تابناک مستقبل کا آغاز

کالم نگار  |  رابعہ رحمن

14 برسوں کے دوران پاکستان پہ لگنے والے زخموں کی وسعت اور گہرائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب ناسور بننے کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے اور ہمارا قومی وجود اور وقار بھی خطرے کی گھنٹیاں بجا رہا ہے۔ ناقص حکمتِ عملی،بد عنوانی،مفاد پرستی اور اقربا پروری نے ہماری بنیادوں کو کاری ضرب لگانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ قرضہ تو سولی کی تلوار کی طرح ہمارے سروں پر لٹک رہا ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ اس بھاری قرض کو اُتارنے کے لیے ہمیں کثیر رقم قرض کے طور پر اُٹھانی پڑے گی۔ ڈر ہے کہ کہیں ملک دیوالیہ ہی نہ ہو جائے۔ یہ تمام کی تمام صورتحال راہ راست مشن اور لوڈ شیڈنگ کی پیداوار ہے۔ ہم پر 14برسوں کے دوران چودہ ہزار پانچ سو ارب کا قرضہ چڑھا۔ اس رقم سے ہم ایک نئی پی۔آئی۔اے اور ایک ریلوے کھڑی کر سکتے تھے۔ ایک نئی سٹیل مل لگا سکتے تھے۔ کراچی سے لاہور تک موٹر وے بن سکتی تھی۔ 20 لاکھ لوگوں کو گھر بنا کر دیا جا سکتا تھا۔ یونیورسٹیاں اور ہسپتال بن سکتے تھے۔ یاد ہے کہ نندی پور میں 2007 میں چین کی کمپنی کے تعاون سے بجلی کے منصوبے کا آغاز ہوا۔ اُس پر اربوں روپے خرچ ہوئے مگر چند افراد کے ناقص حکمتِ عملی اور بے حسی کے باعث اربوں کی مشینری کراچی پورٹ پر پڑی رہی اورچوری ہونا شروع ہو گئی اور یوں 425 میگاواٹ کا پراجیکٹ تباہ ہو گیا۔ اب اُس منصوبے کی لاگت 23 ارب سے بڑھ کر 59 ارب تک پہنچ گئی ہے۔ تاخیر اس کے علاوہ ہوئی اور عوام اُسی طرح آج بھی بجلی کے بحران کا شکار ہیں۔ اسی طرح نیلم جہلم کے 970 میگا واٹ کے منصوبے کو 6ماہ میں مکمل ہونا تھا مگر انتظامیہ کی نااہلی بد انتظامی کی بھٹی کی نذر ہو گیا۔ اس مجرمانہ غفلت کے باعث لاگت 85 ارب سے بڑھ کر 274 ارب ہو گئی۔
جب حکومت اتنے بحرانوں کے شکار میں پنپتی ہے تو اُس کو فوراً Asian Tiger نہیں سمجھ لینا چاہیے بلکہ ملک و قوم کو غربت،جہالت اور پسماندگی سے نجات دلانے کے لیے اپنی توانائیوں کا بے مصرف استعمال نہ کریں بلکہ خارجہ پالیسی سے لے کر اندرونی حکمت عملی تک نظر ثانی کریں اور ڈٹ جائیں۔ جو بھی تدبیر او ر تدارک کریں ایسا ہو کہ ہماری جانب اُٹھنے والی انگلیاں ہاتھ ملانے کی خواہش کریں مگر حکومت بننے کے بعد بلوچستان کی صورتحال تشویشناک ہے اور اس کو لے کر ہر مسلمان پریشان ہے نئی حکومت میں یہ آگ و خون کا کھیل کیسے اور کیوں شروع ہوا۔ اُس کھیل میں مارے جانے والے مسلمانوں کا خون حساب مانگتا ہے۔ اس لیے اب سلسلے میں وفاقی حکومت صوبائی حکومت بلوچستان کی ہر ممکن مدد اور تعاون کے لیے تیار ہے جو بھی وہ جائز مطالبہ کریں۔ مسلم لیگ (ن) کی بلوچستان میں حکومت نہ بنانے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے لیے سیاستدانوں کے لیے بلوچستان ہو یا سندھ پنجاب ہو یا سرحد سب حکومتیں اُن کی اپنی حکومتیں ہیں۔ اور یہ ایک بہت ہی مثبت پیغام ہے کیونکہ فرقہ واریت کو ختم کرنے کے لیے حکومت گرانے یا بٹھانے کا ارادہ ہوتا تو پاکستان کے لیے نہ ختم ہونے والے مسائل کا نیا راستہ کُھل جاتا۔ موجودہ حکومت نے آج میں اور تو کے تمام فاصلے ختم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ ایک دیہات میں ہل چلانے والے کسان ،بھٹے پہ اینٹیں لگانے والے مزدور سے لے کر پاکستان کے ہر فرد کو ایک ہی پیغام دیا ہے کہ ہم نے کرپشن،بد انتظامی،دہشت گردی،ڈرون اٹیکس، تعلیمی پسماندگی اور فرقہ واریت کی دھجیاں اسلام کی نیام سے انسانیت،محبت بھائی چارے، اتحادو یقین قربانی اور غیرت و حرمت کی تلوار نکال کر اُڑانی ہیں۔ یہ خواب نہیں حقیقت کی باتیں ہیں۔ کراچی کو روشنیوں کا اور امن کا شہر بننا ہو گا۔ میٹرو بس کا جال بچھانا ہو گا۔ دشمنوں سے قربانیوں کا حساب لینا ہو گا۔ پاک فوج کی توقیر بڑھانی ہو گی۔ سرحدوں کی حفاظت جان کی بازی لگا کر بھی کرنی ہو گی مگر یہ سب کچھ مضبوط اور مستحکم معیشت کے بنا ممکن نہیں۔
 ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اب ایک خاندان ایک قوم کی صورت مشکل ترین مگر اہم فیصلوں پہ ایک دوسرے سے تعاون،مدد اور صبر کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اگر ایسا ہو گا تو تب ہی انتظامی مشینری میں بے عمل،بے فائدہ اور جمود کی شکار گردنوں میں احتساب کا طوق ڈالا جا سکے گا۔
حکومت کی فکر اور تگ و دو اب صرف دہشت گری اور لوڈشیڈنگ کےلئے مختص نہیں ہے بلکہ اقلیتوں کے مسائل،خواتین کے حقوق،علاج معالجے کے مسائل، نوجوانوں کے جوہر کامل کی پہچان اور اُن کی صلاحیتوں سے استفادہ ،بے گھروں کی آبادکاریاں سب متمع نظر رکھنی ہوں گی۔ دلوں کے ارادے تعمیری سفر پہ چلنے لگیں گے تو ترقی کے تمام راستے کھل جائیں گے۔ ۔۔کہ اب ہم اپنی اولادوں کے جنازے اور اپنی عمارتوں کے ملبے اُٹھا اُٹھا کر تھک گئے ہیں۔