اکیسویں آئینی ترمیم

کالم نگار  |  رابعہ رحمن
 اکیسویں آئینی ترمیم

پشاور کے آرمی پبلک سکول میں ہونے والی بد ترین دہشتگردی کے بعد قومی سطح پر ایک اتحاد کی فضا دیکھنے کو ملی جو کہ ہمارے ہاں ایک ناپید چیز ہے۔ اس اتفاقِ رائے کے نتیجے میں دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ایک لائحہ عمل ترتیب دیا گیا جسے قومی ایکشن پلان کا نام دیا گیا ہے۔ اس ایکشن پلان میں بہت سارے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن پر عمل درآمد سے ملک میں جاری دہشتگردی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان اقدامات میں بعض تو انتظامی نوعیت کے ہیں جبکہ چند اقدامات کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے تا کہ عملدرآمد میں کوئی قانونی سقم باقی نہ رہے۔قومی ایکشن پلان میں تجویز کردہ اقدامات میں سب سے اہم اقدام فوجی عدالتوں کا قیام ہے تا کہ دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر جلد از جلد سزائیں دی جائیں۔ یہ ایک انتہائی اہم اور ضروری اقدام ہے کیونکہ انصاف کا بر وقت نہ ملنا ہی ساری برائی کی جڑ ہے جس سے دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔اس سلسلے میں پہلے سے انسدادِ دہشت گردی کی عدالتیں موجود ہیں مگر بعض مجبوریوں اور معروضی حالات کے پیش نظر یہ عدالتیں موثر طریقے سے کام نہیں کر سکتیں۔ان عدالتوں کے بیشتر ججز انتہائی پیشہ ورانہ طریقے سے اپنا کام کررہے ہیں اور بہت سے دہشتگردوں کو سزائیں بھی ہوئی ہیں مگر ججز کی سیکیورٹی اور گواہوں کی عدم دستیابی جیسے مسائل انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ چونکہ سویلین مجرمان کا آئین کے تحت فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا ماسوائے چند مخصوص جرائم کے لہذا ان عدالتوں کے قیام کیلئے آئین میں ضروری ترمیم کی ضرورت تھی۔ پشاور واقع کے بعد وزیرِ اعظم نے قومی رہنمائوں کی فوری کانفرنس بلائی جس میں ساری صورتِحال کا تفصیلاً جائزہ لیا گیا اور ضروری لائحہ عمل تیا کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں تمام اہم قومی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنمائوں کے علاوہ قومی سلامتی کے اداروں کے نمائند ے بھی شامل تھے۔ اس کمیٹی نے ایک لائحہ عمل تجویز کیا جسے پھر سے تمام قومی سیاسی و مذہبی رہنمائوں کے سامنے رکھا گیا۔ ایک سیر حاصل بحث کے بعد ان تمام تجاویز کی منظوری دی گئی۔ فوجی عدالتوں کے قیام پر بعض سیاسی ومذہبی رہنمائوں کی طرف سے خدشات کا اظہار کیا گیا مگر وزیرِ اعظم اور آرمی چیف کی مفصل وضاحت کے بعد سب نے ان عدالتوں کے قیام کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ بعد ازاں ان عدالتوں کے قیام کو ممکن بنانے کیلئے آئین میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جسے اکیسویں آئینی ترمیم کا نام دیا گیا۔ چونکہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس آئینی ترمیم کی حمایت کی گئی تھی لہذا اسکی منظوری میں بھی کوئی دقت پیش نہ آئی اور مطلوبہ تعداد سے زیادہ اراکین نے اس کی حمایت کی۔ ملکی تاریخ میں شاید یہ پہلی آئینی ترمیم ہو جس کی منظوری کیلئے حکومتِ وقت کو بھی بھاگ دوڑ نہیں کرنا پڑی ورنہ دوتہائی اکثریت حاصل ہونے کے باوجود بھی ماضی میں کوئی آئینی ترمیم اتنی آسانی سے منظور نہیں ہوئی۔ اسکی بُنیادی وجہ حالات کی نزاکت اور ملک میں پائی جانیوالی اتحاد و یگانگت کی فضا ہے جس کی بدولت ماضی میں طالبان سے ہمدردی رکھنے والے چند سیاسی و مذہبی رہنما بھی بوجہ خاموش ہیں اور اس حکومتی اقدام پر بھی کسی ردِ عمل سے گریزاں ہیں۔ اس تمام صورتِحال کے باوجود بھی جمیعت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور دہشتگردی کو مذہب اور مسلک سے منسوب کرنے کا بہانہ بنا کر آئینی ترمیم کی حمایت یا مخالفت سے گریز کیا۔ حکومت نے ان جماعتوں کے خدشات دور کرنے کیلئے آخری وقت تک بھرپور کوششیں کیں مگر وہ بار آور ثابت نہ ہو سکیں۔ اتحاد و یگانگت کی ملکی فضا میں اس طرزِ عمل کی توقع نہ تھی خصوصاً جبکہ یہ تمام رہنما کانفرنس میں ہر نقطہ پر متفق ہو چکے تھے۔ اپنے رویے اور طرزِ عمل میں اس تبدیلی کو منافقت نہیں تو اور کیا کہا جائے گا اگر یہ جماعتیں پھر بھی یہ سمجھتی ہیں کہ اُنکے نقطہ نظر کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا گیا تو پھر کھُل کر اس ترمیم کی مخالفت کرتیں اور خلاف ووٹ دیتیں مگرایسا نہیں کیا گیا۔ اس ساری صورتِ حال میں بعض حلقے یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ پھر یہ ظاہراً نظر آنیوالا اتفاقِ رائے بھی ایک مجبوری کا فیصلہ ہے ورنہ ہمارے دل اب بھی صاف نہیں۔ جب حکومت اور اعلیٰ ترین عسکری قیادت بارہا اس بات کا یقین دلا چکی ہے کہ فوجی عدالتیں صرف ریاست اور معاشرے کیخلاف دہشتگردی کرنیوالے عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے استعمال ہونگی اور وہ بھی دو سال کے عرصہ کیلئے مزید بر آں دہشتگردوں کیخلاف کسی بھی تعصب سے ہٹ کر کاروائی کی جائیگی تو پھر تمام خدشات دور ہو جانے چاہئیں۔ ان مذہبی سیاسی جماعتوں کیطرف سے ایک مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے کیلئے علیٰحدہ سے پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کا عزم بھی کوئی خوش آئند پیش رفت نہیں۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور ہمارا مذہب امن و سلامتی کا درس دیتا ہے۔ دینی مدارس کی اکثریت معاشرے میں اسلامی تعلیمات کی ترویج کیلئے ایک انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستان میں بالخصوص اور دُنیا بھر میں بالعموم دہشتگردی کو مذہب سے منسوب کیا جاتا ہے اور یہ بعض عناصر کی طرف سے اسلام جیسے عالمگیر دین کے غلط استعمال کیوجہ سے ہوا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی یکجہتی کی اس فضا کا اثر زائل نہ ہونے دیا جائے اور دہشتگردی کیخلاف اس قومی جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے مگر یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ معاشرے کا ہر طبقہ یکجا ہو اور کسی قسم کے ذاتی یا گروہی مفاد سے بالا تر ہو کر سوچا جائے۔ پاک فوج یہ جنگ انتہائی جانفشانی اور بہادری سے لڑ رہی ہے اور ہم سب کو ملکر اپنی فوج کا ساتھ دینا چاہیے۔ اکیسویں آئینی ترمیم ایک فوری وقتی ضرورت تھی جس کا ہر کسی کو احساس ہونا چاہیے۔ وکلاء تنظیموں کو بھی اپنے ماحول سے بالا تر ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ فوجی عدالتوں کا قیام عدلیہ پر عدم اعتماد نہیں بلکہ ملک کے معروضی حالات کی بدولت عدلیہ کی معاونت ہے کیونکہ سب کا مقصد انصاف کی فوری فراہمی ہے۔ جب دو سال کے بعد یہ آئینی ترمیم غیر موثر ہو جائیگی تو اندازہ ہو سکے گا کہ ہم اپنے مقاصد کس حد تک حاصل کر سکے ہیں۔ اس آئینی ترمیم پر پوری پارلیمنٹ خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔ ہمارا دُشمن مستعد ہے جس کا مقصد ہمارے اندر نفاق اور انتشار پیدا کرنا ہے ہمیں چاہیے کہ باہمی اتحاد و یگانگت سے دُشمن کے مکروہ عزائم کو ناکام بنائیں۔