حال کی طرف نظر کریں

کالم نگار  |  خالد محمود ہاشمی

وزیراعظم نوازشریف نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں حقائق سے پردہ اٹھایا کہ 14 سالہ کرپشن اور بدانتظامی نے ملکی بنیادیں ہلائی ہوئی ہیں۔ سرکاری مشینری زنگ آلود ہو چکی ہے۔ قرض اتارنے کیلئے قرض نہ لیں تو ملک دیوالیہ ہو سکتا ہے۔ ہمارے دور میں قرضہ3 ہزار ارب اور 14 ہزار 5 سو ارپ ہو چکا ہے۔ لوڈشیڈنگ 5 سال میں ختم کر دیں گے۔ وزیراعظم کے خطاب کے ساتھ ہی گھریلو صارفین کیلئے بجلی 15 جبکہ صنعتوں کیلئے 56 فیصد مہنگی کر دی گئی ہے۔ ملک میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ہزاروں ایکڑ فصلیں زیرآب آچکی ہیں۔ ہزاروں دیہات پانی میں غرق ہو چکے ہیں۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوکر کھلے آسمان کے نیچے پڑے ہیں۔ سیلاب کی کہانی ہر سال دہرائی جاتی ہے‘ لیکن ہر حکومت سیلاب سے پہلے حفاظتی اقدامات میں ناکام رہی ہے۔ تباہی کے بعد سب حرکت میں آئے ہیں۔ متاثرین کی بحالی کے دعوے کرتے ہیں‘ لیکن بارش اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے مستقل سدباب کی طرف کبھی کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دی۔ گوادر سے چین تک نئی شاہراہ بنانے کی منظوری دی گئی ہے جو چین کو گوادر تک راہداری کی سہولت فراہم کرے گی۔ وزیراعظم نے گڈانی میں 6 ہزار 600 میگاواٹ بجلی کے منصوبوں کی خوشخبری کا عندیہ دیا ہے‘ لیکن شاہراہ ترقی کی سمت پیش قدمی کیلئے دہشت گردی سے نجات ضروری ہے۔ نوازشریف دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ مذاکرات سے ہو یا بھرپور ریاستی طاقت کے ساتھ۔ انتخابی مہم کے دوران اور اس کے فوراً بعد بھی وزیراعظم نوازشریف نے ایک بات کو بار بار دہرایا کہ اکنامک مینجمنٹ ان کی پہلی ترجیح ہے۔ کوئی ایک مسئلہ ہو تو بیان کیا جائے۔ بجٹ کا خسارہ چھوٹا مسئلہ تو نہیں۔ کراچی سے لاہور تک ہائی وے کی تعمیر‘ کراچی میں زیرزمین ٹرین کا منصوبہ بلا شبہ قابل تحسین منصوبے ہیں‘ لیکن غربت کا گراف کیسے نیچے آئے گا۔ بڑے پیمانے پر سیلاب غریب کو غریب تر کر دیتے ہیں۔ سب کچھ پانی کی نذر ہو جائے تو کیابچتا ہے۔ نوجوانوں کیلئے قرضوں کا پروگرام اچھی بات ہے‘ لیکن بھاری رقوم کہاں سے آئیں گی۔ اس ملک میں اس نوعیت کے قرضوں کی واپسی نہیں ہوتی۔ پیلی ٹیکسی سکیم کو کیسے برباد کیا گیا۔ سستی روٹی سکیم کو کیس ناکام بنایا گیا۔ وزیراعظم کے اکنامک ویژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پیسہ درکار ہے۔ کشکول توڑ کر پھر جوڑ دیا گیا۔ ٹیکس تو جی ڈی پی ریشو میں کیسے اضافہ کیا جائے گا۔ لینڈ مافیا‘ سمگلرز‘ پراپرٹی کا کاروبار کرنے والے‘ سٹاک مارکیٹ کے سٹہ باز ٹیکس نیٹ سے باہر رہتے ہیں۔ پاکستان چند سال دور رہنے کے بعد پھر آئی ایم ایف کی گود میں بیٹھ گیا ہے۔ 1999ءمیں اکانومی ڈانواں ڈول تھی۔ مشرف نے منتخب حکومت کو چلتا کیا تھا اس لئے عالمی سطح پر اسے پذیرائی ملنا مشکل تھا۔ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا اتحادی بننے کا صلہ آئی ایم ایف سے قرضے کی شکل میں ملا۔ 2008ءمیں بھی اکانومی ہچکولے کھا رہی تھی۔ آٹھ سالہ فوجی آمریت کے نقوش نمایاں تھے‘ تاہم پیپلزپارٹی کی منتخب حکومت کو فرینڈز آف پاکستان کا سہارا مل گیا۔ آج کی منتخب حکومت کا اکنامک ماڈل کوئی نیا دکھائی نہیں دیتا۔ عوام مایوس ہیں کہ لوڈشیڈنگ کا عذاب مسلط رہے گا۔ بجلی کا شارٹ فال بڑھ کر پھر 2200 میگاواٹ ہو گیا ہے۔ شہروںمیں 8 گھنٹے اور دیہات میں 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ ہر طرف پانی ہی پانی ہے۔ دنیا والے کہتے ہیں کہ ہم کتنے قیمتی پانی کو ڈیم نہ ہونے کے باعث ضائع کر دیتے ہیں۔ انڈر گراﺅنڈ ٹرین سے بھی زیادہ ضروری ڈیموں کی تعمیر ہے۔ بجلی کی طلب اور رسد میں فرق کو دور کرنے کیلئے تین سال درکار ہیں‘ لیکن خواجہ آصف کی بتائی ہوئی مدت کو وزیراعظم نے 5 سال کر دیا ہے۔ گڈانی اور تھر کول کے منصوبو سے بجلی پیدا ہونے میں8 سے 10 سال لگیں گے۔ نندی پور اور نیلم جہلم منصوبوں سے بجلی پیدا ہونے میں بھی چند سال لگیں گے۔ گیس اور بجلی چوروں کے ہاتھوں حکومت کو ہر سال 150 سے 250 ارب کا نقصان سہنا پڑ رہا ہے۔ 2018ءتک تو ہمیں لوڈشیڈنگ کے ساتھ رہنا پڑے گا۔ بجلی اور گیس کے نرخوں میں باقاعدگی سے اضافہ ہوتا رہے گا۔ پھر ہم کیسے سمجھ لیں کہ عام آدمی کو ریلیف ملے گا یا اس کی حالت بدل جائے گی۔ جن ممالک کے پاس دولت کی فراوانی ہے‘ امریکہ ان کے پیچھے خود بھاگتا ہے۔ عرب ملک اس کی بڑی مثال ہیں۔ ہماری حکومتیں ویژن کی تیاری کرتی رہی ہیں۔ آجکل ویژن 2025ءکی تیاری ہو رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ 2013ءمیں ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ہمارا معاشرتی ڈھانچہ بکھرتا جا رہا ہے۔ اقتصادی اتارچڑھاﺅ سے رشتے بھی پامال ہو رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں ماﺅزنے تنگ، اتاترک، ڈیگال جیسی قیادت ہمیں میسر کیوں نہیں ہوتی؟