جادو کی چھڑی

قیوم نظامی
پاکستان کے عوام کے ساتھ اس سے بڑا سنگین مذاق اور کیا ہو گا کہ منتخب حکمران 4 سال اقتدار کے مزلے لوٹنے کے بعد عوام سے پوچھتے ہیں کہ ان کے پاس وہ کون سی جادو کی چھڑی ہے جس سے عوام کے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں۔ عوام انتخابات میں اپنے ووٹ دے کر سیاست دانوں کو حکومت کرنے کیلئے جو اعتماد دیتے ہیں سیاسی لغت میں اسے جادو کی چھڑی کہا جاتا ہے۔ سرور کائنات اور محبوب خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ تمام کائنات کےلئے بہترین ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کی بے مثال صداقت‘ امانت اور دیانت کی خوبیوں نے ناقابل یقین معجزے برپا کر دکھائے تھے۔ بت پرست آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے الامین کے نام سے پکارتے تھے۔ حکمران اگر نیک نیت ہوں تو حضور کی سیرت ان کےلئے مشعلِ راہ ثابت ہو سکتی ہے۔
حضرت عمرؓ نے اپنے تاریخ ساز ذاتی کردار سے کا م لے کر انصاف پر مبنی صاف اور شفاف نظام حکومت دیا کہ چودہ سو سال گزر جانے کے بعد بھی ان کے دور کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ نبی کا مقام اور مرتبہ تو نہایت اعلیٰ ہے اور کوئی انسان ان کے پاﺅں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہو سکتا البتہ تاریخ انسانی میں ایسی روشن مثالیں موجود ہیں کہ عظیم انسانوں نے اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل کرکے سیاسی معجزے برپا کر دئیے۔ قائداعظم کے پاس امانت‘ دیانت‘ صداقت اور اہلیت کی جادو کی چھڑی ہی تھی جس کی مدد سے انہوں نے مسلمانوں کا نیا ملک پاکستان دنیا کے نقشے میں شامل کرا لیا۔ وہ انگریزی میں تقریر کرتے تو ان پڑھ چھابڑی فروش بھی تالی بجاتا کیونکہ اسے اعتماد ہوتا کہ اس کا قائد جو کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے۔ جبکہ آج کے حکمرانوں کا عوامی اعتماد اس حد تک گر چکا ہے کہ عوام ان کے سچ کو بھی سچ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔
حکمران اور سرکاری ملازمین اگر جادو کی چھڑی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو وہ نیلسن منڈیلا اور لی کو ان (سنگا پور) کی سوانح حیات پڑھ لیں اور عبدالستار ایدھی سے ملاقات کر لیں۔ مہاتیر محمد سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے ملائشیا کو ایشین ٹائیگر کیسے بنایا۔ انہوں نے جواب دیا کہ اپنے خاندان کو مالی طور پر مستحکم بنانے کی بجائے ملائشیا کو معاشی طاقت بنانے کا فیصلہ کرکے۔ جادو کی چھڑی ہر منتخب حکمران کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہ چاہے تو اسے ملک سنوارنے اور عوامی مسائل حل کرنے کےلئے استعمال کرے یا لوٹ مار کرے۔ بھٹو شہید نے عوامی اعتماد‘ محنت اور اہلیت (جادو کی چھڑی) سے تین سال کے اندر اقتدار حاصل کر لیا اور پاکستان کو پہلی اسلامی ایٹمی ریاست بنانے میں کامیاب ہوئے۔ جنرل ضیاءالحق ان کے خلاف کرپشن کا ایک الزام بھی ثابت نہ کر سکا جبکہ آج کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔ 1972ءمفاداتی سیاست نہیں نظریاتی سیاست کا دور تھا۔ پی پی پی کے کارکنوں نے ایک محاسبہ کمیٹی تشکیل دی۔ بھٹو شہید احتساب میں یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے میرے اور سیف اللہ کے ساتھ ملاقات میں اس آئیڈیا کو بہت سراہا اور محاسبہ کمیٹی کے پمفلٹ پر گورنر پنجاب مصطفی کھر کو یہ نوٹ لکھا۔ \\\"Please meet these youngmen and discuss\\\" ترجمہ:۔ ”ان نوجوانوں سے ملاقات کرکے میرے ساتھ تبادلہ خیال کریں“۔ یہ نوٹ ریکارڈ میں موجود ہے۔ پی پی پی محاسبہ کمیٹی کے رکن معروف شاعر اور اینکر جناب اعزاز احمد آزر زندہ گواہ ہیں۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ ابن الوقت سرکاری ملازمین اور خوشامدی سیاست دان حاکم وقت کو خوش کرنے کےلئے سابق حکمرانوں کے عیب نکالنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور متوسط طبقے کے سچ لکھنے والوں کو تنقید اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ جن سرکاری ملازمین نے کبھی سیاسی جلسے جلوسوں میں شرکت نہ کی ہو، پولیس کی لاٹھی نہ کھائی ہو، جمہوری جدوجہد میں ایک دن کی جیل نہ کاٹی ہو انہیں سیاسی تبصرے لکھنا اور سیاسی فتوے صادر کرنا زیب نہیں دیتا۔
بنے ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
”مک مکا“ صحافت کے میدانوں میں نہیں اقتدار کے ایوانوں میں ہوا کرتا ہے۔ اللہ سے ڈرنے والے وفاقی اور صوبائی حکمرانوں سے نہیں ڈرا کرتے۔ یہ بات اصولی طور پر درست ہے کہ تجزیہ نگاروں کو وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ بھی لینا چاہئے۔ مسلمانوں کے ملک میں صوبائی اور وفاقی حکمران وہ بنیں جن کی امانت‘ دیانت‘ صداقت اور اہلیت شک و شبہ سے بالاتر ہو۔
لو وہ بھی کہ رہے ہیں کہ بے ننگ و نام ہے
یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں