اندھا قانون، بہرہ انصاف اور گونگے عوام

کالم نگار  |  مطلوب وڑائچ

سابق چیئرمین شیخ زید ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید سے میری پہلی ملاقات اوائل مارچ 2007ءکو ہوئی جب ججوں کی بحالی کی تحریک کے ابتدائی ایام تھے۔ ہمیں محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کی طرف سے ہدایات ملی تھیں کہ معزول چیف جسٹس کی متوقع لاہور آمد پر نہ صرف وکلا کا بھرپور ساتھ دیا جائے بلکہ لاہور اور ہائی کورٹ بار کے شانہ بشانہ اس کی کامیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ادھر چیف جسٹس کا قافلہ اسلام آباد سے چل نکلا تھا۔ ادھر ہم نے مال روڈ پر ایک بڑا کنٹینر لگا کر سٹیج تیار کیا ہوا تھا۔ ہر لمحہ چیف جسٹس کے کارواں کا انتظار تھا۔ میں پیپلز پارٹی کی دیگر قیادت کے ساتھ سٹیج پر موجود تھا، جوش اور ولولے کا یہ عالم تھا کہ حبیب جالب کے نغموں پر پورا لاہور ”میں نہیں مانتا“ پر دم مست قلندر کر رہا تھا۔ کارکنان دیوانہ وار بھنگڑے ڈالتے ہوئے نعرے لگا رہے تھے۔ اس دوران میری نظر سٹیج کے پاس ہی کھڑے ایک ڈیسنٹ، بارُعب شخص پر پڑی، پینٹ شرٹ میں ملبوس یہ شخص ہر نعرہ کا جواب جھوم جھوم کے دے رہا تھا۔ میرا اشتیاق بڑھا تو میں مانی پہلوان کو بھیجا کہ اس شخص کو سٹیج پر لے آﺅ۔ یہ پروفیسر محمد سعید تھے جو دوسری دوپہر چیف جسٹس کی لاہور آمد تک سٹیج پر ہمارے ساتھ موجود رہے۔ بعدازاں ہمارے تعلقات ایک بہت اچھی دوستی میں تبدیل ہو گئے۔ پروفیسر سعید صاحب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے پاکستان سے ایم بی بی ایس کرکے گائنالوجی کے شعبے میں سپیشلائز کرنے کے لیے انگلینڈ سے تعلیم حاصل کی اور ان کی زوجہ پروفیسر روحی نے محسوس کیا کہ انگلینڈ کی بجائے پاکستان کو ان کی زیادہ ضرورت ہے۔ لاکھوں پاﺅنڈز کی سالانہ تنخواہ کو ٹھکرا کر پاکستان کے ماحول میں کام کرنا کوئی آسان مشن نہیں تھا مگر اس جوڑے نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ہر قیمت پر وطن کی خدمت کریں گے۔ اپنی صلاحیتوں اور میرٹ کی بنا پر شیخ زید ہسپتال کے چیئرمین اور میڈیکل کالج کے ڈین بنا دیئے گئے۔ چیئرمین کا عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے اس مقدس لیکن تباہ حال ادارہ کو چند ہی ماہ میں دوبارہ پاﺅں پر لاکھڑا کیا۔ صدر جنرل مشرف کی ایک عزیزہ اسی ادارے میں تعینات تھی اور بیگم پرویز مشرف کی ذاتی خواہش تھی کہ اس عزیزہ کو ترقی دے کر اگلے گریڈ میں تعینات کیا جائے۔ پروفیسر ڈاکٹر سعید نے میرٹ کے بغیر کوئی بھی فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا جس کا خمیازہ انہیں اس صورت میں بھگتنا پڑا کہ ان کو دونوں عہدوں سے معزول کر دیا گیا۔ پروفیسر سعید صاحب جو ذات اور انا کے گجر ہیں نے اس فیصلے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کو ترجیح دی۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے وہ سال کی محنت کے بعد فیصلہ ان کے حق میں تو ہوا مگر اس دوران انہیں عدلیہ کا حقیقی چہرہ دیکھنے کا جو تجربہ ہوا وہ ناقابل بیان ہے۔ اسی دوران پیپلز پارٹی کی حکومت یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں اقتدار میں آ گئی۔ سال ہا سال کا عدالتوں سے تھکا ہوا شخص اب بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے رحم و کرم پر تھا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی اس وقت کی سیکرٹری نرگس سیٹھی اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیہ نے عہدے پر بحالی کے لیے ایک بھاری بھرکم نذرانہ کا مطالبہ کر دیا۔اس دوران ادارے کے چیئرمین ریٹائرڈ ہو گئے اور پروفیسر صاحب کو دوبارہ چیئرمین بنا دیا گیا۔ ایک دن میں او ر دوسرے چند دوست چیئرمین صاحب کے آفس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ چیئرمینی کے امیدوار ایک دوسرے ڈاکٹر صاحب جنہوں نے نرگس سیٹھی اور خاتون اول کو راضی کر لیا ہوا تھا کچھ غنڈے ساتھیوں سمیت پروفیسر سعید صاحب کے آفس میں آ گھسے اور اسلحہ کے زور پر چارج لے لیا جس کے خلاف پروفیسر صاحب نے مقامی ایس پی اور آئی جی کو بروقت اطلاع بھی کی مگر قانون اور عدلیہ وزیراعظم گیلانی کے خاندان کے آگے بے بس دکھائی دیئے۔ یہ شخص عدالتوں کے دروازے مسلسل کھٹکھٹائے جا رہا تھا۔ اس دوران اٹھارویں اور انیسویں ترمیم آ گئی جس کے تحت شیخ زید مرکز سے پنجاب حکومت کو منتقل ہو گیا جس پر میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے پروفیسر سعید کو اپنے پاس بلوا کر ایک غیر تحریری معاہدہ کیا اور یقین دہانی کروائی کہ چونکہ آپ سے بہتر شیخ زید کے معاملات کوئی نہیں چلا سکتا ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔ اس واقعہ کو بھی 15 ماہ سے زیادہ ہو گئے اور وہ ہاتھ جنہوں نے نرگس سیٹھی اور سابقہ خاتون اول کو رام کر لیا تھا ان ہاتھوں کی اپروچ شاید اب بھی اپنا کام دکھا گئی تھی اور اب جبکہ عدالتوں میں کیس اسی طرح پڑے ہوئے ہیں جس طرح ایک دہائی پہلے تھے۔ اس سال 16 جولائی کو پروفیسر سعید صاحب ریٹائرڈ ہو گئے مگر اپنے پیچھے بے شمار حل طلب سوالات چھوڑ گئے ہیں کہ وہ عدلیہ جس کی بحالی کی تحریک میں انہوں نے مردانہ وار حصہ لیا اس کے نتائج کیا نکلے اور پاکستان کے 20 کروڑ عوام جنہوں نے 11 مئی 2013ءکے الیکشن سے پہلے نئی قیادت سے توقعات وابستہ کی ہوئی تھیں وہ اپنے ارمانوں کا خون ہوتے ہوئے دیکھ کر کیا محسوس کرتے ہوں گے؟
پروفیسر سعید صاحب کے مسئلے پر عدلیہ کی بے حسی، لاپرواہی، غفلت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ میں شاید ڈاکٹر طاہر القادری کے افکار و خیالات روز دہرانے کی منطق سے متفق نہیں تھا مگر حالات نے یہ ثابت کیا ہے کہ واقعی اب پاکستان کا کرپٹ سیاسی ڈھانچہ، عدالتی نظام، بیورکریسی سسٹم غرضیکہ پورے نظام کی اوورہالنگ وقت کی ا شد ضرورت ہے۔ بے شک میں اسلام آباد فیم سکندر کے عمل سے اتفاق نہیں کرتا مگر جس روز پروفیسر سعید جیسے انصاف کے دھتکارے ہوئے لوگ ہاتھوں میں مشین گنیں پکڑ کر انصاف لینے نہیں چھیننے آگے بڑھیں گے تو یہ نظام پلک جھپکنے میں زمین بوس ہو جائے گا۔ خدارا ڈریئے اس وقت سے جس وقت ہمارے گریبان ہوں گے اور 20 کروڑ عوام کے ہاتھ۔ گونگے عوام کو بس اندھے قانون اور بہرے انصاف کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے اور لکشمی چوک کو تحریر اسکوائر میں بدلنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔