صحافت کے عظیم مینار .... ڈاکٹر مجید نظامی

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک
صحافت کے عظیم مینار .... ڈاکٹر مجید نظامی

ایک واقعہ یاد آ رہا ہے کہ جب تحریک خلافت زوروں پر تھی تو مولانا محمد علی جوہر نے علامہ اقبالؒ کی خدمت میں ایک جذباتی خط لکھا ”برادرم کیا تم وہی ہو جس نے اپنی شاعری سے قوم کو تڑپایا‘ رلایا اور اس کے سینے میں ایک آگ سی لگا دی‘ جس نے شکوہ اور جواب شکوہ لکھا‘ جس نے ”طلوع اسلام“ لکھی۔ اب جب قوم میدان میں نکلی ہے تو خود کونے میں دبک کر بیٹھ گئے ہو‘ اٹھو میدان میں نکلو‘ اپنے آپ کو پیش کرو‘ فلاں تاریخ کو باپو گاندھی لاہور سے گزر رہا ہے ان کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرو“۔
علامہ اقبال نے اس خط کا یوں جواب دیا.... ”برادرم! یہ ٹھیک ہے قوم میدان میں آ گئی ہے لیکن میں تو قوم کا قوال ہوں اور قوال کو کچھ بھی ہو جائے ”حال“ میں نہیں آتا اگر قوم کو حال آ گیا ہے تو مجھے ایک نئے جذبے کے ساتھ قوالی کرنا چاہئے اگر مجھے حال آ گیا تو محفل برہم ہو جائے گی اور جہاں تک آپ نے گاندھی کو ”باپو“ کہا.... اس سلسلے میں دو مصرعے عرض کرتا ہوں۔
مسلمانے کہ کافر را پدر است
اگر مارا برادر گفت بد گفت
ڈاکٹر مجید نظامی میدان صحافت میں مولانا محمد علی جوہر کی طرح جذباتی نہیں تھے بلکہ صحافت میں علامہ اقبال کی طرح اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ قوال کو ”حال“ نہیں آنا چاہئے کیونکہ جب قوم کو حال آ گیا ہو تو قوال کو ایک نئے جذبے کے ساتھ قوالی کرنا چاہئے تاکہ محفل برہم نہ ہو جائے۔ احمد ندیم قاسمی کا شعر ہے ....
زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیم
بجھ تو جا¶ں گا مگر صبح تو کر جا¶ں گا
اقبال کے شعر کے دوسرے مصرعے کے مطابق مجید نظامی گاندھی کو ”باپو“ کہنے کو ”بد“ ہی سمجھتے تھے۔ تازہ ترین صورتحال میں فادرز ڈے پر قدرت نے ہندوستان والوں کو اس شوخی سے محروم کر د یا جس کی وجہ سے وہ ”باپ“ بننے کی کوشش میں تھے اور سب جانتے ہیں کہ مجید نظامی ہندوستان کی حرکات کی وجہ سے ”ہندو“ پر کبھی اعتماد نہ کرنے کے اصول پر قائم دائم رہے اور یہ باور کراتے رہے کہ یہ ایسا ہمسایہ ہے جس پر کبھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ 1965ءکی پاک بھارت جنگ کے دنوں کے واقعات کو مجید نظامی عجیب سرشاری کے عالم میں سنایا کرتے تھے۔ آج بھی مجھے ان کے تاثرات یاد ہیں جو اپنی یادداشتوں کی کتاب مرتب کرواتے وقت 1965ءکی جنگ کے واقعات بیان کرتے ہوئے ان کے چہرے پر جگمگائے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ”ملک میں مہنگائی کا وجود نہیں تھا بلکہ کھانے پینے کی وافر مقدار میں اشیاءموجود تھیں اور کسی جگہ پر لوٹ مار یا ذخیرہ اندوزی کا کوئی تصور نہیں تھا اور پوری قوم اس جنگ میں شریک تھی۔ لڑاکا جہازوں کی ہوائی جنگ لاہوریے اس شوق سے دیکھتے تھے جیسے کشتیاں اور کبڈی دیکھا کرتے تھے“ اور ہر آمر کے خلاف آواز بلند کرنے والے مجید نظامی صدر ایوب کے بارے میں کہتے تھے کہ صدر ایوب نے یہ جنگ کلمہ پڑھ کر شروع کی تھی کیونکہ یہ ایک قسم کا جہاد تھا اور اس وجہ سے ملک میں کسی طرح کے ”جنگی بحران“ کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ بدقسمتی سے اب بظاہر امن و امان کی صورت میں بھی رمضان کے مہینے میں بھی مہنگائی اور لوٹ مار کا بازار حسب روایت گرم رہا ہے مگر اس بات سے حکمرانوں اور ان کی اولادوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ عوام کے مسائل سے دور وہ شہزادہ شہزادیوں والی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ کلمہ کے نام پر حاصل کئے گئے ملک میں قدرت کا ”مکافات عمل“ اپنی جگہ پر موجود رہتا ہے جس کے ثبوت میں وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ عوام کی طرح نہ سہی اور پرآسائش انداز میں ہی سہی مگر عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور کر دئیے گئے ہیں اور یہ بات کسی بھی طرح ان کے لئے باعث عزت و تکریم نہیں ہے۔ مجید نظامی کے ساتھ رفاقتوں کے دنوں کی ہی بات ہے کہ میں ہندوستان میں امن کانفرنس میں شریک ہو کر لوٹی تو حاضری کے لئے لاہور نوائے وقت کے آستانہ پر چل گئی۔ ڈاکٹر مجید نظامی سے فون پر وقت طے ہوا کرتا تھا اور مجید نظامی عموماً میرے پہنچنے کے فوراً بعد ہی مجھے ملاقات کے لئے بلا لیا کرتے تھے۔ میں نے ہندوستان کی کانفرنس کی روداد شروع کی تو وہ بولے ”آپ جانتی ہیں کہ ہندو¶ں پر ہم کبھی بھروسہ کرنے کا تصور نہیں کر سکتے کیونکہ وہ پشت سے حملہ کرنے کی اور نقصان پہنچانے کے رویے سے باز نہیں رہ سکتا“۔ میں نے کہا .... جی ہاں! میں اچھی طرح جانتی ہوں اور اس کانفرنس میں‘ میں آپ کی طرز کا فریضہ نبھا کر آ رہی ہوں .... تب میں نے انہیں ہندوستان کے صحافی کلدیپ نیر کا واقعہ سنایا کہ میرے تعارف کے بعد انہوں نے کہا .... ”نوائے وقتیے ہی وہ لوگ ہیں جو ایٹمی دھماکے کی حمایت میں تھے“.... اور مجید نظامی نے ہی نواز شریف سے کہا تھا ”دھماکہ کرو ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دے گی“۔ اس پر میں نے کلدیپ نیر سے سوال کیا کہ دونوں ملکوں میں سے پہلے دھماکہ کس نے کیا تھا؟ .... تو وہ بغلیں جھانکنے لگے۔ مجید نظامی بھارت اور امریکہ کی پالیسیوں کے بارے میں بڑا واضح موقف رکھتے تھے اسی طرح افغانستان کے بارے میں کھلم کھلا کہتے تھے کہ وہ ایسا چھچھوندر ہے جسے نہ ہم نگل سکتے ہیں اور نہ اگل سکتے ہیں اگر حکمران مجید نظامی کی زندگی یا پھر ان کی یادداشتوں کی کتاب کو سامنے رکھیں تو ایک جید صحافی کی کہی گئی باتوں سے مدد لے کر عالمی اور ملکی مسائل کے حل کے لئے پالیسی بنانے میں استفادہ کر سکتے ہیں کیونکہ خطے میں موجود عالمی سطح کے معاملات پر کوئی انقلابی تبدیلی آنے کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ وقت اور حالات نے ثابت کیا ہے کہ جب بھارت پر بھروسہ کیا گیا اس نے دھوکہ دیا۔ افغانستان کا معاملہ بھی اسی طرح کا ہے جبکہ آجکل سنا جا رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے خلاف بعض فیصلے کرنے جا رہی ہے تو پھر باقی یہی بات رہ جاتی ہے کہ خوشامد اور بے اصولی کی بجائے نڈر انداز میں مضبوط فیصلے کر کے ان پر قائم رہنے کی پالیسی اپنائی جائے۔ مجھے یاد ہے کہ نظریہ پاکستان کے قومی دن کے ایک اجلاس میں مجید نظامی گلے میں سرخ مفلر ڈالے ہوئے آئے تھے اور دراصل سرخ رنگ دشمن کو آنکھیںبھی دکھا رہا تھا اور زندگی کی علامت بھی تھا۔ مجید نظامی حریت پسند تھے‘ کشمیر موقف کی حمایت میں کھڑے رہتے تھے‘ بھارت پر کبھی بھروسہ نہ کرتے تھے مگر پرانے حالات میں خارجہ پالیسی میں وقت کی ضرورت کے مطابق امریکہ کی طرف جھکا¶ کا برا نہیں مناتے تھے لیکن 9/11 کے بعد کے حالات کو اور طرح سے دیکھتے اور سمجھتے تھے کہ اب امریکی دوستی کو قومی خود مختاری اور نظریاتی انفرادیت پر ترجیح نہیں دینا چاہئے۔ دراصل مجید نظامی کی برسی کے 27 رمضان کے اس موقع پر بے شمار باتیں ہیں جو روانی کے ساتھ بہتی چلی آ رہی ہیں۔ نظریہ پاکستان کی تقریبات میں تسلسل سے شریک ہونے والے کرنل (ر) امجد حسین سے بے انتہا محبت کیا کرتے تھے انہیں اپنے پہلو میں بٹھاتے تھے رمضان میں ہی وہ رخصت ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ سلامت رکھے جسٹس (ر) میاں آفتاب فرخ کو جن کے ساتھ مجید نظامی کی وجہ سے میرا بھی دیرینہ تعلق قائم ہوا۔ میری مجید نظامی سے بے شمار ملاقاتیں ہیں ان میں سے اکثر ملاقاتوں میں جسٹس (ر) آفتاب فرخ موجود ہوتے تھے اور چند ملاقاتیں ایسی ہیں جو ون ٹو ون میری اور مجید نظامی کی ہوئیں۔ جسٹس (ر) آفتاب فرخ نے ہی مجید نظامی کو خطاب دیا تھا کہ ”مجید نظامی نظریاتی سرحدوں کے کمانڈر انچیف ہیں“۔
مجید نظامی ذہانت‘ اعتماد اور جرات کی سعادتوں سے مالا مال تھے وہ فیض کو بحیثیت شاعر پسند کرتے تھے۔ اقبال بیگم کی غزلیں سنتے تھے اور ان کی حس مزاح بھی بہت تیز تھی۔ آفتاب فرخ نے لندن کا دلچسپ واقعہ سنایا تھا کہ وہ ”لنڈیز“ کافی شاپ میں گئے‘ خاتون ویٹرس آرڈر لینے آئی تو مجید نظامی کہنے لگے ”اے کڑی کہندی ہووے گی‘ اے بچے کتھے آ گئے نیں“ مجید نظامی آفتاب فرخ کے ساتھ ”گارڈینیا“ میں بھی بیٹھا کرتے تھے۔ ایک صاحب جو امریکہ کے لئے رپورٹنگ کیا کرتے وہ بھی آ کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ ایک دن آفتاب فرخ نے کہا ”اے وچ آجاندا اے‘ تے خاموشی کرنی پیندی اے“ تو مجید نظامی بولے .... ساڈے طفیل او وی دال روٹی چلدی اے سانوں کی“ مختصر مختصر جملوں میں کاٹ دار بات کہنے والے مجید نظامی 27 رمضان کی بابرکت رات اللہ کو پیارے ہو گئے تھے ان کی کمی پوری نہیں ہو سکتی مگر میرے لئے فخر اور اطمینان کی یہ بات ایک قیمتی سرمائے کی طرح موجود ہے کہ جسٹس (ر) آفتاب فرخ نے ایک تقریب میں ان کے سامنے مجھے ان کی ”روحانی بیٹی“ کہا اور ڈاکٹر مجید نظامی نے اس کی تردید نہیں کی۔
نگاہ میں ہیں زندگی کے خاص خاص واقعے
کہیں کہیں کوئی چراغ جل رہا ہے دیکھئے