جنرل بکرم سنگھ اور اے کے انتھونی غلط فہمی میں نہ رہیں

کالم نگار  |  خواجہ ثاقب غفور

بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی نے لوک سبھا ( پارلیمنٹ) میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھا رت کے صبرکو نہ آزمایاجائے پانچ بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں پاکستان کے خصوصی تربیت یافتہ فوجی ملوث ہیں ایل او سی کے واقعہ میں ملوث فوجیوں کے خلاف پاکستان سخت کارروائی کرے ایسے واقعات سے دو طرفہ تعلقات پر منفی اثر پڑے گا کہ ان واقعات سے ایل او سی ” اثرات“ پڑیں گے۔ اس لئے پاکستان ہمارے صبر کا امتحان نہ لے ہم صبرو تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں اسے ہماری نرمی نہ سمجھا جائے بھارتی وزیردفاع نے مزید کہا کہ فوج کو ایل او سی پر کارروائی کیلئے ” فری ہینڈ“ دیدیا ہے۔ ہمارے دو فوجیوں کے گلے کاٹ لئے گئے اور پونچھ میں 5فوجیوں کو ہلاک کرنے کا ” جواب“ پاکستانی فوجی کو وقت آنے پر دیاجائے گا! جنوری میں دو فوجیوں کے سر کاٹنے کے واقعہ بھارتی وزیر خارجہ سلمان بشیر نے کہا تھا کہ ہم اپنے جوانوں کا بدلہ مناسب طریقے سے ضرور لیںگے۔ دس دن قبل بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے جموں چھاﺅنی میں فوجیوں سے خطاب میں کہا تھا کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیںگے۔ ایل او سی کی خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کا حکم بھی دیا تھا۔جنرل سنگھ نے مزید کہا تھا کہ اگر پاکستان نے بھارت کے اوپر زبردستی جنگ تھوپی تو ماضی میں شکست کی طرح اس مرتبہ بھی پاکستان کیلئے نتیجہ مختلف نہیں ہوگا ہم دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیں گے۔ منہ توڑ جواب دیں گے! حالات جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں!
 گذشتہ سات دن کے عرصہ میں بھارتی آرمی چیف اور وزیر دفاع کی جانب سے پاکستان کو ملفوف انداز میں دھمکیوں اور مطالبات کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے جو بھارتی امن کی آشا کے سہانے سپنے دکھا کر بےوقوف بناتا رہا وہ اب ” امن کی فاختہ“ اور ” امن کی آشا“ کو ” پاکستانی چمچوں“ کے منہ پر مارتے ہوئے ” جنگی ماحول“ بنانے پرکمربستہ ہے اس سے بڑی شاہکار منافقت بھارت اور بھارتی قیادت کے مکروہ چہرے اور کردار کی پاکستانی ” پھونپوﺅں“ نے اب کیا دیکھنی ہے۔ جنرل بکرم سنگھ اور بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی نے عالمی برادری کو پھرگمراہ کرنے اور جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے وہ پاکستانی فوج کو جھوٹا الزام دے رہے ہیں پہلے ان کے خفیہ اداروں( فوجی اور ”را“) نے یہ رپورٹیں دی تھیں کہ 5فوجیوں کی ہلاکت میں پاکستانی فوجیوں کی وردی میں ” باغیوں“ نے حملہ کیا۔ یہی بیان اے کے انتھونی نے دیا پھر بھارتی اپوزیشن کے سنگین حملوں کی تاب نہ لا کر اپنے بیان کو” بدل“ لیا ! اب وہ ” رنگ ماسٹر“ کی طرح کرتب دکھاتے ہوئے پھریہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی ” خصوصی فوجیوں“ نے یہ کارروائی کی اور پاکستانی حکومت اور فوج کو دنیا میں بدنام کرناچاہ رہے ہیں نیز ہم سے حملہ آور فوجیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کررہے ہیں جو کہ دنیا کو گمراہ کرنے اور پاک فوج کو امن کی دشمن ثابت کرنے کی چال ہے مزید وہ پاکستان سے اپنی سرزمین بھارت کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی گارنٹی مانگ رہے ہیں۔
 بھارتی فوجی و دفاعی سیاسی قیادت کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بھارت کی حکمران کانگریس مذاکرات، منافقانہ، بیک چینل ڈپلومیسی، سفارت کاری، پروپیگنڈہ مشینری کے ہتھکنڈے دھوکہ دینے میں کامیاب ہیں لیکن ہندو بنیاءکا فلسفہ ہی یہ ہے کہ دشمن کو منافقت سے دھوکہ دے کر مارو یا سخت ضربیں پہنچاﺅ! بھارت کے جنرل اور وزیردفاع بھی پانچ فوجیوں کی ہلاکت( مجاہدینِ آزادی¿ کشمیر کے ہاتھوں) کا بہانہ بنا کر مذاکرات سے راہِ فرار اختیارکرنے کے راستے پر ہے اب وہ اپنی اندرونی بغاوتوں پر قابو پانے میں ناکامی، آئندہ انتخابات میں پاکستان مخالف کٹر ہندوﺅں کے ووٹ لینے کیلئے پاکستان کے خلاف سرحدی جھڑپوں کوپھیلا رہے ہیں تاکہ اندرونی عدمِ استحکام سے نظریں ہٹا کر ہندو اور بھارتی فوج کو پاکستان سے ”جنگ“ کے بخار میں مبتلا کرکے باقی ماندہ کانگریسی مدت پوری کرلی جائے نیز بی جے پی، اپوزیشن جماعتوں، آر ایس ایس اور دیگرجنونی گروپوں کی احتجاجی تحریکوں اور سیاسی مخالفت اورٹھنڈا کیاجاسکے ! بھارتی حکمرانوں کی یہ منافقانہ پالیسی آئندہ بھارتی انتخابات میں کامیابی کے ایک حربے کیلئے ہے۔
بھارتی فوجی قیادت کے پاکستان مخالف بیانات کا مقصد بھارت کی دفاعی و اقتصادی قوت کی پاکستان پر دھاک بٹھانے کی ناکام کوشش ہے مزید یہ کہا جنرل بکرم سنگھ شاید پاکستان سے بھارت کے مذاکرات اور تنازعات کا حل نہیں چاہتے اور فوج ” مذاکراتی عمل“ کی مخالف ہے وہ پاکستان کو ایک اور نئی جنگ میں شکست کا عندیہ دے کر” بھارتی بالادستی“ کا پیغام دینا چاہ رہے ہیں جو ” دیوانے کی بڑھک“ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ جنرل بکرم سنگھ پہلے مقبوضہ کشمیر سے فوجی بھگوڑوں کا مسئلہ، خودکشی کے واقعات، بھارتی کمانڈ کے احکامات ماننے سے انکار، مجاہدین سے ” ملاپ“، نکسل باغیوں، ماﺅ باغیوں، آسام، دیگر علاقوں کی بغاوتوں کو ختم کرنے کے نازک مسائل کی فکر کریں جہاں بھارتی حکومت اور افواج ناکام ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی بربریت و شیطانی کھیل کے باوجود سات لاکھ سکیورٹی فورسزتقریباً ناکام ہیں۔ بھارتی ایٹمی آبدوز ابھی دو ہفتے قبل جل کرخاکستر ہوگئی ناکارہ ایٹمی آبدوز، کم درجے کے ایٹمی میزائل، اندرونی سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹتی فوج، فضائی طیاروں کی تبدیلی اور کثیر تعداد گراﺅنڈ کرنے کی اصلیت پاکستان کے جرنیلوں کو معلوم ہے۔ جنگ کی صورت میں پاکستان کو شکست کے صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں یہ 1971ءنہیں ہے اگرکوئی غلط فہمی ہوتو نکال لیں۔ابھی کارگل میں دراس سیکٹر میں جو بھارتی فوجی قوت کی ” ذلالت“ پاکستان کے ہاتھوں اٹھائی وہ شکست جنرل بکرم سنگھ کو یاد ہوگی یہی ” زخم“ جنرل سنگھ کو ” چین “ نہیں لینے دیتے۔ جہاں تک جنرل سنگھ کا یہ کہنا ہے کہ ہم پاکستان کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیں گے تو اوّل تو جنگ کی ہمت دھوتی سے پیشاب نکلنے کے ڈر سے بھارتی یا ہندو قیادت کرے گی نہیں اور نہ یہ نوبت عالمی طاقتیں آنے دیں گے اوراگرکبھی اب جنگ ہوئی تو شاید سارے بھارت کے گدھ اور چیلیں ہندوﺅں کا گوشت کھانے کیلئے کم پڑ جائیں گے۔ جنرل سنگھ اور اے کے انتھونی کو یہ یقین رکھناچاہئے کہ ماضی کا ” قرض“ چکانے کیلئے پاکستانی افواج اور قوم نے ” قسم“ کھا رکھی ہے ۔ سردار جی، جنرل سنگھ اور مسٹر انتھونی بھارت کو تباہ نہ کروا بیٹھیں!