انتہا پسند عناصر سے مذاکرات

کالم نگار  |  ادیب جاودانی

تیسری مرتبہ اقتدار کی اولین سہ ماہی پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا اپنی قوم سے اپنے خطاب میں ملک سے دہشت گردی اور توانائی بحران کے خاتمے سمیت ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے عزم کا اظہار روایتی طرز خطاب کا آئینہ دار ہے جس سے ایسا لگ رہا تھا کہ وزیراعظم سالوں قبل لکھی ہوئی خوابوں کی کوئی تحریر پڑ رہے ہیں۔ البتہ دیگر معاملات کے برعکس عین خطاب کے دن بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات و مشاورت کے بعد قوم سے خطاب میں جو پیغام دیا ہے اس سے یہی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح انتہا پسند عناصر سے مذاکرات کرنا ہے۔ وزیراعظم نے واضح طور پر کہا کہ ہم انتہا پسندی کا راستہ اختیار کرنے والوں سے بھی بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن دہشت گردی کے مذاکرات یا طاقت کے ذریعے خاتمے پر تمام ادارے اور پوری قوم یکسو ہے۔ دہشت گردی پر قابو پانا ناممکن نہیں مجرم فرار ہو جاتے ہیں پکڑے جائیں تو گرفتاریاں لانے والے خوف کا شکار ہوتے ہیں‘ پھر تفتیش میں دلچسپی اور ہمارے بروئے کار نہیں لا سکتے اور عدالتی افسر ایسے مقدمات سُننے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ گواہ گھبرائے ہوتے ہیں پھر جیلیں ٹوٹتی ہیں اور دہشت گرد قیدیوں کو بھگا کے لے جاتے ہیں۔ وزیراعظم نے اس معاملے میں جن مشکلات کا ذکر کیا ہے ان کا حل اس قدر آسان نہیں یہاں تک کہ اگر شدت پسند عناصر مذاکرات کے بعد اطاعت کا بھی اعلان کرتے ہیں تو یہ ابھی مفروضہ ہی ہے بہرحال ایک پیچیدہ اور صبر آزما صورتحال کے بعد ہی شدت پسند عناصر سے مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔
محترم وزیراعظم نے کہا کہ ”مذاکرات سے ہو یا بھرپور ریاستی طاقت کے ساتھ دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں‘ عسکریت پسندوں کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں۔ کراچی کو لاقانونیت کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان میں دہشت گردی روکنے کے لئے تمام وسائل فاہم کیے جائیں گے۔ ڈرون حملے عالمی قوانین کی نفی ہیں۔“ یہ سب بجا اور درست۔ لیکن پاکستان میں کون ایسا ہے جو دہشت گردی کا خاتمہ نہیں چاہتا۔ عسکریت پسندوں کے خلاف طاقت کا استعمال تو برسوں سے جاری ہے لیکن اس میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ جہاں تک مذاکرات کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں مختلف آراءہیں، کہا جاتا ہے کہ جب افغانستان پر قابض امریکہ طالبان سے مذاکرات کر سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں کر سکتا۔ ٹھیک ہے لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کونسے طالبان؟ اطلاعات کے مطابق طالبان کے دو درجن گروہ کام کر رہے ہیں۔ ان میں ایسے کئی گروہ ہیں جو عملاً قاتلوں کے ٹولے اور دہشت گرد ہیں۔ دہشت گردوں سے مذاکرات اسی وقت ہو سکتے ہیں جب وہ ہتھیار رکھ کر دہشت گردی ترک کرنے پر آمادہ ہوں۔
وزیراعظم نے مذاکرات کی پیشکش کے ساتھ جس دوسرے آپشن کا اظہار کیا ہے اس کا عندیہ وہ قبل ازیں ایک طویل بریفنگ کے بعد دے چکے ہیں۔ مختصر مدت کے دوران دو مختلف الجہت سمتوں میں چلنے اور مختلف الجہت رخ اختیار کر لینے کا ان کا عندیہ اس امر کا اغماز ہے کہ ہماری اعلیٰ قیادت ابھی تک یکسو ہو کر کسی فیصلے تک نہیں پہنچی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے ہماری مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی اور فوجی قیادت میں مکمل طور پر اتفاق رائے نہیں ہو پاتا۔ کمانڈر نیک محمد سے کور کمانڈر پشاور کی ملاقات اور معاہدہ شکنی کے ایسے واقعات رونما ہوتے آئے ہیں کہ جب بھی مفاہمت کی فضا کے قیام کی مساعی کی گئیں ڈرون حملوں میں طالبان کے مختلف اہم عہدیداروں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد معاملات سرد خانے میں چلے گئے بلکہ کشیدگی کی نئی لہر پیدا ہوتی۔ بنابریں حالات کے تناظر میں عسکریت پسند عناصر سے اس وقت تک اعتماد اور اطمینان کی فضا میں بات چیت مشکل ہے جب تک افغانستان میں طالبان کسی مذاکراتی عمل یا مفاہمت کے ذریعے امریکی اور نیٹو افواج کے بحفاظت انخلا کا موقع نہیں دیتے۔ افغانستان میں کیا صورتحال ہوتی ہے اور اس کے اثرات ہم پر کیا پڑتے ہیں۔ یہ سوال اہم ضرور ہے لیکن اس سوال کے جواب کا انتظار کرکے بیٹھے رہنا بھی تو ممکن نہیں۔ شدت پسند عناصر کو چاہیئے کہ وہ وزیراعظم کی پہلی ترجیح سے فائدہ اٹھا کر معاملے کے پر امن حل میں تعاون کریں اور ایسی شرائط سے آغاز کریں جن کی تکمیل کے بعد اعتماد کی فضا قائم کرکے دھیرے دھیرے آگے بڑھا جا سکے تاکہ سالوں سے برسر پیکار قوتیں اسلحہ رکھ کر مفاہمت کی راہ اختیار کر سکیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ مذاکرات کا رستہ اختیار کیا جائے اور بلا تفریق تمام گروہوں سے بات کرکے امن کی بحالی کی طرف پیشقدمی کی جائے۔ مذاکرات کسی کی ہار ہے نہ جیت۔ اسے انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ اس سے امن آ گیا تو یہ پاکستان کی جیت ہے اور دشمنوں کی ہار۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شدت پسندوں کے جن گروہوں کی شکایات جائز ہوں انہیں دور کرکے ایک ایسے عمل کا آغاز کیا جا سکتا ہے جس سے ایک ایک کرکے سارے گروہ ہتھیار رکھتے جائیں اور امن کیلئے لوٹتے چلے جائیں پھر اگر کچھ عناصر ایسے رہ جاتے ہیں جو کوئی معقول درست اور مناسب بات سننے یا سمجھنے کے روادار نہیں یا اپنی روزی روٹی کیلئے قوم پر آگ برسانا چاہتے ہیں تو ان کے خلاف طاقت کے استعمال کا آپشن تو موجود ہے ہی جسے بوقت ضرورت استعمال کیا جا سکتا ہے۔