جھلس کر گر گئے وعدے

کالم نگار  |  مسرت قیوم
جھلس کر گر گئے وعدے

سندھ سے پی ٹی آئی کے استعفوں کی منظوری کے اتحادی سازشی فیصلہ نے قومی یکجہتی میں دراڑ ڈالدی ہے غلط وقت پر نامناسب فیصلہ محاذ آرائی کا باعث بنے گا۔ اس کا سارا بوجھ حکومت کے کندھے پر پڑے گا۔ اور حکومت کی چھت تو پہلے ہی ٹپک رہی ہے۔ لڑائی مارکٹائی کے مناظر سے بھرپور ایک ہفتہ گزر گیا۔ سیاستدانوں کے بعد اب عوام بھی باہم گھتم گتھا ہو گئے۔ آج کل برقی چینلز پر عوام کی بے بسی، ذلت اور سیاستدانوں کی بدزبانی کے مناظر عام ہیں۔ حکومت کو ضدی اور بحرانی سیاست کا خالق قرار دینا تو کچھ جھوٹ نہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے بیک وقت تین طلاقوں پر پابندی کی سفارش کی ہے تاکہ دوبارہ صلح کی گنجائش پیدا ہو سکے یہ فیصلہ سن کر اپنے وطن کی بے کسی والی تصویریں ذہن میں گھوم گئیں ’’مشرف دور میں بجلی بحران پیدا ہوا‘‘ ’’زرداری عہد‘‘ میں بجلی کے ساتھ گیس بھی کم ہوتی گئی۔ سردیوں میں گیس اور گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ موجودہ حکومت میں تو حد ہو گئی ایک ہی وقت میں 3 چیزوں کی کمیابی، نایابی شاید ’’قیادت‘‘ عوام سے دوبارہ رجوع کرنے کا آپشن ختم کرنا چاہتی ہے تبھی تو بیک وقت ’’3 طلاقیں‘‘ دے ڈالیں اب دیکھئیے پردہ غیب سے کیا پیغام آتا ہے۔ بدعائیں تو ’’ساتویں آسمان‘‘ تک ساری جگہ گھیر چکی ہیں عوام کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے میں ناکامی اظہرمن الشمس ہے۔ ہر مرتبہ کی بدانتظامی، نا اہلی کو ’’سازش‘‘ سے تعبیر کرنے کی بات حماقت ہے۔ فتح یا شکست ہر دو صورت میں ہار کپتان کے گلے کی زینت بنتا ہے۔پٹرول بحران کی وجہ واجبات کی عدم ادائیگی 2۔ تیل کے دستیاب ذخائر سے لاعلمی 3۔ سی این جی کی بندش کے متوقع نتائج سے نمٹنے میں یکسر ناکامی، کوئی پیش بندی نہیں کر پائی۔ عوام سے تو پورے ٹیکس وصول کرلئے جاتے ہیں جبکہ ریاستی ادارے، ریاستی اداروں کو رقوم کی ادائیگی نہیں کرتے۔ وزراء کرام نے تو خود کو بری الزمہ قرار دلوالیا جبکہ حکومتی اراکین اس نئی آفت پر شرمندہ ہیں۔ ’’ہماری چھٹی حس‘‘ کہہ رہی ہے کہ بحران نہیں مقصود ’’پی ایس او‘‘ کی کسی بزنس ٹائیکون کو فروخت ہے۔ ’’جھلس کر گر گئے وعدے‘‘… میرے وطن تیرے اندھیرے مٹائیں گے‘ ریاست ماں جیسی ہو گی۔ آنکھیں زخمی ہو گئی ہیں ماں جیسی دھرتی کو ڈھونڈتے ہوئے‘ انتخابی مہم میں عوام کی محبت میں ستاروں کی چھوتی تقریریں دیمک بن کر عوام کو چاٹ رہی ہیں۔ تب کی محبت آج قطاریں بنوا کر لڑا رہی ہے۔ یہ عوامی نمائندگی کی توہین سبکی ہے کسی بھی پارٹی کے پاس عوام دوست ایجنڈہ پروگرام نہیں کچھ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ ’’پی پی پی‘‘ پکی پکائی کھیر کھانے کے چکر میں ہے۔ گرائونڈ تیار ہے تحریک انصاف کی محنت کا پھل کھانے کی تیاریاں ہیں مگر اب عوام ہوشیاری کے ساتھ یقین کر لیں کہ ہمارا ’’68 سالہ سیاسی ورثہ‘‘ اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے اس لئے مقتدر قوتیں ’’عوام کا تحفظ بھی قومی ایکشن پلان کا حصہ بنا لیں پہلے کسی بھی واقعہ کا نوٹس لے لیا جاتا تھا الگ بات ہے کہ مسئلہ حل ہوتا تھا یا نہیں مگر ڈھارس بندھ جاتی تھی کچھ عرصہ قبل لوگ ’’عدلیہ‘‘ کی طرف دیکھتے تھے اب اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک بحران خطرات ہیں کہ ختم ہی نہیں ہورہے ’’پنجاب‘‘ کو فرنس آئل کی سپلائی بند ہو چکی ہے پٹرول کا سیاپا جاری ہے کہ رہی سہی بجلی کی تدفین کی تیاریاں شروع ہو گئیں یہ کس قسم کا مالی بحران ہے جو ’’بڑے ایوانوں‘‘ کی نہ ایک روٹی کم کر سکا اور نہ ہی ’’ایک بلب‘‘ بجھانے میں کامیاب ٹھہرا‘ بحران عوام کی قسمت میں ہی کیوں اندھیرے لا رہے ہیں ’’ایک شخص‘‘ سٹیڈیم یا بڑے میدان سے ملحقہ رن وے پر ہیلی کاپٹر یا چھوٹے پر تعیش طیارے سے باہر نکلتا ہے مجمع کو جذباتی انداز جوشیلی باتوں سے گرماتا ماضی کی حکومتوں پر برستا اور خود اقتدار میں آنے کے بعد حوالہ سے خوشنما الفاظ میں وزنی (عمل میں ریت سے بھی ہلکے) بھاری وعدے کر کے اس طیارے میں سوار ہو کر چلا جاتا ہے۔ طیارہ اڑنے سے مٹی، دھول لوگوں کے منہ پر جم جاتی ہے۔ لوگ جو صبح سے بھوکے، پیاسے، میدان میں کس معجزے کے انتظار میں کھڑے تھے۔ وہ دھول چاٹ کر اسی طرح ’’مزید خالی پیٹ‘‘ کیساتھ ٹوٹے ہوئے گھروں میں چلے جاتے ہیں۔ عوام کی قسمت کیا ہے اور ووٹ کی قدر کیا یہ بوتلیں ہاتھ میں اٹھائے کلو میٹر تک پھیلی ہوئی لمبی لائنوں کو دیکھ کر جواب ڈھونڈ لیں اور ووٹ کی اہمیت جاننا چاہتے ہیں تو گوگل پر سرچ کر کے ایک منٹ میں بیرون ممالک اربوں ڈالرز کی جائیدادیں بتا دینگی۔ بھوک، غربت، مہنگائی، نا انصافی، افلاس، بے روزگاری اتنی کہ ’’اعلیٰ عدلیہ‘‘ بھی مجبور ہو گئی کہنے پر کہ ’’پاکستان میں لوگوں کیلئے رہنا ناممکن ہو گیا۔ حکومتی فیصلے اور رویے لوگوں کی دل شکنی کا سبب بن رہے ہیں انتہا درجہ کی مایوسی ہے۔ روشن منشور کی اندھیروں کیساتھ ملاپ پر غم و غصہ کی انتہا ہے… سپریم کورٹ کا فرمان ہے کہ عوام کو ریلیف دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت ہے کہاں؟ صحرائوں میں موت کا رقص جاری ہے طویل خشک سالی سے چراگاہیں بنجر میدانوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ مویشی اور انسان ایک ہی قسم کی بھوک سے مر رہے ہیں اوپر سے شہری علاقوں میں بھی پانی کی قلت کا مسئلہ کھڑا ہو رہا ہے۔ تو حکومت پوری طرح ’’ان ایکشن‘‘ کب ہو گی؟کیا یہ بہتر نہیں کہ حکومت ہماری یا کسی اور کی بجائے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش کو ہی مان لے۔ کیا اس ملک میں دوبارہ الیکشن نہیں ہونے…
کیا سیاسی پارٹیوں نے معرکے میں نہیںاترنا؟ عوام کو ہر قیمت پر ریلیف اور سکون چاہئیے۔ ہم سے زیادہ آپ آگاہ ہیں کہ حالات تیزی سے فیصلہ کن اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ خدشات اپنی جگہ، خطرات کم کرنا چاہتے ہیں تو دوبارہ رجوع کا حق محفوظ کرلیں… سب نہ سہی ایک وعدہ ہی پورا کر دیں انرجی بحران حل کر دیں صرف ایک وعدے کی تکمیل دوبارہ جیتنے کی نوید بن سکتی ہے…؎
کسی نسخے کو تو اکسیر کرو
کوئی صورت، کوئی تدبیر کرو
ناصحو، چارہ گرو اور نہ تاخیر کرو