فاٹا میں بدلتا ہوا منظر

صحافی  |  سکندر خان بلوچ

میر ے ایک دو ست کا قول ہے کہ ’’ تا ریخ صرف کچھ سر پھر ے( معذر ت کیسا تھ) لوگو ں کے اعمال کا ریکارڈہے ۔ لیکن کہیں کہیں Exception بھی ہے۔ـــ \\\" فا ٹا\\\" میں اس و قت جو کچھ ہو رہا ہے۔وہ کچھ اسی قسم کے لو گ اسی قسم کے کا رنا مو ں میں مشغول ہیںجس سے نہ صر ف ان کا اپنا علا قہ بلکہ ملحقہ علا قے بھی جہنم میں تبد یل ہو گئے ہیں بلکہ ہر طر ف انسا نی تبا ہی اور خو ن ہی خو ن نظر آتا ہے ۔انہیں اس سے غر ض نہیں کہ مر نے والا کون ہے ۔مرد ہے یا عو رت۔ بوڑھا ہے یا بچہ۔ مسلما ن ہے یا غیر مذ ہب۔گنہگار ہے یا بے گنا ہ۔ایسی کوئی سو چ انکے نز دیک تک نہیں آتی۔خو ن!ہر طرف خو ن اور انسا نی تباہی ہی سے انہیں سکو ن ملتا ہے۔عجیب اتفاق ہے کہ فاٹا کا زیادہ تر علاقہ اسی قسم کے ’’سرپھر ے ‘‘ لوگو ں کا مسکن بن گیاہے۔ انہیں عرف عام میں ’’وار لارڈ‘‘ یا’’ کمانڈر‘‘ بھی کہا جا تا ہے۔انہی میں ایک’’ وارلا رڈ‘‘ بیت اللہ محسو د بھی ہے۔سنا ہے کہ ڈرو ن حملے میںاپنے سسر،بیوی،اور بچو ں سمیت ما را گیا ہے۔ اگر وا قعی ایسا ہے تو اس کی بخشش کیلئے د عا گو ہیں ۔ویسے دل نہیں ما نتا کہ یہ خبر سچ ہے کیو نکہ فاٹا کے’’ وا ر لارڈ ‘‘ میڈیا میں کئی دفعہ ہلا ک ہو تے ہیں اور پھر دوسرے دن تر دید آ جا تی ہے۔یہ بھی خبر ہے کہ بیت اللہ محسود کی بے پنا ہ دولت پر قبضے کی کو شش میں اُنکے دو اہم نائب کما نڈرز حکیم اللہ محسو د اور ولی الرّحمن بھی ما رے گئے ہیں۔ معلوم نہیں اس کا لم کی اشا عت تک یہ خبر درست رہتی ہے یا یہ لوگ پھر سے زندہ ہو جا تے ہیں۔ بہر حال حالات جو بھی ہو ں بیت اللہ محسو د کی موت کی خبر (در ست یا غلط) کسی بڑ ے طوفا ن کی آمد کا پتہ دیتی ہے۔تفصیل میں گئے بغیر اتنا کہہ دینا کا فی ہے کہ پاکستا ن کو جتنا دکھ اس ایک شخص نے دیا ہے شاید ہی کسی اور نے دیا ہو۔ خود کش دھما کوں اور قتل و غارت کے ایسے ایسے المنا ک واقعا ت جنا ب کی ذات سے منسو ب ہیں کہ سوچ کر ہی خو ف آتا ہے۔ اس ایک شخص کے اعمال یا بد اعما ل نے ہما ری تا ریخ کا رخ بدل دیا ہے اور ہمیں بہت سی اہم شخصیا ت سے محروم کر دیا ہے۔
بیت اللہ محسود کی موت فا ٹا میں اہم تبد یلیو ں کی ابتداء ہے کیو نکہ یہ شخص مو جو دہ تحر یک طالبان پاکستان کا با نی سمجھا جا تا ہے اور پورے فا ٹا میں چھو ٹے بڑے چالیس کے قریب دہشت گرد گر وپس کا تعلق با لواسطہ یا بلا واسطہ اس ایک شخص سے ہے۔ اسکے اپنے تر بیتی مرا کز ہیں جہا ں نو جو ان لڑ کو ں کو خود کشی کی تربیت دی جا تی ہے۔ دہشت گردی اور کمانڈو تر بیت کے علیحدہ مرا کز ہیں۔اس وقت تقریباً چار ہزار بہترین تربیت یا فتہ لوگ اسکے ساتھ ہیں ۔ خطرناک ہتھیاروں اور گولا بارودکے وسیع ذخائر کا مالک ہے ۔ذاتی دولت چار ارب روپے کے لگ بھگ ہے جس میں مسلسل اضافہ ہورہاہے ۔ پو رے فا ٹا میں اس کا سکہ چلتا ہے ۔ پا کستا ن کے تما م بڑ ے شہر وں میںبھی اسکے اڈ ے قا ئم ہیں اور اسکے آدمی پاکستان میں کہیں بھی کا روائی کر نے کی اہلیت رکھتے ہیں۔پاکستان کیلئے اس سے زیادہ خطرناک آدمی اس وقت پورے خطے میں موجود نہیں ۔یہاں یہ سوا ل پیدا ہو تا ہے کہ ایک غیر آبا د پہا ڑی علا قے میں پیدا ہو نیوالا شخص جو اعلی تعلیم سے بھی محروم ہو اتنا زیادہ طا قتور کیسے بنا ؟سیدھا جواب ہے کہ ہر وہ آدمی جو پا کستا ن کو نقصا ن پہنچا نے کا خواہشمند ہو‘ را اور موساد\\\"حاضر ہیں ۔ اسے بھی ابھارنے والی یہی دو طاقتیں ہیں۔ بعد میںہما ری پیر ومرشد ’’سی آئی اے‘‘ بھی شا مل ہو گئی اور عام سے قبا ئلی نوجوان کو’’ وار لارڈ‘‘ بنا دیا جو پاکستان کیلئے خو ف کی علا مت بن گیا ۔
بہت سے لو گوں کا خیا ل ہے کہ اس کی موت کے بعد کہ تحر یک طالبا ن کمزور ہو جا ئیگی۔ یہ مختلف گرو پس میںتقسیم ہو جا ئیگی اور یو ں پا کستا ن محفو ظ ہو جا ئیگا۔ خدا کر ے کہ ایسا ہی ہو لیکن میری چھٹی حس کچھ اور ہی کہتی ہے ۔ بیت اللہ صا حب امر یکہ کے آد می تھے ۔ را اور موساد کی دل پسند شخصیت تھے ۔ پچھلے کئی سا لوں سے پا کستا ن کی مسلسل کوششوں کے با وجود امر یکہ نے اسے نقصا ن نہیں پہنچنے دیا ۔دو دفعہ تو اسے عین نشانے کی زد میں آئے ہوئے بھی بچا لیا گیا ۔اب ایسی کونسی وجوہا ت ہیں کہ اسے امر یکہ نے اپنے نیک ہاتھو ں سے ما ر دیا ۔ یہی سب سے بڑا خطرہ ہے ۔ امریکہ کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے پٹھو پالتا ہے۔ ان سے کام لیتا ہے ۔ جب وہ کام کے نہیں رہتے یا نئی گیم کیلئے نئے ایکٹر ز کی ضرورت ہوتی ہے تو پرانے لوگوں کو ’’صدام حسین یا … ‘‘ بنا دیا جاتا ہے ۔
حالات سے ایسے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ خطے میں کسی نئی گیم پلان کی ابتدا ء کر چکا ہے جس کیلئے بیت اللہ کو راستے سے ہٹا یا گیا ہے یا پھر وقتی طور پر اسے کہیں رو پوش کردیا گیا ہے تاکہ کسی اہم موقع پر کسی ڈرامائی انداز میں اُس کا دوبارہ ظہور ہو۔ جس کیلئے پہلے ایک نیا سین تیا ر کیا جائیگا ۔ اگر موت والی تھیوری درست ہے تو پھر ہمیں شک نہیں رہنا چاہیے کہ اُس کی جگہ زیادہ مضبوط اعصاب والا دہشت گرد تیار کر لیا گیا ہے ۔اس سے بہتری کی بجائے پاکستا ن کے حالات زیادہ خراب ہونگے۔اگر کوئی دوسرا گیم پلان ہے جس میں کو ئی شک نہیں ہونا چاہیے تو اُس کے خدوخال تاحال واضح نہیں ۔ چند ہفتے مزید انتظار کر نا پڑے گا۔ لیکن اس وقت حالات جس طرف بڑھ رہے ہیں اُس کی دھندلی سی تصویر دیکھی جاسکتی ہے ۔
1۔افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد بڑھ چکی ہے اور برطانیہ نے آئندہ چالیس سال تک افغانستا ن میں فوج رکھنے کا عندیہ دے دیا ہے ۔
2۔امریکہ بار بار الزام لگا رہا ہے کہ القاعدہ کی قیادت پاکستان میں روپوش ہے۔
3۔بلوچستان میں بلوچ شدت پسندوں کی کاروائیاں مزید بڑھ چکی ہیں ۔ اُن کا طریقہ واردات بالکل طالبان والا ہو گیا ہے ۔اساتذہ اور سرکاری حکام کا اغواء اور پھر اُن کا قتل معمولی واقعات نہیں ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں بلوچ علیحدگی پسند نوجوانوں نے حکومتی رٹ چیلنج کردی ہے جس کا تاحال حکومت کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔یاد رہے کہ علیحدگی پسند تحریک میں ناصرف شدت آرہی ہے بلکہ اُس کی سپورٹ بھی روز بروز بڑھ رہی ہے ۔
5۔اسلام آباد کے اہم ترین علاقے کے ارد گرد با ڑ لگا کر امریکہ نے اپنی ’’امریکی سٹیٹ ‘‘ قائم کر لی ہے۔ یہ پاکستانیوں کیلئے ’’نوگوایریا ‘‘ بن چکا ہے جہاں کسی عام پاکستا نی کو جانے کی اجازت نہیں ۔ بقول میڈیا وہاں ایک ہزار امریکن میرین فوجی آچکے ہیں ۔ مزید کیلئے عمارت تعمیر کی جارہی ہے ۔وہاں آنے والی اور وہاں سے باہر جانیوالی کسی چیز کو کوئی پاکستانی چیک نہیں کر سکتا ۔اسکے ساتھ ہی تربیلا جیسی اہم جگہ پر بھی امریکی چھائونی وسیع کی جارہی ہے ۔
6۔پاکستان کے تمام اہم قومی ادارے مالی طور پر دیوالیہ ہوچکے ہیں ۔ اندرونی اور بیرونی قرض اتنا بڑھ چکا ہے اور مسلسل بڑھ رہا ہے جسے شاید ہم اگلی نصف صدی میں بھی ادا نہ کر سکیں ۔
فی الحال ان تمام واقعات کا باہمی کوئی تعلق نظر نہیں آتا لیکن کسی بھی گیم پلین کو آخر ی شکل دینے میں دیر نہیں لگے گی ۔اس گیم پلین کے جو بھی خدوخال واضح ہونگے اُ نکی بنیاد فاٹا میں ہی ہوگی ۔کیا ہماری حکومت اس کیلئے تیار ہے یا وہ بھی اس کا حصہ ہے ۔