محبت اور ذہانت

کالم نگار  |  روبینہ فیصل
محبت اور ذہانت

محبت بہتا دریا ہے ،اس کی تہہ میں اعتبار کی گیلی مٹی ڈھیرا ڈالے بیٹھی رہتی ہے ۔ محبت کرنے والوں کی پہلی شرط ہوتی ہے آپسی اعتماد ۔ ایک لڑکے نے اپنی ہونے والی بیوی سے پوچھا منہ دکھائی میں ہیرا چاہیئے یا سونا ؟اس نے جواب دیا فقط عمر بھر کا اعتماد ۔ لڑکے نے سوچا یہ کونسی بڑی بات ہے ،بڑا سا سر ہاں میں ہلا دیا ۔ ڈھیلا خرچ ہوئے بغیرمنہ دکھائی کی پیاری سی رسم یونہی نبھ گئی ۔ لیکن لڑکا جانتا نہیں تھا کہ سمجھدار لڑکی نے اسے کانٹوں پر گھسیٹ لیا ہے ۔ بات بات پر جھوٹ بولنے کی عادت اتنی پکی کہ جھوٹ کو اتنا بولنا کہ سچ لگنے لگے ،ایسے لڑکے کے شروع میں ہی چار جھوٹ کھلے تو بیوی کی آنکھوں میں آنسو ٹھہر گئے ۔ پانچویں جھوٹ پر اس نے کہا کیا میری اتنی بھی وقعت نہ تھی کہ مجھے منہ دکھائی پر تحفہ ملتا ؟ لڑکا دھک سے رہ گیا ۔ آج اس شادی کے68سال گزر گئے ،رشتہ پختہ ہونے کی بجائے ٹوٹ ٹوٹ کے بچتا اور بچ بچ کے ٹوٹتا ہے ۔ لڑکا شروع سے ہی اعتماد کھو چکا ہے ۔ لڑکی اس پر اعتماد کرنے کی لاکھ کوشش کے باوجود ناکام ہے اور لوگ کہتے ہیں پاگل لڑکی کیا اسے ذرا بھر بھی عقل نہیں ہے ؟کالم کا پیٹ افسانے سے نہیں بھرتا اس لئے یہ کہانی نہیں حقیقت ہے ۔ آپ لڑکے کو بھی جانتے ہیں اور لڑکی تو آپ خود ہیں ، پاکستان کی عوام ۔ لڑکا چہرا اور لباس تو بدلتا ہے مگر جھوٹ بولنے اور بے وقوف بنانے کے طریقے ایک سے ہیں ۔ محبت کا دریا بہہ رہا ہے وہ کیوں نہیں رکتا ؟ہم سب پاکستان سے محبت کی پاداش میں بار بار بے وقوف بن رہے ہیں ۔ بنانے والے سمجھتے ہیں کہ وہ بہت ذہین ہیں ۔یہ نہیں پتہ کہ لڑکی جانتے بوجھتے صرف گھر بچانے کیلئے ہر دفعہ اعتماد کرتی ہے اور ہر دفعہ نیا دھوکہ کھانے کے بعد پوچھتی ہے کیا میری اتنی بھی اوقات نہیں تھی کہ مجھ سے صرف سچ ہی بول لیا جاتا ؟وہ باخبر ہے مگر محبت اسکے پائوں کی بیڑی ہے ۔یہی محبت پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے اور لڑکی (عوام )کے جذبات سے کھلواڑ ایک قومی کھیل ۔ لاہور میں سڑکوں کا نظام اچھا ہو گیا ہے ۔ عوام خوش ہونے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ مگر ڈسے ہوئے ہیں کھل کے تعریف نہیں کرتے کہ اپنی ہی نظر نہ لگ جائے مگر نظر تو پھر بھی لگ جاتی ہے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے سڑکوں پر گاڑی کی بجائے گدھا گاڑی چلنے لگی ۔ گاڑی پٹرول سے چلتی ہے مگر جھوٹے لڑکے نے پٹرول نجانے کس پر نچھاور کر دیا ہے کیونکہ بیوی تو اب گدھا گاڑی ہانک رہی ہے ۔ لاہور کے لوگوں کو میٹرو کی صورت ایک اچھی سہولت مل گئی ہے ۔ بیس روپے میں جہاں مرضی جائیں ۔ غریب کا بھلا ہوگیا ۔ تعریف کرئو بھئی ۔ میں نے جھنجلا کر عوام کو کہا ۔۔ باجی اس میں سفر نہ کر لینا جیب کٹ جاتی ، پرس چھن جاتا۔ میں اپنے دو موبائل گنوا چکی ہوں اسی میٹرو میں ۔عوام نے چیخ کر بتایا ۔ ایک سبز جھنڈے والی گاڑی کی پیچھے میں نے بہت سی پولیس گاڑیاں دیکھتے ہوئے کہا۔پولیس تو بہت ہے اور دیکھو کتنی قابل ہے ایک منٹ میں سڑک صاف کر ا دی۔ یہ پولیس میٹرو میں ہونیوالی جیب کتریاں روکنے کیلئے نہیں ہے یہ سبز گاڑی اسی جھوٹے لڑکے کی ہے اور پولیس کی نفری اور قابلیت دونوں اسکی گاڑی کا راستہ صاف کروانے کیلئے ہیں۔ اس بچاری دھوکہ کھائی قسمت کی ماری لڑکی کیلئے نہیں ۔ عام کاٹن کا سوٹ ہے یہ کیسے پانچ ہزار کا ہوسکتا ہے۔ میں نے اوریگا کے پٹھان سے حیرت سے پوچھا ۔ باجی بہت مہنگائی ہوگیا ہے آپکو کیا پتہ ۔اچھا بہر حال میں نے پندرہ سو دینے ہیں۔ اچھا دو ہزار دے دو ۔پٹھان نے حسب ِ عادت کہا۔ میرے پاس پیسے ہیں ہی نہیں۔ جھوٹ سنتے سنتے بولنا بھی آجاتا ہے یہی لسانیات یا زبان دانی کا اصول ہے ۔باجی آپکے ماتھے پر ڈالر لکھا ہوا ہے ۔ پٹھان نے نہایت اعتماد سے کہا ۔اور میں دھک سے رہ گئی ۔ تم اتنے ذہین ہو حکمران تمھیں بے وقوف کیسے بناتے ہیں ۔ میں نے متاثر ہو کر پوچھا ۔ کوئی مائی کا لال ہمیں بے وقوف نہیں بنا سکتا ۔ہمارے پاس صبر کے علاوہ چارہ کوئی نہیں ۔ ہم پاکستان سے پیار کرتا ہے ۔ اور جب کوئی بھی ہمیں پاکستان کی خوشخالی کے خواب دکھاتا ہے ہم جان بوجھ کے آنکھیں بند کرلیتا ہے ۔ اسی وقت سامنے لگے ٹی وی پر عمران خان کی گولڈن شیروانی میں اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ فوٹو شوٹ کی مسکراتی ہوئی تصویر شادی کی تصدیق کے بیان کے ساتھ چل رہی تھی۔باجی یہ بے حس ، بے غیرت اور خود غرض لوگ ہیں ۔ہمارے پشاور کے بچوں کی قبریں ابھی گیلی ہیں اور دیکھو اس نے شادی بنا لیا ۔ پٹھان کی آنکھوں میں نمی تیر گئی ۔ کوئی بات نہیں خان اس کا ذاتی مسئلہ ہے ۔ اچھی بات ہے شادی ہی تو ہے ۔ باجی اپنا ڈالر اٹھائو اور تم بھی جائو یہاں سے ۔ کہاں سے ذاتی مسئلہ ؟ ہمارا پسینہ ، وقت اور خون تک ذاتی نہیں ۔ اس کو ۔۔ (بڑی سی گالی تھی لکھ نہیں سکتی )ہم نے وقت ،اپنی جانیں دیں۔ ہم نے سوچا یہ دھرنہ مارے گا تو پاکستان تبدیل ہوجائیگا ۔ بچے دھرنے میں بھی مرے ۔ ہم پٹھانوں نے سوچا اپنی قوم کا ہے پشاور کو ہی اچھا کر دیگا ، واپس وطن کو لوٹ جائینگے ۔ قادری بچے مروا کے باہر بھاگ گیا ۔ہم یہاں بیٹھ کر ہی آپ جیسے ڈالر والے لوگوں کا انتظار کرتے رہیں گے ۔ہجرت کا کرب میرے منہ کو نمکین کر گیا ، اور خان ہم پردیس میں بیٹھے لاہور واپس آنے کو ترس گئے ہیں ۔ سچ کہتے ہو !! ہمارا کچھ بھی ذاتی نہیں ۔ ہم سے ہماری زندگیاں چھین لی گئی ہیں ۔ ہمارا بچپن ، ہمارے سکول ہماری گلیاں ۔ پاکستان کی حقیقت تجزیہ نگار یا کالمنسٹ آپ کو اس پٹھان سے ذیادہ اچھا سمجھانے کے اہل نہیں ۔ لڑکی رُل گئی ہے اور جھوٹا لڑکا آرام سے محلوں کبھی خاکی وردی کبھی سیاہ واسکٹ پہن کر راج کر رہا ہے لڑکی کا خون چوس لیا ہے اوراپنی ز ندگی کو ذاتی کہتا ہے ۔لبرٹی کا ورائٹی بک سٹور ۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں بھی کتابوں کی دکانوں میں سناٹا اور کھانے والی جگہوں پر ایک ایک گھنٹے کا انتظار آپ کو دیکھنے کو ملتا ہے اور وہاں میں نے ایک فٹ کے فاصلے سے طالبان نما چیز یں دیکھیں ، لمبی داڑھیاں اور مشکوک انداز سے چیزوں کو الٹ پلٹ کر رہے ۔ میری بھانجیوں نے سیکنڈ کے 100ویں حصے میں بھانپ لیا کہ یہ افراد مشکوک ہیں ۔ میں نے جب تک ایک کے ہاتھ میں انگلش ناول الٹا پکڑا نہ دیکھا یقین نہ کیا ۔سکول کالج جانیوالی بچیاں جو وہاں شاپنگ کی غرض سے گئی تھیں، انہیں بھانپ گئیں، لیکن ڈیوٹی کی غرض سے کھڑے سیکورٹی گارڈز بے خبر ہی رہے۔ رات کو خبروں میں پتہ چلا کہ اسی ایریا میں، حفیظ سنٹر سے مشکوک افراد پکڑے گئے ۔ کپڑا بیچنے والا پٹھان ، کالج میں پڑھنے والی بچیاں ، انکی ہوشیاری اور بیداری کیا حکمرانوں ، پالیسی بنانے والے اداروں ، ملک کی سیکورٹی کے ذمہ داروں سے زیادہ ہے ؟ پاکستان کی عوام ذہین اور سمجھدار ہے ۔ انہیں پاگل سمجھنے والے خود پاگل ہیں ۔ وہ صرف محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر پاگل بننے پر مجبور ہیں ۔ ورنہ ماتھے پر لکھے ڈالر ، اور دہشت گرد طالبان عام لوگوں کو یوں نہیں نظر آتے ۔