کہیں ہم پیچھے نہ رہ جائیں

کالم نگار  |  خالد احمد

بھارت سرکار کی جانب سے امریکہ پر ’پاکستان کے لئے ڈرون طیاروں کی فراہمی‘ روک دینے کی اپیل پڑھ کر ہمیں ’احساس‘ ہوگیا تھا کہ امریکہ جناب آصف علی زرداری کی فرمائش پر بہت سنجیدگی کے ساتھ غور کر رہا ہے! جبکہ ہم سوچ رہے تھے کہ ’کروز میزائل‘ تیار کر لینے والا ملک اپنے ’ڈیزائین‘ کے ڈرونز کیوں نہیں تیار کرتا؟
آج نوائے وقت، لاہور کے صفحہ اول پر پاکستان نے جدید ڈرون طیاروں ’فالکو‘ کی مقامی سطح پر تیاری شروع کر دی، کی شاہ سرخی، نظر پڑی تو:
یادِ یارانِ مہرباں آئی
دَم میں دَم آیا‘ جاں میں جاں آئی
دوسری طرف ہلالِ احمر میں ’مفت راشن تھیلوں کی تقسیم‘ بدمزگی کا شکار ہو جانے کی خبر پڑھ کر ہمیں دکھ ہوا ! ’کہیں میں پیچھے نہ رہ جاؤں!‘ دستور الیوم قرار دیا گیا ہے۔
تیسری طرف 5 لاکھ روپے کے لئے ایک بزرگ شہری کی جان لے لی گئی! اب لاہور میں صرف ’سونا‘ اور نقد رقم لوٹی جا رہی ہے اب ایسی چیزیں جنہیں فوراً نقد میں تبدیل نہ کیا جا سکے اور جسے فوراً خرچ نہ کیا جا سکے ’ڈکیٹ کارٹل‘ کی دلچسپی کا باعث نہیں رہیں!
ہم اپنا قومی دفاع ناقابل تسخیر بنا کر بھی جدید ترین ٹیکنالوجی حاصل کر کے اسے مزید مستحکم کر رہے ہیں! مگر اپنا ’دفاع‘ اپنے قانون کو ناقابل تسخیر بنائے بغیر ممکن نہیں کیونکہ ’دفاع‘ تو آئین اور قانون کے دشمنوں کے خلاف بھی تیار چوکس اور ناقابل تسخیر انتظامیہ کا متقاضی ہے!
’کہیں میں پیچھے نہ رہ جاؤں!‘ کا خوف ہمارا ڈھانچا ہلائے دے رہا ہے‘ مگر ہم بھاگے چلے جا رہے ہیں! کہیں تھیلے ختم نہ ہوجائیں! کہیں یہ رقم ہاتھ سے نہ نکل جائے ! کہیں یہ ’موقع‘ نہ گنوا دیں۔ طرح طرح کے خیال ہمیں گھیرے رکھتے ہیں مگر صرف ایک خیال ہمارے ذہن میں جگہ نہیں پاتا اور وہ یہ کہ ہم باوقار پراعتماد اور سربلند پاکستان ہیں۔ ہم ہر بار ’ہجوم کی نفسیات‘ کا شکار ہوکر ایک دوسرے کو روندتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں اور اس ’بھگدڑ‘ پر ’سفر‘ کا گمان کرنے میں جُتے رہتے ہیں!
آئین کے ساتھ ’چھیڑ چھاڑ‘ قانون کے ساتھ ’کھلواڑ‘ کی راہ نکالتی آئی مگر اب یہ سلسلہ بند ہو جانا چاہیے! ہمیں ایک متفخر پاکستان کی حیثیت سے زندگی شروع کر ہی دینا چاہیے! اور اپنے آپ پر اعتماد کر کے قانون کا آئینی شکنجہ اپنے آپ پر اور دوسروں پر یکساں دیانت کے ساتھ کس لینا اور دینا چاہیے!
اگر بات سلیقے سے آگے بڑھے تو ’ڈرون طیاروں‘ کی جگہ ’ڈرون ٹیکنالوجی‘ ہاتھ آ جاتی ہے اگر سلیقے سے آگے بڑھا جائے تو ’منزل مراد‘ کیوں ہاتھ نہیں آئے گی! مگر ’سلیقہ‘ بہرطور اختیار کرنا ہوگا‘ ورنہ ہم ’سلیقہ سلائی مشین‘ کی طرح کالم ٹانکتے رہ جائیں گے اور کبھی باوقار پر اعتماد اور قابل اعتبار قوم نہیں بن پائیں گے!
افراد ہوں یا اقوام جرأتِ نُمو کے بغیر سر نہیں اٹھا پاتے! ہم ذرا سی بھی جرأت نمو کر جاتے تو ہم جوہری جمہوری پاکستان سے اگلی منزل کی طرف قدم بڑھا چکے ہوتے مگر ہم نے ایک ’سوئے ہوئے خطے‘ کا کردار اپنا کر 1999ء تک کا حاصل بھی لاحاصل بنا ڈالا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ جناب پرویز مشرف کو شاد و آباد رکھے کہ تاریخ میں اپنے کارہائے نمایاں کے ذریعے ہمیں اس منزل پر پہنچا دیا کہ جناب منیر نیازی تک چلا اُٹھے:
لاحاصلی ہی شہر کی تقدیر ہے منیر
اندر بھی گھر کے کچھ نہیں باہر بھی کچھ نہیں