دو قومی نظریہ کی نشاة ثانیہ!ایوان قائد اعظم

کالم نگار  |  کرنل (ر) اکرام اللہ

پوری پاکستانی قوم کو مبارک ہو کہ محترمی مجید نظامی کی برسوں پر محیط کاوشوں کے باعث 20 اگست 2011ءبمطابق 19 رمضان المبارک 1433ھ کے روز سعید بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نام نامی سے منسوب اولین عمارت ”ایوان قائد اعظم“ کے تعمیراتی کام کا تاریخ ساز آغاز وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی‘ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین اور نوائے وقت گروپ آف نیوز پیپرز کے ایڈیٹر ان چیف محترمی مجید نظامی اور گورنر پنجاب عزت مآب سردار محمد لطیف کھوسہ کے ہاتھوں سے سر انجام پایا ہے
ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشند خدائے بخشندہ
اس تاریخی کارنامہ نمایاں کا اعزاز ایک ایسا ہمیشہ زندہ رہنے والا کارنامہ ہے۔ جسے خداوند کریم اور بانی قوم قائداعظم کی خوشنودی اور تائید حاصل ہے کہ ”ہندوستان“ کی سرزمین پر دو قومی نظریہ کی بناءپر پاک سرزمین ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ وجود میں آیا جس سے اسلام کی نشاة ثانیہ نے جنم لیا ہے۔ پاکستان دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہونے کا اعزاز رکھتا ہے اور اس پر طرہ یہ کہ اللہ تعالی نے اسے اسلامی دنیا کی واحد نیوکلیئر طاقت ہونے کا اعزاز بھی بخشا ہے۔ اسے حضرت علامہ کے 1930ءکے آل انڈیا مسلم لیگ کے الٰہ آباد کے خطبہ میں دنیا کے سامنے دو قومی نظریہ کی بناءپر ”تصور پاکستان“ پیش کرنے اور بیرسٹر محمد علی جناح کو انگلستان سے واپس ہندوستان آ کر مسلمانان برصغیر کو اپنی عظیم ولولہ خیز قیادت کے تحت 14 اگست 1947ءکے مبارک دن ایک آزاد مسلمان ریاست کا معجزہ ممکن بنا دیا۔ جناب مجید نظامی نے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے نام پر لاہور میں تاریخی اور سب سے پہلے ”ایوان اقبال“ کا تحفہ قوم کو پیش کیا۔ چنانچہ مجید نظامی کی ذات گرامی نے ایوان اقبال ”اور اب ایوان قائداعظم کے تاریخی پراجیکٹ کا نادر اور بے مثال کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ ایوان قائداعظم کی سنگ بنیاد کی تقریب سعید کا بنیادی پیغام جناب مجید نظامی نے چند لفظوں میں قوم کے سامنے یوں بیان فرمایا ہے جیسے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا جائے۔ ”وطن عزیز کو آج کل جتنے بھی مسائل درپیش ہیں‘ ان کی بنیادی وجہ قائداعظم کے نظریات و تصورات سے انحراف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا ملک نظریاتی انتشار‘ لسانی و نسلی بنیادوں پر محاذ آرائی‘ مسلح گروہوں کی ہلاکت آفرینیوں‘ دہشت گردی‘ غربت‘ مہنگائی اور بیروزگاری جیسے مسائل میں مبتلا ہے۔ ان سب پر مستزاد پاکستان کے نام نہاد دوست امریکہ کی طرف سے ہماری داخلی خود مختاری کی مسلسل پامالی ہے۔ درحقیقت قائداعظم کے فرمودات سے روگردانی کے باعث آج ہماری حاکمیت اعلی داﺅ پر لگ چکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قائد اعظم کی شخصیت و کردار کو اجاگر کرنے کیلئے اور پاکستان کی نئی نسل کو قائد اعظم کے حیات آفریں نظریات سے روشناس کرانے کیلئے جنگی بنیادوں پر ایک مربوط حکمت عملی وضع کرکے اس پر فی الفور عملدرآمد کا آغاز کر دیا جائے۔ ایوان قائداعظم کی تعمیر ان اعلیٰ و ارفع مقاصد کے حصول اور پاکستانی قوم کے اذہان و قلوب میں بابائے قوم کے فرمان ”ایمان‘ اتحاد‘ تنظیم“ کو جاگزیں کرنے میں ایک درخشاں سنگ میل ثابت ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میری دعا ہے کہ وہ ہمیں وطن عزیز کو قائد اعظم اور علامہ محمد اقبال کے تصورات کے عین مطابق ایک جدید اسلامی جمہوری فلاحی مملکت بنانے کی جدوجہد میں کامیابی عطا فرمائے۔ (آمین)
قوم کو جھنجھوڑ کر نئی نسل کو حضرت قائد اعظم کے فرمودات کا حلقہ بگوش بنانے کا فریضہ جس جانفشانی اور عقیدت سے محترمی مجید نظامی ادا کر رہے ہیں وہ ہمالیہ کو سر کرنے اور ہفت قلزم طے کرنے سے کم نہیں ہے لیکن گزشتہ دو دہائیوں کے قلیل عرصہ میں بحیثیت صدر نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور بحیثیت مدیر اعلیٰ نوائے وقت اپنے قلم سے تلوار کا کام لیتے ہوئے اس جہاد میں جو کامیابیاں انہوں نے حاصل کی ہیں وہ ایک معجزہ سے کم نہیں ہیں۔ مجھے یقین کامل ہے کہ آپ جگر کا خون دے کر نخلستان جناح میں جو پودے لگا رہے ہیں وہ آنے والے سالوں میں پورے عالم اسلام میں ایک ایسا چمنستانِ امن عالم بن کر مہکےں گے کہ جس پر اقبال اور جناح کی روحیں فخر کریں گی۔