’’اپنا بندوبست ‘‘

’’اپنا بندوبست ‘‘

عوام کی فلاح و بہبود جان و مال کی حفاظت ، بنیادی سہولتوں مثلاً صاف پانی، گیس،بجلی وغیرہ کی مناسب قیمتوں پر فراہمی ہر حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس حوالے سے جب ہم اپنے ملکی حالات کو دیکھتے ہیں تو بے انتہا مایوسی ہوتی ہے۔ کیونکہ آزادی کے بعد قائم ہونے والی تقریباً ہر حکومت اپنے فرائض کی ادائیگی میں نا کام کامیاب رہی ہیں۔ موجودہ صورت حال کے مطابق کہ حکومت لوگوں کو بنیادی سہولیات مہیا کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ اور اس وقت ملک میں ’’اپنا بندوبست‘‘ کا نظام قائم ہے۔ مثلاً ملک میں گیس نہیں سلنڈر استعمال ہو رہے ہیں۔ سرکاری سطح پر صاف پانی کی فراہمی ناپید ہے چنا نچہ تقریباً ہر گھر میں پانی کی موٹریں نصب کرنی پڑ رہی ہیں۔ بجلی کے صرف لمبے لمبے بل آئے ہیں۔ بجلی نہیں آتی اس لئے ہر جگہ جنریٹر اور یو پی ایس یعنی متبادل ذرائع استعمال ہو رہے ہیں۔ جہاں تک عوام الناس کی جان ومال کا تعلق ہے تو اُس کی حفاظت قطعی طور پر ذاتی ذمہ داری ہے۔ جب کہ ہمارے سیاسی عمائدین 15سے 25 تک مسلح افراد کوجو کہ سرکاری گاڑیوں میں سوار ہوتے ہیں۔ اپنی حفاظت کے لئے استعمال کرتے ہیں جبکہ ایک عام آدمی کو دن دیہاڑے ہتھیار کے زور پر لوٹ لیا جاتا ہے۔ نیز ملک میں روزانہ درجنوں لوگ قتل ہوتے ہیں جس کے بارے میں حکومتی بے حسی ناقابل فہم ہے۔ ہماری لیڈرشپ اس سلسلے میں صرف ’’نوٹس‘‘ لینے پر اکتفا کرتی ہے۔ تمام سہولتیں صرف حکمران ٹولے کے لیے ہیں۔جو ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف رہتے ہیں ۔  جن کے بیرون ملک بڑے محل اور کاروبار ہیںاور اُن کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
پشاور اے پی ایس میں بچوں کے بہیمانہ قتل عام کے  بعد پورے ملک کے تعلیمی ادارے غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ کیونکہ عوام تعلیمی اداروں کی حفاظت کے حوالے سے حکومت کی کارکردگی سے مکمل طور پر مایوس اور بدظن ہو چکے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی حفاظت کے حوالے سے حکومت نے نادر شاہی احکامات جاری کر دئیے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف حفاظت کی مکمل ذمہ داری سکول مالکان پر ڈال دی ہے۔ اس ضمن میں سکولوں کو احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ کہ وہ خود اپنے (Resources)یعنی وسائل سے اپنی سطح پر مندرجہ ذیل اشیاء کا بندوبست کریں۔
اول: تربیت یافتہ سیکورٹی گارڈ دوم:  اُن کے لیے اسلحہ سوم: بارودی سرنگوں کو Detect یعنی سراغ لگانے کے لیے مائن سوپنگ کا سازوسامان چہارم:  سکولوں کے داخلی دروازوں پر واک تھرو گیٹ لگانا پنجم:  داخلی دروازے پرمتعین شخص کے پاس میٹل ڈکیٹٹر کی فراہمی ششم: سکولوں کے اطراف اور چھتوں پر مسلح افراد کی تعیناتی۔ہفتم: رات کے وقت سکولوں میں مسلح چوکیداروں کی موجودگی  اور سرچ لائٹس کا انتظام (جب کہ بجلی ناپید ہے) ہشتم: سکولوں میں CCTV یعنی سیکورٹی کیمرے نصب کئے جائیں۔
ان تمام سہولیات اور equipmentیعنی سازو سامان کی فراہمی کے لیے لاکھوں روپے درکار ہونگے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاسب تعلیمی ادارے اس خرچ کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ ملک میں حکومتی سطح پر قائم شدہ تعلیمی اداروں کی بے انتہا ناقص کار کردگی کی وجہ سے نجی تعلیمی ادارے ملک میں دی جانے والی تعلیم کی 80فی صد ذمہ داری احسن طورپر ادا کر رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد اُن اداروں کی ہے جن کی ماہانہ فیس 300سے 500روپے تک ہے۔ اُن کو حکومت کی طرف سے قطعی کوئی مالی امداد فراہمی نہیں کی جاتی بلکہ یہ تمام ادارے درجنوں ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ تعلیمی اداروں سے متعلق Gutters کی فیس Commerical یعنی تقریباً 3گناہ زیادہ وضع کی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ تمام نجی سکولوں کی عمارتوں کو Commercial کرنا بھی لازمی ہے۔ جس پر لاکھوں روپے کے اخراجات سکول مالکان کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
قارئین! پشاور میں اے پی ایس کے طلبا کے بیہمانہ قتل وغارت کے بعد سے پورے ملک میں خوف وہراس کی کیفیت طاری ہے ۔ والدین بچوں کو سکول بھیجنے کے بعد اُن کی واپسی تک ایک اذیت میں مبتلا رہتے ہیں۔اس ذہنی کیفیت سے لوگوں کے اعصاب جواب دئیے جار ہے ہیں۔ اس سنگین نفسیاتی صورت حال کے  تدارک کے لیے حکومت نے قطعی کوئی اقدام نہیں کئے ۔ ہمارے لیڈرز اپنے اللے تللوں میں مگن ہیں اور سکولوں میں حفاظتی اقدامات کی مکمل ذمہ داری سکول انتظامیہ پر ڈال دی گئی ہے۔ با الفاظ دیگر حکومت نے تعلیمی اداروں کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ اُن کی حفاظت خود کریں۔ اس پورے معاملے میں میڈیا کا کردار بھی نہایت حوصلہ شکن ہے وہ اپنی دُکان چمکانے اور TVچینلز ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی غرض سے بے انتہا مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے دہشت پھیلانے میں مصروف ہیں۔ نتیجتاً والدین بڑی سنجیدگی سے  HOME SCHOOLING کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انفرادی مفاد کو ترک کر کے ایک قوم بن کر اجتماعی سوچ کو اپنائیں۔ محلہ کی سطح پر کمیٹیاں قائم کی جائیں  اور رات کے وقت Patrollingیعنی گشت کیا جائے اور لوگ خود اپنی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود حکومت امن و امان اور لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کی بنیادی ذمہ داری پورے کرے۔ جہاں تک تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں حکومت کو تمام ذمہ داری سکول مالکان پر ڈال کر خود چین کی بانسری بجانے سے گریز کرنا چاہیے۔ اور اُن تعلیمی اداروں کی جو یہ تمام اقدامات کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ان کی بھرپور مالی امداد کرنی چاہیے۔ ورنہ ملک میں تعلیمی معیار جو کہ پہلے ہی بہت پست ہے مزید گر جائے گا اور ملک ترقی نہیں کر سکے گا۔