اوبامہ کی تقریر اور بین الاقوامی توقعات

انڈین نیشنل کانگریس پارٹی ہندوستان میں مذہب کی بنیاد پر قائم کی جانے والی نئی ریاست پاکستان کی سخت مخالف تھی چونکہ صدیوں تک مسلمانوں کی حکومت اور بادشاہت کے بعد اب ہندو اس لمحے کے منتظر تھے جس میں وہ یہ دیکھ سکیں کہ انگریزوں کے ہندوستان سے انخلا کے بعد پورے ہندوستان پر ہندو راج قائم ہو جائے جہاں مسلمان ایک اقلیت کا کردار ادا کریں انکا خیال تھا کہ اگر مذہب کے نام پر مسلمان الگ ہو گئے اور اسکے بعد سکھوں نے بھی ایک نئی ریاست قائم کر لی تو پھر ہندوستان کا پیچھے کچھ نہیں بچے گا۔ یہی وہ سوچ تھی جسکی وجہ سے 1948 میں ہندو قیادت مذہب کے نام پر وجود میں آنے والی اسرائیلی ریاست کے ماننے سے انکاری ہو گئی بعد میں ہندوستان نے اسرائیل کو بطور سلطنت 1950 میں قبول کیا اور پھر بھی سفارتی تعلقات قائم نہ کئے اسکی وجہ یہ تھی کہ اسرائیل امریکہ کا اتحادی تھا اور ہندوستان سویت یونین کے کیمپ میں تھا اور اسکے علاوہ ہندوستان اسرائیل کو تسلیم کر کے عرب مسلمانوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا تا کہ مشرق وسطی میں پاکستان کوئی سفارتی فائدہ نہ اٹھا سکے اس لیے ہندوستان بڑھ چڑھ کر فلسطینی کاز کی حمایت کرتا رہا بلکہ مرحوم یاسر عرفات پر ہندوستانیوں نے اتنے گہرے ڈورے ڈال لیے کہ کئی دفعہ وہ ہندوستان کا دورہ کر جاتے اور اسرائیل دشمن اور عرب دوست پاکستان کو نظر انداز کر جاتے ۔ مرحوم یاسر عرفات پر ہندوستان کا جادو اتنا مکمل تھا کہ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں بھی ہمیں فلسطینی قیادت کی طرف سے اس طرح کھل کر ہندوستان کیخلاف سفارتی حمایت نہ مل سکی جسکی ہم توقع کر رہے تھے حالانکہ عرب بھائیوں کے حق میں اور اسرائیل کیخلاف پوری دنیا میں پاکستان کے نعرے بہت بلند تھے۔ اسرائیل پاکستان کو اپنا دشمن نمبر 1 سمجھتا تھا۔ قارئین اس بات کا اندازہ آپ اسرائیل کے ایک اہم رہنما David Ben Gurion کے مندرجہ ذیل بیان سے لگا سکتے ہیں جو 1967 میں ـ’’ یہودی کرونیکل‘‘ میں چھپا اور اب تاریخ کا ایک حصہ ہے
’’ بین الاقوامی یہودی تنظیم کو پاکستان کی شکل میں موجود خطرے سے کبھی بھی چشم پوشی نہیں برتنی چاہیے اور پاکستان اب ہمارا پہلا ہدف ہونا چاہیے۔ چونکہ یہ نظریاتی ملک اسرائیل کے وجود کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے پورا پاکستان یہودیوں سے نفرت اور عربوں سے محبت کرتا ہے۔ عربوں کا یہ عاشق ملک اسرائیل کیلئے عربوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے اس لیے بین الاقوامی یہودی تنظیم کیلئیضروری ہو گیا ہے کہ وہ پاکستان کیخلاف فوری قدم اٹھائے چونکہ برصغیر میں بسنے والے زیادہ تر لوگ ہندو ہیں اور ان کے دلوں میں مسلمانوں کیخلاف نفرت موجود ہے اس لیے ہندوستان ہی ایک ایسی موزوں جگہ ہے جس کو بنیادبنا کر ہم پاکستان کیخلاف کام کر سکتے ہیں۔ ہمارئے لیے بہت ضروری ہے کہ ہم اسکا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہودیوں کے دشمن پاکستان کو اپنے خفیہ منصوبوں سے کرش (Crush) کر دیں ‘‘
80 کی دہائی کے آخر میں جب سویت یونین کو افغانستان میں شکست ہو گئی اور اسکے بعد وہ بہت بڑی سلطنت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی تو موقع پرست ہندوستان نے بھی اپنا قبلہ سویت یونین کی طرف سے ہٹا کر امریکہ کی طرف کرنا شروع کر دیا اور اس سلسلے میں پہلا قدم یہ اٹھایا کہ 29 جنورئی 1992 کو ہندوستان نے اسرائیل کیساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے اب ان دونوں تعصب کے شکار ملکوں کا اس بات پر مکمل اتفاق تھا کہ پوری دنیا میں اگر کوئی ناپسندیدہ ملک ہے تو وہ پاکستان ہے پھر یہودی اور ہندو لابی اور انکے کارندوں RAW اور MOSSAD نے پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ پاکستان کے ایٹمی طاقت بن جانے کے بعد تو ایسا ہوا کہ ان دو ممالک کے پیٹ میں شدید درد ہونا شروع ہو گیا ہندوستان نے ایک بار پاکستان پر حملہ کر کے ہماری ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کا منصوبہ بھی بنایا تھا لیکن وہ کرنے کی جرأت نہ کر سکا 1981-82 میں اسرائیل نے بھی پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر سرجیکل سٹرائیک کرنا چاہی لیکن جب اسکو یہ پتہ چلا کہ پاکستان ایئر فورس اور اینٹی ایئرکرافٹ مزائل انکے جہازوں کا استقبال کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں تو اسکے دانت کھٹے ہو گئے اب ہندوستان اور اسرائیل ’’کھنڈ کھیر‘‘ ہیں افغانستان میں جاسوسی کیلئے قونصل خانوں کے قیام کی بات ہو یا بلوچستان میں بلوچستان لبریشن آرمی کو فوجی اور مالی امداد دینے کا سلسلہ ہو یہ دونوں ملک ان پاکستان دشمن کاروائیوں میںپیش پیش ہیں ۔ سرحد اور خصوصاً سوات میں دہشت گردی کی وارداتیں کرانے میں انہی دو ملکوں کا ہاتھ ہے چونکہ غیور قبائیلی اور باغیرت پشتون پکے مسلمان ہیں اور وہ کبھی بھی عورتوں اور سکول کے بچوں پر ہاتھ نہیں اٹھاسکتے۔
قارئین کو یاد ہو گا کہ برطانیہ کی ایک خاتون صحافی افغانستان میں جب پشتونوں کی قید ی بنی تو انکے حسن سلوک کی وجہ سے وہ مسلمان ہو گئی۔ وزیرستان کے قبائیلی بچیوں کے سکولوں سے ہاتھ نہیں اٹھا رہے لیکن سوات کے اندر اسلام دشمن اور پاکستان دشمن عناصر بیرونی مالی امداد کیساتھ اب تک 152 سکول جلا چکے ہیں جسکی وجہ سے 80 ہزار بچیاں تعلیم سے محروم ہیں 2002 سے لیکر اب تک ایک اندازے کیمطابق اسرائیل ہندوستان کو تقریباً پانچ ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کر چکا ہے اس طرح اسرائیل سویت یونین کے بعد ہندوستان کو فوجی نوعیت کا سامان بیچنے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔ اسرائیل ہندوستانی فوجیوں کو دہشت گردی کیخلاف لڑنے کی تربیت بھی دیتا ہے اور آہستہ آہستہ امریکہ کی طرح ہندوستان کی معیشت پر چھا رہا ہے بے شمار اسرائیلی کمپنیوں نے ہندوستان میں بڑے بڑے پراجیکٹ شروع کر رکھے ہیں۔ ہندوستان کے تجارتی دارالحکومت ممبئی میں اسرائیلی کمانڈوز کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل ہندوستان کی رگوں میں کس گہرائی سے داخل ہو چکا ہے۔ ہندوستان نے اپنے Research Space Centre
سے حال ہی میں اسرائیل کا ایک سیٹلائیٹ بھی لانچ کیا ہے۔ جنوبی ایشیا میں یہود و ہنود کا گٹھ جوڑ مشترکہ دشمن پاکستان کیخلاف ہی ہے چونکہ ہندوستان اور اسرائیل کے مفادات پاکستان کے اندر آ کر مل جاتے ہیں دونوں ممالک پاکستان کے ہاتھ میں ایٹمی اسلحہ نہیں بلکہ بھیک مانگنے والا کشکول دیکھنا چاہتے ہیں۔ اب چونکہ اسرائیل غزہ میں 1300 مسلمانوں کا خون پی چکا ہے اور تقریباً 5000 گھر تباہ کر دیے ہیں اسکی اس مذموم حرکت کی ہندوستان نے مذمت تک نہیں کی۔ اب ہندوستان کو اسرائیل کے جہازوں ، ہیلی کاپٹروں، ٹینکوں اور توپوں میں سے نکلے ہوئے گولوں اور انسانوں کو جلا دینے والے سفید فاسفورس کے بموں کے استعمال سے کی جانیوالی ریاستی دہشت گردی تو نظر نہیں آ رہی لیکن اسکو اجمل قصاب کی اسٹین گن کی 9 MM کی گولیوں نے اندھا کیا ہوا ہے اور یہ جانتے ہوئے کہ اجمل قصاب جیسے دہشت گردوں کو جنم دینے والے خود امریکہ ، ہندوستان اور اسرائیل جیسے ملک ہی ہیں جو افغانستان ، عراق ، فلسطین اور کشمیر میں ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہیں اس ریاستی دہشت گردی کو ختم کئے بغیر انفرادی دہشت گردی ختم کرنا اور دنیا میں امن قائم کرنا مشکل ہے۔ اگر اسرائیل اور ہندوستان ایک دوسرے کے ’’مسیر‘‘ (ماسی زاد بھائی) ہیں تو امریکہ کا بارک اوبامہ انکا ماموں ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ پوری دنیا کی امیدیں اب اوبامہ کی مثبت پالیسیوں پر مرکوز ہیں لیکن افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ امریکی صدر اوبامہ نے حلف اٹھانے کے بعد جو تقریر کی اسکی انگریزی تو اعلی تھی اور خداداد صلاحیتوں کے مالک اور ایک اچھے مقرر اوبامہ نے حیران کن روانی اور بڑے موثر انداز میں الفاظ کو فقروں اور فقروں کو تقریر میں پرو دیا لیکن انکی تقریر میں امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق کسی بھی اہم اور بنیادی تبدیلی کے کوئی آثار نہیں تھے۔ اوبامہ نے امریکی معاشی بدحالی کو گھمبیرکہنے کے بعد ان مسائل کو حل کرنے کا ارادہ کیا اور مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے برابری کے سلوک کی بات بھی کی جو ایک خوش آئیند اور مثبت سوچ ہے لیکن اوبامہ کی اس ظاہراً اچھی فرنی کا پتہ تب چلے گا جب دنیا اس کو چکھنا شروع کرے گی۔ اوبامہ نے دوسری جنگ عظیم میں نارمنڈی جیسے محاذ پر جان دینے والے امریکنوں کو تو یاد کیا لیکن پچھلے آٹھ سالوں میں امریکی غلط پالیسیوں اور اسرائیل نواز غیر منصفانہ رویہ کی وجہ سے جو ہزاروں بے گناہ مسلمان عراق، افغانستان پاکستان (وزیرستان اور کشمیر)، اور فلسطین میں لقمہ اجل بنے انکے لیے معافی مانگنا تو درکنار انکا ذکر کرنا تک موزوں نہ سمجھا نہ ہی اوبامہ کو یہ ہمت نہ ہوئی کہ وہ گواتاناموبے کے عقوبت خانوں میں مسلمانوں پر ہونیوالے تشدد اور ان پر کتے چھوڑنے کے امریکی عمل کی معافی مانگتا مسلم دنیا اوبامہ کی صحیح معنوں میں عزت اسی وقت کریگی جب وہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے بش اور اسرائیل کے وزیر اعظم اولمرٹ اور شیرون جیسے مجرموں کیخلاف جنگی جرائم کے مقدمے قائم کر کے انکو ھیگ کی بین الاقوامی عدالت انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کریگا۔ اوبامہ کا مسلمانوں کے حوالے سے یہ کہنا کہ آپ تباہ کر کے نہیں بلکہ کچھ بنا کر ہی عظیم لوگ بن سکتے ہیں ایک بہت اچھی نصیحت ہے لیکن یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اس دنیا میں سب سے زیادہ تباہی تو عیسائیوں اور یہودیوں نے ہی کی ہے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اوبامہ کی تقریر میں دنیا کیلئے کوئی بڑی خوش خبری نہیں تھی جس سے یہ لگے کہ اب امریکہ اپنے خلاف نفرتوں کو محبتوں میں تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ امریکہ کا بجٹ خسارہ 2009 میں 1200 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے اور یہ ملک اب تقریباً 12 کھرب ڈالر کا مقروض ہے اس لیے اوبامہ کو اندرونی معاشی حالات کے گھمگیر ہو جانے کی وجہ سے شاید ہی بین الاقوامی مسائل پر اتنی توجہ دینے کا موقع مل سکے جسکی دنیا توقع کر رہی ہے