قائد کا نقش قدم

صحافی  |  عطاء الرحمن

اگر یہ اطلاعات درست ہیں کہ اقتدار کے موجودہ سیٹ اپ نے جنرل مشرف کی جگہ لینے سے پہلے امریکہ اور برطانیہ وغیرہ کو زبان دی تھی کہ آئین توڑنے اور منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی پاداش میں پرویز مشرف کا مواخذہ کیا جائے گا نہ آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سزا دی جائے گی۔ تو کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ پاکستان کے آئین کی ایک اہم شق پر عملدرآمد کو عالمی سامراجی قوتوں کے قدموں پر نچھاور کر دیا ہے۔ اپنے اقتدار کے بدلے ملک کی حاکمیت اعلیٰ کا سودا کیا ہے۔ سب سے بڑے قومی مجرم کو معاف کر دیا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے آئین دیکھا گیا نہ قوم کی رائے لی گئی نہ اس ضمن میں منتخب پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل کیا گیا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے یہ مؤقف تو اختیار کیا اگر قومی اسمبلی متفقہ طور پر قرارداد منظور کر لے کہ جنرل مشرف کے خلاف کارروائی کی جائے تو ان کی حکومت یہ اقدام کر لے گی‘ لیکن یہ اعلان کرتے وقت انہیں بخوبی معلوم تھا اتفاق رائے ممکن نہیں دوسرے آئین اور قانون کی رو سے اس کی ضرورت بھی نہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے اس راہ عمل پر اصرار کیا کیونکہ موصوف کے نزدیک ناقابل عمل مؤقف اختیار کرنا ہی DOABLE تھا۔ مشرف کے خلاف اقدام نہ کرنے کی ماورائے آئین پالیسی کا خفیہ عہد وہ اور ان کے صدر صاحب عالمی قوتوں کے ساتھ کر چکے ہیں۔ اس طرح ہمارے حکمرانوں نے اس آئین کو رگید ڈالا ہے جس نے ان کی حکومت کو جواز بخشا ہے اور جس پر انہیں بڑا ناز ہے۔
اصل سوال یہ ہے کیا ہم نے مشرف جیسے آئین شکن شخص کو ملک کے بنیادی قانون کے تحت سزا نہ دیکر طالع آزمائی کے دروازے کو کھلا رکھنا ہے۔ کیا ہمارے نزدیک دستور مملکت کو بالادستی حاصل ہے یا بیرونی طاقت کے ایجنٹوں کو بچا کر رکھنا عزیز تر ہے۔ یہ وہ بنیادی سوال ہے جس پر ہمارے آئینی اور جمہوری مستقبل کا بڑی حد تک دار و مدار ہے۔ نواز شریف نے اگلے روز قطعی الفاظ میں واضح کر دیا ہے۔ وہ کسی قسم کی ڈیل میں شریک ہیں نہ اسے اس کی تائید حاصل ہے۔ انہوں نے قوم کو یقین دلایا ہے جس طرح بہت سے لوگوں کی ہوہاکار کے باوجود پرویز مشرف کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا۔ کئی بڑے لوگوں کے دعوؤں کے برعکس چیف جسٹس بحال ہوئے اور عدلیہ کو آزاد کرایا گیا‘ اسی طرح جنرل مشرف کے خلاف کارروائی بھی ہو کر رہے گی۔ یہ ایک ایسا نکتہ یا محور ہے جس کے گرد قوم کے تمام آئین دوست اور حقیقی جمہوریت کے حامی عناصر کو اکٹھا اور عوام کو متحد کیا جا سکتا ہے کیونکہ اسی میں پاکستان کی حقیقی آزادی اور آئین و جمہوریت کا راز مضمر ہے۔ قائداعظم اصولوں پر ڈٹ گئے تھے‘ انگریزوں کی پرواہ کی تھی نہ ہندو اکثریت کو خاطر میں لائے تھے۔ نتیجہ یہ ہے آ ج ساٹھ سال گزر جانے کے بعد ہندو بھارت کے اندر سے ان کی پامردی اور اصول پرستی کو اس طرح خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے کہ گاندھی اور نہرو کی روحیں بھی تلملا اٹھی ہوں گی۔ ضرورت ہے آج بھی کوئی لیڈر اٹھے اور قائد کے نقش قدم پر چلتا ہوا امریکی اغراض کو خاطر میں لائے نہ اندرون ملک اقتدار کے ان مجنونوں کو کوئی وقعت دے جن کے اول آخر حکومت کے ساتھ چمٹے رہنا ہی زندگی کی معراج ہے‘ خواہ ملک کی حاکمیت اعلیٰ اور قانون کی بالادستی جیسے آدرشوں کا خون ہوتا رہے۔