کراچی: فوج کو بہت محتاط رہنا ہوگا

صحافی  |  سکندر خان بلوچ

کراچی لہولہان ہے۔ ہر طرف سے لاشیں اٹھائی جا رہی ہیں۔ ہر قسم کے دھماکوںسے کان پھٹتے ہیں ۔ کاروبار بند ہیں۔ معصوم بچے دودھ تک سے محروم ہیں۔ لوگ فاقوں مرنے پر مجبور ہیں۔ صبح گھر سے نکلیں تو یقین نہیں ہوتا کہ شام کو زندہ واپس آئینگے بھی یا نہیں؟ مائیں بچوں کو خوف سے باہر نکالتے ہوئے ڈرتی ہیں۔ سکول کالجز بند ہیں۔ بندرگاہ سمیت دفاتر میں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔ بسیں ۔ کاریں۔ موٹر سائیکلز اس بیدردی سے جلائے جا رہے ہیں جیسے یہ دشمن کا علاقہ ہو۔دوکانوں کو آگ لگا دی جاتی ہے۔بھتہ کےلئے صرف چٹ ملتی ہے جس پر لاکھوں کے حساب سے ڈیمانڈ ہوتی ہے۔ یہ ڈیمانڈ پوری نہ کرنے والے کو مثال عبرت بنا دیا جاتا ہے تاکہ آئندہ کوئی حکم عدولی کی جرا¿ت نہ کر سکے۔ اغوا برائے تاوان روزمرہ کا معمول ہے۔ اب اغوا کئے گئے لوگوں کےلئے باقاعدہ ٹارچر سیلز قائم کئے جا چکے ہیں جہاں انہیں ایذائیں دے دےکر مارا جاتا ہے۔ گلے کاٹے جاتے ہیں ۔ہاتھ پاﺅں کاٹے جاتے ہیں۔ پھر ان لاشوں کو بوریوں میں بند کرکے شاہراﺅں پرپھینک دیا جاتا ہے۔ کون پھینک جاتا ہے‘ اگر لوگ پہچانتے بھی ہیں تو خوف سے کوئی نہیں بولتا۔
بجلی ۔پانی اور گیس عدم دستیاب اس لیے کارخانے بند۔ روزگار ندارد۔ یہ ہے آج کے پاکستان کا عروس البلاد کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر ہوتا تھا۔ ہر غریب یہاں سماجاتا تھا۔ ہر شخص کو کہیں نہ کہیں روزگار مل جاتا تھا۔ بھوکا کوئی نہیں سوتا تھا‘ اسی لئے اسے غریب پرور شہر کہا جاتا تھا۔ پاکستان کے کسی بھی حصے میں جس کسی کو بھی روزگار نہیں ملتا تھا وہ کراچی ہی کا رخ کرتا تھا۔ کراچی ایک محبت کرنےوالی ماں کی طرح اسے گلے سے لگا لیتا‘ اسی لئے یہ منی پاکستان تھا۔ ملک کی تمام زبانیںبولنے والوں کی پناہ گاہ تھا‘ محبتیں لٹانے والا شہر۔ جو بھی ایکدفعہ وہاں گیا وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ لیکن اب ہر طرف خون ہی خون‘ لاشیں ہی لاشیں‘ ہر آدمی ہر آدمی سے خائف‘ پڑوسی پڑوسیوں سے‘ دوست دوستوں سے‘ واقف کار واقف کاروں سے‘ ہر طرف دشمنی ہی دشمنی‘ نفرت ہی نفرت‘ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اب یہاں انسان نہیں درندے بستے ہیں۔ یا پھرانسان درندے بن گئے ہیں۔ اف خدا‘ خوف‘ آگ‘ خون‘ لاشیں‘ اغوا‘ ڈاکے‘ انسانوں کے مذبح خانے۔ کوئی جائے تو جائے کہاں؟
اس دہشت زدہ ماحول کو الطاف بھائی کی وارننگ نے مزید دہشت زدہ کر دیا ہے کہ سب ایک ایک ماہ کا راشن گھروں میں جمع کر لیں۔ الطاف بھائی کی پارٹی کراچی کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ انکے منہ سے جو بھی لفظ نکلتا ہے وہ کراچی کےلئے قانون کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ مزید کشت و خون‘ مزید لاشیں‘ مزید دہشت اور مزید خوف‘ حیران کن بات حکومتی رویہ ہے جو کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں۔ ہر دفعہ ایک ہی بیان آتا ہے۔ ”صدر صاحب نے کراچی کے حالات کانوٹس لے لیا ہے۔ وزیراعظم نے نوٹس لے لیا ہے۔ اب دہشت گردوں کےساتھ سختی سے نمٹا جائیگا۔ اب کسی کو معاف نہیں کیا جائیگا“ وغیرہ وغیرہ پھر مختلف پارٹیوں کی میٹنگز شروع ہوجاتی ہیں۔ امن وامان کی نوید سنائی جاتی ہے ۔ ڈرامہ پوری سنجیدگی سے سٹیج کیا جاتا ہے لیکن شام تک دس بیس بسیں اور کاریں جل چکی ہوتی ہیں۔ کئی درجن لاشیں مزید گرچکی ہوتی ہیں۔ بوری بند لاشوں میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ حکومتی رویہ توایسا ہے جیسے امن و امان انکی ذمہ داری ہی نہیں۔ ہر چند دنوں بعد ہمارے وزیر داخلہ کراچی پہنچ کر کوئی نہ کوئی نئی گلفشانی کر دیتے ہیں۔ پچھلے دنوں فرمایا یہ ٹارگٹ کلنگ نہیں بلکہ ناراض بیویاں اور ناراض گرل فرینڈز اپنے سابقہ چاہنے والوں کو مروارہی ہیں۔ سنہری حروف میں لکھے جانےوالا فقرہ ہے۔ واقعی عظیم لوگ‘ عظیم سوچ‘ عظیم کارنامے۔
اب سندھ کے وزیرداخلہ جناب منظور و سان نے اس سنہری سوچ میں مزید اضافہ فرمایا ہے ”معلوم ہے شرپسندی کہاں سے ہو رہی ہے۔ اب تک اتحادیوں کی وجہ سے رعایت برتی“ خوب بہت خوب! یہ ہیں ہمارے ہمدرد عوامی حکمران جو ہمارے ہی ٹیکس پر پلتے ہیں۔ ہمارے ہی ٹیکس پر عیاشی کرتے ہیں اور پھر ہمارے ہی ٹیکس سے ہماری ہی لاشیں گرا کر ہمیں ووٹ دینے کی سزا دیتے ہیں۔ اس سے زیادہ بھلا حکومتی نیت کا اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے ۔ ویسے بھی حیران کن بات ہے کہ کراچی میں پولیس۔ رینجرز اور ایف سی اہلکارروں کی تعداد لگ بھگ 56ہزار ہے۔ فوجی اصطلاح میں ایک کور سے بھی زیادہ جن پر3ارب روپے سے بھی زیادہ خرچ ہوتا ہے۔ ہزاروں کے حساب سے انٹیلی جینس ایجنسیوں کے لوگ علاوہ ہیں۔ جدید موبائیلز‘ جدید اسلحہ‘ بکتر بند گاڑیوں سے لیس ہیں لیکن مٹھی بھر دہشت گرد‘ مٹھی بھر شرپسند‘ مٹھی بھر بھتہ خور اتنی بڑی فورس سے زیادہ طاقت ور ہیں۔ اگر اتنی بڑی فورس امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہے تو اسے ختم کیوں نہیں کر دیا جاتا۔ پھرعوام کے کندھوں پر ٹیکسز کا بوجھ کس لئے؟ عوام پہلے بھی بے یارومددگار ہیں پھر بھی بے یارومددگارہی حالات کا مقابلہ کریں گے۔ بے حس حکمران‘ بے بس عوام‘ اسے کہتے ہیں ”جمہوریت بہترین انتقام ہے“۔
ان حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت امن و امان قائم کرنے میں قطعاً دلچسپی نہیںرکھتی۔ ورنہ اتنی بھی قیامت نہیں کہ اتنی بڑی پولیس اور پیراملٹری فورس کی موجودگی میں روزانہ تین تین درجن لاشیں اٹھانی پڑیں۔ کروڑوں روپے کی روزانہ بسیں جلیں۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کا کوئی نہ کوئی خفیہ ایجنڈا ہے جس کیلئے یہ سب کچھ بہت سوچ سمجھ کر منصوبہ بندی سے کرایا جا رہا ہے۔ اتنی بڑی فورس کو جان بوجھ کر بے اثر کر دیا گیاہے۔
اب تمام پارٹیاں ملکر فوج لانے کی رٹ لگا رہی ہیں لیکن میری نظر میں فوج کو بلانا بھی اسی سازش کی ایک کڑی ہے کیونکہ کراچی اس وقت مکمل طور پر مسلح ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں نے باقاعدہ تربیت یافتہ فورس تیار کر رکھی ہے۔انٹرنیشنل میڈیاکے مطابق کچھ لوگ خصوصی طور پر بھارت سے بھی تربیت حاصل کرکے آئے ہیں۔ بھارتی کمانڈوز کی موجودگی بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔ ان لوگوں نے باقاعدہ طور پر منصوبہ بندی سے مختلف علاقوں میں پکے مورچے اور بنکرز قائم کر رکھے ہیں۔ وزیر داخلہ کا اپنا بیان ہے کہ اسرائیل کا اسلحہ استعمال ہو رہا ہے۔ غیر مصدقہ غیر ملکی اطلاعات کےمطابق نیٹو فورسز کے نام پر لگ بھگ70 کنٹینرز کراچی میں غائب ہوئے ہیں ۔ شبہ ہے ان میں زیادہ تر یا سب ہتھیاروں سے بھرے تھے۔ اس سے کراچی کی حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مستفید ہونے والوں میں حکومتی لوگ بھی شامل ہیں۔ ان حالات میں فوج کی کامیابی بھی مشکوک ہے۔
فوج اس وقت پہلے ہی بہت زیادہ پریشر میں ہے۔ اس حد تک کہ کنٹونمنٹس تقریباً خالی ہو چکے ہیں۔ اب اگر فوج کراچی میں استعمال کی جاتی ہے تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا۔ یہاں انکا مقابلہ تربیت یافتہ مسلح گروپس سے ہوگا جو مکمل طور پر اسی مقصد کےلئے تیار کئے گئے ہیں اور گنجان آبادی والے علاقوں میں مورچہ زن ہیں۔یہ لوگ یقینا فوج پر شدید فائرنگ کرینگے جس سے فوج کےلئے اپنی لاشیں سنبھالنا بھی مشکل ہوجائےگا۔ فوج کو بڑے شہروں کے گلی محلوں میں لڑنے کی تربیت نہیں ہوتی نہ ہی ایسے علاقوں میں ٹینکس یا بکتر بند گاڑیاں جاسکتی ہیں۔ دوسرا یہاں فوج کو اپنے ہی لوگوں پر فائرنگ کرنا پڑےگی جس سے انکی اپنی وفاداری کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ تیسرافوج کے ہاتھوں چند لوگوں کے مرنے سے ہی شاطر قسم کی مفاد پرست سیاستدان انٹرنیشنل پریس میں فوجی ظلم و ستم کی ایسی ایسی داستانیں سامنے لائینگے کہ فوج کےلئے منہ چھپانامشکل ہوجائیگا۔ اور کوئی نہیں تو بھارت ہی بیرونی میڈیا میں فوج کو وقت کا سب سے بڑا ”ابلیس “(معذرت سے)بنا دےگا۔ کچھ لو گ مہاجرین کے روپ میں بھارت بھاگیں گے۔ مشرقی پاکستان والی کہانی یہاں دوبارہ دوہرائی جائیگی۔ ایسے حالات پیدا کر دئیے جائینگے جہاں ہمارے ”محب وطن“ سیاستدان شیخ مجیب الرحمن کی پیروی کرتے ہوئے کسی بھی غیر ملکی طاقت کو امداد اور تحفظ کےلئے پکار سکتے ہیں۔ بلوچستان کے حالات پہلے ہی اسی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اگر اور کوئی نہیں تو اقوام متحدہ کو بھی بلایا جا سکتا ہے کہ وہ کراچی کو اپنے کنٹرول میں لے لے۔ اسکے بعد جو کچھ ہوگا سوچا جا سکتا ہے۔
یہ خالصتاً سیاسی مسئلہ ہے اور اسے سیاسی طور پر ہی حل ہونا چاہیے۔ فوج پس پردہ رہ کر اپنا کردار ادا کرے تو حالات چند دنوں میں ٹھیک ہوسکتے ہیں۔ فوج کو کسی صورت یہ اپریشن نہیں کرنا چاہیے ۔ یہ فوج اور ملک پر مہلک وار ثابت ہوسکتا ہے۔