’’بلیو وہیل گیم‘‘

کالم نگار  |  مسرت قیوم
’’بلیو وہیل گیم‘‘

دنیا بھر سے خبریں آرہی تھیں کہ قاتل گیم پر نظر رکھیں ۔یہ بچوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے ۔لیکن ہمارے سکیورٹی کے ادار ے لمبی تان کر سوئے رہے،ویسے یہ کیسا کھیل ہے ،کھیل میں جیتنے کے بعد کھلاڑی کو انعامات سے نوازا جاتا ہے ، دلجوئی کی جاتی ہے ،اس کا مقصدکھلاڑی کی ڈھارس بندھاکرحوصلہ افزائی کرنا ہوتا ہے۔لیکن بلیو وہیل ایک ایسی ’’گیم ‘‘ہے جس کی جیت پر موت کو گلے لگا نا پڑتا ہے۔ 50چیلنجز پر مشتمل ’’گیم ‘‘کا آخری چیلنج’’ خودکشی‘‘ ہے۔

’بلیو وہیل چیلنج‘ کو ابتدائی طور پر 2013 ء میں بنایا گیا، لیکن پہلے ورجن میں یہ گیم ’’خطرناک‘‘ نہیں تھی، اس وقت اس گیم کو کم عمر بچوں تک پھیلایا گیا، اور اس میں تفریحی ویڈیوز دکھائی گئیں۔’بلیو وہیل چیلنج‘ گیم کے نئے اسٹائل کو انتہائی’’ خفیہ‘‘ رکھا گیا، جسے نہ صرف ’وی کے‘ جیسی سوشل ویب سائٹس بلکہ دیگر عالمی سوشل اینڈ میسیجنگ ایپلی کیشنز جن میں واٹس ایپ، فیس بک اور میسیجر شامل ہیں کے ذریعے ان کم عمر افراد تک پھیلایا گیا، جو ڈپریشن، پریشانی اور ناخوش زندگی گزار رہے تھے۔لیکن اس گیم کا خطرناک آغاز2015ء میں روس کے 22سالہ نفسیات کے طالب علم فلپس بڈیکن نے کیا تھا،یہ موت کا کھیل دنیا کے کئی ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ 130 افراد اسے کھیلنے کے بعد خودکشی کر چکے ہیں۔خودکشی ’’مایوسی‘‘ اور’’ ناامیدی‘‘ کی علامت ہے، معاشرے میں امید کی روشنی بڑھانے کے بجائے ناامیدی کا اندھیرا پھیلانے کی کوشش کو کسی بھی سطح پر پذیرائی نہیں مل سکتی۔
بلیو وہیل’’ چیلنج ‘‘نے دنیا میں خو ف پھیلا یا ہوا ہے، اسکے کھیلنے والوں کو مختلف ٹاسک دیئے جاتے ہیں، مثال کے طور پر صبح چار بجے سوکر اْٹھنا، ڈرائونی فلمیں دیکھنا، اونچی عمارتوں پر چڑھنا اس طرح کے مختلف خطرنا ک ٹاسک کھیلنے والوں کو دیئے جا تے ہیں۔جنہیں پورا کرنا ضروری ہو تا تھا، اس کی سب سے خطرنا ک بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ اس گیم کا حصہ بننے کے بعد اسے ختم کرنا مشکل ہوتا ہے، آخری ٹاسک میں خودکشی ہے، جسے پورا کرنا ہی کھیل کا ’’خاتمہ‘‘ ہے اور لوگ اسے انجام دینے کیلئے موت کو منہ لگا لیتے ہیں۔یہ گیم دراصل’’ وائرس‘‘ کے طورپر کام کرتا ہے،اس گیم کی با قاعدہ کوئی ایپلیکیشن نہیں ہے، یہ ایک لنک کی صورت میں ملتا ہے اور اس کو شروع کرتے ہی وائرس کھیلنے والوں کی ڈیوائس میں منتقل ہوجاتا ہے اور کھلاڑی کی تمام معلومات حاصل کر کے اسی انفارمیشن کی بنیاد پر آپریٹر مختلف ٹا سک پورا کرنے کو کہتا
ہے۔روس سے شروع ہونے والے گیم نے ان دنوںپاکستان میں کافی خوف پھیلا یا ہوا ہے۔حال ہی میں امریکی ایجنسی کی اطلاع پر ایف آئی اے نے 3ایسے لڑکو ں کو گرفتار کیا ہے جو اس جان لیو ا کھیل کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔یہ کھیل نوجوانوں کو نفسیاتی، سماجی اور دیگر طریقوں سے ’’ورغلانے ‘‘کی کوشش کرتا ہے، بچوں پر اس کا حملہ بڑی جلدی موثر ہوتا ہے، کیونکہ بچے پیسوں کے لا لچ میں یا کسی اور دبائو کے نتیجے میں ان ہدایات پر عمل شروع کر دیتے ہیں۔اب اس گیم کا ’’لنک‘‘ مختلف واٹس ایپ گروپس کے ذریعے لوگوں کو بھیجا جارہاہے جس کے کھیلنے والے کے مصیبت کے دن شروع ہوجاتے ہیں، اس پر شرطیں لگائی جاتی ہیں، جوبڑی ’’عامیانہ‘‘ اور بیمار قسم کی ہیں۔ جو ایک قسم کی’’ ذہنی کجی‘‘ ہے ۔بلیو وہیل’کا ’’کوڈ ورڈ ‘‘اس لیے رکھا گیا کہ جس طرح ریت میں پھنسی ’’وہیل ‘‘کے بچنے کی کوئی امید نہیں ہوتی ،اسی طرح اس کھیل کو شروع کرنے والے کے’’ بچنے ‘‘کی بھی کوئی امید نہیں ہوتی۔گیم کھیلنے والے سے پہلے اس کا نام، والدین کا نام، گھر کا
ایڈریس،روزہ مرہ زندگی کی عادات، میوزک کون سا پسند ہے، کیسی موویز پسند ہیں، کیا کھانا پسند ہے، سمیت ہر قسم کی معلومات لی جاتی ہیں۔اس کے بعد اسے ہلکے پھلکے ٹاسک دئیے جاتے ہیں جو بہت آسان اور ’’مزاحیہ‘‘ ہوتے ہیں جیسا کہ گرما گرم کافی دو گھونٹ میں پی جانا۔۔صبح چار بجے اٹھنا، رات کو اکیلے میں ڈرونی فلم دیکھنا وغیرہ وغیرہ۔۔آہستہ آہستہ یہ ٹاسک خطرناک ہوتے جاتے ہیں جیسا کہ بلیڈ سے اپنے بازو پر ایک’’ کٹ ‘‘لگانا، لائیو کیمرہ چلا کر بلیڈ سے اپنی ران پر’’ یس‘‘ لکھنا، کسی اونچی عمارت پر سے ’’ٹانگیں لٹکا‘‘ کر بیٹھنا۔اس کے بعد آخری ٹاسک میں آپ کو’’ خود کشی‘‘ کرنے کا کہا جاتا ہے۔ خاص کر ’’ٹین ایجز‘‘ اسے بطور ’’فن ‘‘شروع کرتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ احساس ہو جاتا ہے کہ ہم دلدل میں پھنس چکے ہیں۔در حقیقت یہ ایک مجرمانہ گروپ کی کارستانی ہے ،بلیو وہیل میں کل پچاس دنوں میں’’50‘‘ چیلنجز ہوتے ہیں۔آخری اور پچاسواں چیلنج’’ خود کشی‘‘ کا ہوتا ہے۔مختلف مراحل سے گزر کر’’بچہ‘‘ نفسیاتی طور پر اتنا ڈسٹرب اور تباہ ہو چکا ہوتا ہے کہ وہ مزاحمت کے قابل نہیں رہتا، اسے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ نہ مریں تو آپ کی ماں کو مار دیا جائے گا ،جس کے خوف سے وہ خودکشی کی جانب بڑتا ہے۔گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر خطرناک ویڈیو گیم ’بلیو وہیل‘ سے متعلق حیران کن خبریں شیئر ہو رہی ہیں، جن میں سے کئی خبریں ایسی ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں،ایسا نہیں ہے کہ’’بلیو وہیل‘‘ کی وجہ سے دنیا بھر میں اموات نہیں ہوئیں، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، لیکن یہ ضرور ہے کہ اس کے متعلق خبریں بڑھا چڑھا کر پیش کی جا رہی ہیں۔اور حیران کن بات یہ ہے کہ اس گیم سے متعلق پاکستانی لوگ پریشانی کے بجائے ’’مزاحیہ انداز‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ایسی پوسٹیں شیئر کر رہے ہیں کہ وہ بھی یہ گیم کھیل کر یہ آزمانا چاہتے ہیں کہ ’ایک گیم کس طرح انسان کو خودکشی پر مجبور کرتی ہے‘۔
فروری 2017 میں پہلی بار ’بلکان انسائٹ‘ نے خبر دی کہ بلغاریہ کے حکام نے والدین اور عوام کو خطرناک روسی ویڈیو گیم سے متعلق خبردار کیا ہے، تاہم اس وقت تک بلغاریہ میں اس گیم کی وجہ سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی تھی۔پاکستان میں اس گیم کے حوالے سے مختلف چہ مگوئیاں جاری ہیں، تاہم اب تک ملک میں اس گیم کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوسکی۔یکم ستمبر 2017 کو انفارمیشن ٹیکنالوجی ’آئی ٹی‘ کے ماہرنے بتایا کہ پاکستان میں ’بلیو وہیل‘ گیم اب تک نہیں آسکی، کیوں کہ یہاں کے انٹرنیٹ سیکیورٹی ادارے اور ویب سائٹس اس گیم کی انٹری کو روکنے میں مصروف عمل ہیں۔ تاہم ’بلیو وہیل‘ گیم کی پاکستان میں انٹری کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کسی بھی کم عمر انٹرنیٹ صارف کو کسی کی جانب سے سوشل یا میسیجنگ ایپ کے ذریعے گیم کھیلنے کی دعوت موصول ہوسکتی ہے۔جیسے چند روز قبل صوبائی دارلحکومت سے کچھ لڑکے پکڑے گئے ہیں ۔اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ جان لیوا گیم کسی نہ کسی حد تک پاکستان میں موجود ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اپنے بچوں کی انٹرنیٹ کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور اس گیم یا ایسی کسی بھی غلط سمت میں انہیں جانے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔ہمارے ملک میں بھی اس گیم جیسے ہی حالات ہیں ۔جو چپکے سے عوام کو بیروزگاری کے منہ میں دھکیل کر موت تک پہنچا رہے ہیں ۔جیسے قانون نافذ کرنے واکے ادارے وہاں سوئے رہے ۔ان حالات پہ بھی وہ خاموش ہیں ،جو لمحہ فکریہ ہے ۔