فوج آ رہی ہے؟

فہد حسین
کراچی میں آٹھ مہینے میں جب ایک ہزار لاشیں گریں گی تو یہ سوال تو اٹھے گا۔ جب پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے بازار خالی اور قبرستان بھریں گے تو یہ بات تو ہو گی۔ چنانچہ آج، فوج کو اقتدار سے باہر کرنے کے ساڑھے تین سال بعد، فوج کو واپس بلانے کیلئے آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ پاکستان کی سیاست کا پہیہ ایک بار پھر گھوم کر وہیں رک رہا ہے، جہاں سے چلا تھا۔
کراچی کو فوج کے حوالے کرنا ایک متنازعہ بحث ہے۔ دونوں اطراف سے وزنی دلائل پیش کیے جا رہے ہیں مگر ان تمام تر دلائل کے باوجود ایک تلخ حقیقت جوں کی توں ہے۔ اور وہ ہے روز کی قتل و غارت، آئے دن جنازے، روز روز کا ماتم۔ دو چار دن صورتحال خراب ہو تو پھر بھی کہا جا سکتا ہے کہ کنٹرول ہو جائےگی اور کوئی نہ کوئی سیاسی یا انتظامی توڑ نکل آئےگا مگر جب مہینوں تک ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری رہے۔ جب مہینوں تک کھلے عام قتل و غارت ہو، جب مہینوں تک سیاسی جماعتیں بیانات کے علاوہ کچھ نہ کر سکیں اور جب مہینوں تک پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنےوالے ادارے خاموش تماشائی بنے رہیں تو پھر فوج بلانے کا آپشن زور پکڑنا شروع ہو جائےگا اور اب ایسا ہو رہا ہے۔ اسی حوالے سے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر ہو چکی ہے اور مختلف سیاسی حلقوں سے بھی فوج کو بلانے کے مطالبات فضا میں گونجنا شروع ہو گئے ہیں۔
وجہ کچھ زیادہ پیچیدہ نہیں ہے۔ کراچی کی تین بڑی جماعتیں ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی بری طرح اپنے ہی بنے ہوئے چنگل میں پھنس چکی ہیں۔ انکی مفادات کی جنگ انکی سیاست پر اس حد تک حاوی ہو چکی ہے کہ اب کسی ایک فریق کا ثالث کا کردار ادا کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ تینوں ہی حکومت کا حصہ رہ چکی ہیں اور اب روٹھی ہوئی ایم کیو ایم کو ایک بار پھر کابینہ میں شامل کرنے کیلئے حتی الامکان کوشش ہو رہی ہے۔ یعنی ایک طرف سطحی مفاہمت کے میٹھے بول تو دوسری طرف مفادات کی رسہ کشی۔ اس موت کے کھیل میں تینوں جماعتیں کھلاڑی کا کردار ادا کر رہی ہیں، ریفری کوئی نہیں ہے۔
اور ریفری کا ہونا ضروری ہے۔ یہ ان سیاسی جماعتوں کی تنگ نظری ہے۔ اور انکی بہت بڑی ناکامی ہے کہ اب ایک بار پھر شاید اس ریفری کا کردار فوج کو ادا کرنا پڑے۔ جب آئے روز شہر کراچی میں لاشوں کے انبار لگ رہے ہوں تو جمہوری نظام کو برقرار رکھنے کے تقاضے کچھ بے معنی سے لگتے ہیں۔ اس جمہوریت کے پودے کو زرخیز کرنے کیلئے اور کتنی بوتل خون کی ضرورت ہے؟
اس وقت اولین ترجیح ہے قتل و غارت کو روکنا اور قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانا۔ اگر حکومت یہ کرنے میں کچھ حد تک بھی کامیاب ہوتی اور اگر اس نے چند ایک ٹھوس اقدامات بھی اٹھائے ہوتے اور اگر یہ امید ہوتی کہ خلوص نیت سے صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور مثبت نتائج بہت جلد نظر آئینگے تو شاید فوج کی نوبت نہ آتی۔ اگر شہر کراچی میں سکون اور اس نام کی کوئی شے افق پر بھی نظر آتی تو کچھ صبر کیا جا سکتا تھا۔ مگر ایسا ہونے کا امکان اب نہ ہونے کے برابر ہے۔اگر فوج نے آنا ہے تو کیسے؟ آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ حکومت بگڑتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوج کو ایک محدود مینڈیٹ دے سکتی ہے۔ مگر فی الحال حکومت کے بیانات سے لگتا نہیں کہ وہ کراچی کو فوج کے حوالے کرنے پر راضی ہے۔ کیا سپریم کورٹ اس حوالے سے آئین کی روشنی میں فوج کو ایسا حکم دے سکتی ہے؟
آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر حکومت نے حکم دیا تو فوج کراچی میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔ فوج کے آنے سے کراچی کے تمام تر سیاسی مسائل حل نہیں ہو جائینگے اور نہ ہی ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، لسانی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کا مستقل خاتمہ ہو جائےگا۔ مگر کم از کم یہ تو شاید ہو جائے کہ کراچی میں ریاست نامی ایک چیز موجود ہے۔ کم از کم یہ تو ہو جائے کہ شہر میں دندناتے قاتلوں کو لگام دینے والا موجود ہے۔
حکومتی حلقوں میں یہی تشویش ہے کہ یہ لگام دینے والا سیاسی جماعتوں کو بھی نکیل ڈال دےگا اور اگر یہ سب کچھ سپریم کورٹ کی آئینی چھتری تلے ہوا تو پھر شاید حکومت کے تمام تر شبہات حقیقت میں بدلنا نہ شروع ہو جائیں۔ پچاس کی دہائی میں جب ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں لاہور کو فوج کے حوالے کیا گیا تو حکومتی نااہلی سے بیزار عوام نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی تھیں۔ لاہور کی خراب صورتحال کو دنوں میں ٹھیک کر کے فوج نے تب جو عوامی پذیرائی کمائی، اس نے ایوب خان کے مارشل لاءکی راہ ہموار کی تھی۔ نصف صدی پہلے سیاسی حکمرانوں کی نالائقی نے فوج کو ان کا پھیلایا ہوا گند صاف کرنے کا موقع دیا تھا۔ آج اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی لگتا ہے پاکستان کے سیاستدانوں نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا۔ کراچی کو اگر فوج کے سپرد کیا جاتا ہے تو یہ سیاسی قیادت کی ناکامی ہو گی اور اس قیادت کی سب سے بڑی سزا بھی۔