پاکستان.... عظیم مزاحمتی نظریہ اور ریاست

امریکی، یورپی اور بھارتی دانشوروں نے پاکستان کے تاریک مستقبل کے بارے میں کئی کتب، سروے اور رپورٹ شائع کیں۔ امریکی یہودی مصنف ”رائزنگ“ کی کتاب کو عالمی شہرت بھی میسر آئی۔ پاکستان مخالف عالمی دانشوروں کا موقف تھا کہ پاکستان کا انحصار عالمی امداد اور قرضوں پر ہے۔ قرض کی مے سے ترقی نہیں ہوتی۔ البتہ پریشانی بڑھتی ہے۔ نیز پاکستان میں اسلامائزیشن (قرآن و سنت کے نظام کا سرکاری نفاذ) فرقہ واریت اور انتہا پسندی کو جنم دے گی۔ یہ دونوں امور پاکستان کو انتظامی لحاظ سے ایک ناکام ریاست بنا دیں گے۔ مزید براں یہ بھی کہا اور لکھا گیا کہ جنرل محمد ضیاالحق نے افغانستان میں روس جیسی آہنی اور ناقابل شکست عالمی طاقت سے ”پنگا“ لیا ہے۔ پاکستان کو یہ پنگا مہنگا پڑے گا۔ مذکورہ عالمی پروپیگنڈہ دانشوروں نے مزید فرمایا کہ قائداعظم سیکولر تھے مگر ضیاالحق کی اسلامائزیشن پاکستان کے مزید ٹکڑے کر دے گی۔ درایں تناظر اور نظریات کے باوجود پاکستان قائم ہے۔ اسلام کے طور پر ابھر رہا ہے۔ پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا میں بلکہ تمام دنیا میں ایک طاقتور نظریہ حیات حصار اسلام ہے۔ یہ ہر کٹھن گھڑی سے کامیابی کے ساتھ نکل آتا ہے۔ اس کامیابی کی بازگشت اتنی زوردار ہے کہ ناروے کا سفید فام شہری آندرے ببرنگ بریوک نے اپنے وزیراعظم جینسس سٹالٹن برگ کے دفتر کو نقصان پہنچایا اور سرکاری تربیتی کیمپ پر حملہ کر کے 94نوجوان مار دیے اور اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ یورپ میں پاکستانائزیشن Pakistanisation ہو رہی ہے اگر نظریہ پاکستان کا تدارک نہ ہوا تو موجودہ صدی کے آخر تک یورپ میں کئی پاکستان بن جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی برادری پاکستان کو ختم کرنے کے درپے ہے مگر پاکستان دنیا کی عظیم مزاحمتی، جہادی اور جوہری قوت بن کر قائم و دائم ہے اور رہے گا۔ پاکستان ریاست مدینہ کی طرح عظیم مزاحمتی ریاست ہے۔ اس کا قیام بھی مزاحمت کا ثمر ہے اور اس کا استحکام بھی مزاحمت میں مضمر ہے۔ اشتراکی روس نے ہندو بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو (خاکم بدہن) ختم کرنا چاہا مگر پاکستان کی عظیم جہادی مزاحمت کے سامنے خود ختم ہو گیا۔ اشتراکی روس کے بعد سرمایہ دار امریکہ نظریاتی مزاحمتی پاکستان کو ختم کرنے کے لئے حملہ آور ہوا۔ مگر آج اپنی معاشی بربادی کی قبر میں دفن ہوتا نظر آ رہا ہے۔ امریکی معیشت کی سانس آکسیجن کے مصنوعی تنفس پر قائم ہے جو زیادہ عرصہ نہیں چل سکتی۔ امریکہ کا انجام بھی روس کی طرح جغرافیائی شکست و ریخت ہو گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پاکستان بے شمار مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ مسائل کا حل نیت اور ہمت سے ہوتا ہے۔ نااہلی اور غیروں کی غلامی سے نہیں۔ پاکستان کے جملہ مسائل کا واحد حل غیرملکی مداخلت کا خاتمہ ہے۔ اور یہ کام عظیم تر مزاحمتی طاقت کے ظہور کی نوید ہے۔ پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی مزاحمتی تحریک کو کچلنے یا ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اور انشااللہ آئندہ بھی ناکام رہے گی۔ پاکستان کا مقدر طاقتور اسلام ہے جس کی نمود اور ظہور ہو کر رہے گا۔ خواہ یہ امر کفار و مشرکین یا عالمی اتحادی ممالک کو کتنا ہی برا لگے۔