈگر سے ہٹنے کا نام نہیں لیتے۔ بات سیلاب سے چلی تھی لیکن سیلاب کے ایک واقعہ کی طرح چل پڑی، ہمارے ملک کے حکمرانوں کو ایسے مشیر ملے ہیں جن کی شاید اپنی کوئی سوچ نہیں رہی۔ لیکن ہمارے حکمران اور ہم اس کو قدرتی آفات کا نام دے کر خاموش ہو جاتے ہیں اور پھر نئے سال نئے سیلاب کا انتظار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ آخر اس تباہی کو روکنے کے لئے ہمارے حکمران کس کے انتظار میں ہیں۔ ملک کی بقا کے لئے کالاباغ ڈیم جیسے عظیم منصوبوں کو کیوں ترک کر دیا جاتا ہے۔ آج اگر کالاباغ ڈیم کو سیاست کی نظر نہ کر دیا جاتا تو نہ دریائے سندھ لوگوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ بے گھر کرتا اور نہ ہی ہمارے ملک میں بجلی کا طویل بحران ہوتا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کو قوم نے بھاری مینڈیٹ دیا ہے۔ وہ آج بھی پوری قوم کے زخموں پر مرہم رکھ کر اپنے آپ کو تاریخ میں شیر شاہ سوری ثابت کر سکتے ہیں ہاں اگر وہ کالاباغ ڈیم کی فوری تعمیر کا اعلان کر دیں تو یقیناً ان کے اس اقدام سے بھارتی لابی جو بھارت سے اربوں روپے لے کر صرف اس لئے کالاباغ ڈیم کی مخالفت کر رہی ہے کہ اگر کالاباغ ڈیم تعمیر ہو گیا تو یہ ملک اندھیروں سے واپس روشنیوں میں آ جائے گا اور اپنے پاﺅں پر کھڑا ہو جائے گا جو ہمارے سب سے بڑے دشمن بھارت سے برداشت نہیں ہو سکے گا اس لئے کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے یہ غلط اور گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ اس سے نوشہرہ اور صوبہ سندھ کے کئی شہر تباہ ہو جائیں گے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ عظیم منصوبہ مکمل ہو گیا تو بھارت تباہ ہو جائے گا اور جبکہ ہمارے ملک میں سیلاب کے ذریعے آنے والی تباہی بھی 50 فیصد تک ختم ہو جائے گی۔ اب اس کا فیصلہ وزیراعظم نے کرنا ہے کہ وہ شیر شاہ سوری کی طرح کوئی عظیم منصوبہ مکمل کے کرکے تاریخ میں اپنے آپ کو امر کرنا چاہیں گے یا چند سالوں کے بعد انہیں دوسرے حکمرانوں کی طرح فراموش کر دیا جائے۔