ظہرانہ

کالم نگار  |  ادیب جاودانی

گزشتہ روز پی آئی ڈی کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر چوہدری رشید احمد نے لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں لاہور کے سینئر کالم نگاروں اور ایڈیٹروں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ اس ظہرانہ میں راقم کے علاوہ پی آئی ڈی کے سابق انفارمیشن آفیسر شبیر انور‘ جمیل اظہر‘ اسد اللہ غالب‘ عمر مجیب شامی‘ رحمت علی رازی‘ عبدالقادر حسن اور متعدد کالم نگار موجود تھے۔ پی آئی ڈی لاہور کے ڈائریکٹر اعجاز حسین نے مہمان نوازی کے فرائض سرانجام دئیے۔ پرنسپل انفارمیشن آفیسر چوہدری رشید احمد نے حال ہی میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ چوہدری رشید احمد کا شمار انفارمیشن گروپ کے سینئر افسران میں کیا جاتا ہے آپ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں‘ انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے لئے ان کے دفتر کے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو معلومات کی فراہمی اور فلاح و بہبود کے لئے وہ ہرممکن اقدامات کریں گے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو مزید فعال بنانے کے لئے وہ صحافیوں کی تجاویز کا خیر مقدم کریں گے۔ چوہدری رشید احمد کی تقریر کے بعد زیادہ تر صحافی صدر زرداری کی کردار کشی کا ہی تذکرہ کرتے رہے ہیں۔ ایک صحافی کا کہنا تھا کہ ایک عرصہ سے پارٹی کے سربراہ کی کردار کشی کی جا رہی ہے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے بعض نادیدہ قوتوں نے ایک مخصوص چینل اور اخبار کو خرید لیا ہے اور اسے اپنے مخصوص مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان دنوں اسلام آباد میں مائنس ون فارمولا زیر بحث ہے جس کا مقصد انہیں ایوان صدر سے نکالنا ہے۔ راقم نے اس صحافی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا بطور صدر ان کی قدر و منزلت ہم سب پر لازم ہے ان کی عزت دراصل ملک اور قوم کی عزت ہے صحافیوں کو صدر مملکت کی ذات کو نشانہ بنانے کی بجائے ان کے غلط فیصلوں اور پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانا چاہئیے جو ملک اور قوم کے لئے نقصان دہ ہیں تاکہ صدر مملکت ان کی اصلاح کر لیں تاکہ وہ آئندہ ایسی غلطیوں کو نہ دہرا سکیں۔ صدر زرداری اگر اپنی مقبولیت میں اضافہ چاہتے ہیں اور آئندہ الیکشن میں کامیابی چاہتے ہیں تو انہیں پرویز مشرف کا احتساب کرنا ہوگا۔ بی بی سی کے مطابق مشرف کے خلاف کارروائی میں قانونی اعتبار سے کوئی رکاوٹ نہیں لیکن سیاست دان مشرف کا ٹرائل کرنے کی خواہش تو رکھتے ہیں لیکن ان کو فوج کا خوف ہے۔ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈیل سے آنے والی حکومت مشرف کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی اور ان لیگ بھی منقسم ہے اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث کارروائی آگے نہیں بڑھے گی اور پرویز مشرف کی موجاں ای موجاں ہیں لیکن آنے والے کل کے بارے میں خدا ہی بہتر جانتا ہے۔