کراچی میں امن کیسے قائم ہو؟

ڈاکٹر اے آر خالد
کراچی کے حالات پر ہر محب وطن پاکستانی پریشان ہے۔ گولیاں چل رہی ہیں‘ آدمی مر رہے ہیں۔ حکومت بے بس ہے‘ قانون نافذ کرنےوالے ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ اختیار والے بے اختیار نظر آتے ہیں۔ کون ٹھیک کرےگا۔ کہیں نیت نظر آئے تو کوششیں ناکافی دکھائی دیتی ہیں۔ کوششیں دکھائی دیتی ہیں تو بے نتیجہ اور بے ثمر دکھائی دیتی ہیں۔ سیاسی حکومت ناکام ہو چکی ہے یا سارے سیاستدان ناکام ہو چکے ہیں۔ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا عمل جاری ہے۔ پیپلز پارٹی اور متحدہ کو قریب لانے کا عمل گولیوں کے تھمنے اور امن عامہ کے قائم ہونے کا احساس دلاتا ہے بلکہ اسکی کئی بار شہادت دے چکا ہے تو پھر یہ قربتیں پیدا کرنے کےلئے نعشوں کے گرنے کا انتظار کیوں کیا جاتا ہے۔ اگر دو جماعتیں مل بیٹھ کر حالات کو بہتر کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں تو ساری سیاسی جماعتیں آگ اور خون کا یہ کھیل بند کرنے کےلئے کیوں اکٹھا نہیں ہو رہیں۔ نعشوں پر سیاست کرنےوالے دنیا کے کسی حصہ میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ یہاں کیا کامیاب ہونگے۔ کراچی میں فوج طلب کرنے کا مطالبہ کرنےوالے اپنے مطالبے میں شاید غلط نہیں کیونکہ سیاسی حکومت سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو رہا مگر پچھلی کور کمانڈر کانفرنس میں یہ بات غیرمبہم انداز میں عسکری قیادت کی طرف سے سامنے آ چکی ہے کہ کراچی میں قیام امن کےلئے سیاسی حکومت حل تلاش کرے۔ ہماری حکومت یا سیاستدانوں کی ناکامی کوئی نیک شگون نہیں۔ یہ تباہی کی طرف بڑھنے کی بات ہے۔ پاک فوج کو جس طرح کھلے عام تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بالخصوص الیکٹرانک میڈیا پر فوج کی جس طرح بے توقیری کی جا رہی ہے اس کو جس طرح طعنے دئیے جا رہے ہیں یہ کام تو شاید انڈین ٹیلی ویژن بھی کرتے ہوئے جھجکے اور شرمائے مگر ہمارے ہاں جو بدزبانی کی حد تک زبان درازی ہو رہی ہے کہیں اس کا مقصد یہی تو نہیں کہ فوج کراچی میں آنے سے گریز کرے اور سیاسی حکومت کی ناکامی کے باوجود وہاں آگ و خون کا کھیل دیکھنے کی عادی بنا لے۔
ہر ذی ہوش پاکستانی جہاں سیاسی قیادت سے امن و امان قائم کرنے کی توقع رکھتا ہے، وہاں سیاستدانوں سے اس موقع پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے گریز کرنے او راس مسئلہ کو حل کرنے میں دامے، درمے، سخنے مدد دینے کی توقع رکھتا ہے۔ کیوں یہ آگ بھڑکتی بھڑکتی اس حد تک پھیل سکتی ہے کہ اسکے سیاسی فائدے اٹھانے والے خود اس میں بھسم ہو جائینگے۔ صرف کراچی کے مسئلہ پر فوری اے پی سی بلانے کی ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف یہ مسئلہ حل ہونے میں مدد ملے گی بلکہ را ایجنسیوں کو جن کا نام لیتے ہوئے ہمارے حکمرانوں پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور ایک طویل عرصہ سے پاکستان میں ہونےوالی کسی بھی دہشت گردی میں را کو کلیتاً نظرانداز کرنے بلکہ معصوم و بے گناہ سمجھنے کا جو وتیرہ اختیار کر رکھا ہے وہ افسوسناک بھی ہے اور ناقابل سمجھ بھی۔ اگر اے پی سی بلائی جائے تو اس نظرانداز پہلو پر بھی غور کر لینا چاہئے۔ اگر وفاقی حکومت کو اے پی سی بلانے میں کسی مشکل کا سامنا ہے تو سندھ حکومت فوراً صوبائی سطح پر اسکا انتظام کرے اور ساری جماعتیں اسے اپنا مسئلہ سمجھ کر اس کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ احساس ذمہ داری سے کی جانےوالی کوئی بھی کوشش انشااللہ نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔ دوسرا حل بہت سادہ ہے اور وہ حکومت کر سکتی ہے۔ اس کےلئے وزیراعلیٰ اور گورنر کو اس بادشاہ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے ‘ جو امن و امان کے بگاڑ سے بہت تنگ آ چکا تھا اور اسکے حل کی کوئی تدبیر کارگر ثابت نہیں ہو رہی اسکے اعصاب جواب دے چکے تھے کہ وہ اعصاب شکن ماحول سے باہر نکلا سامنے اس نے گدھوں کو ایک قطار میں چلتے دیکھا۔ کمہار کو بلایا اور پوچھا یہ کس طرح سیدھے چلتے ہیں۔ کمہار نے کہا جو لائن توڑتا ہے اس کو سزا دیتا ہوں۔ بادشاہ بولا میرے ملک میں امن و امان ٹھیک کر سکتے ہو۔ کمہار نے حامی بھر لی اور بادشاہ کےساتھ چل پڑا۔
دارالحکومت پہنچتے ہی عدالت لگا لی‘ چور کا مقدمہ آیا تو چور کو ہاتھ کاٹنے کی سزا دی۔ جلاد نے وزیراعظم کی طرف اشارہ کیا کہ چور کو انکی سرپرستی حاصل ہے۔ کمہار نے پھر حکم دیا چور کا ہاتھ کاٹا جائے۔ وزیراعظم سمجھا شاید جج کو پیغام کی صحیح سمجھ نہیں آئی۔ وہ آگے بڑھا۔ کمہار کے کان میں کہا کہ یہ اپنا آدمی ہے۔ کمہار نے بطور جج فیصلے کا اعلان کیا چور کا ہاتھ کاٹا جائے اور وزیراعظم کی زبان کاٹ دی جائے بادشاہ نے فیصلہ پر عمل کرایا۔ آگ و خون کی لپیٹ میں آئے ہوئے ملک میں ایک فیصلہ سے ہی مکمل امن قائم ہو گیا۔ گنہگار کی سفارش کرنےوالی زبان کاٹ دی گئی۔ اپنوں کی سرپرستی چھوڑ دی گئی۔ مخالفین کو پھنسانے کی سیاسی چالیں بند کر دی گئیں تو گولیاں بھی بند ہو جائیں گی اور قتل و غارت بھی رک جائےگا، امن بھی قائم ہو جائےگا۔