سانحہ گوجرہ…چند واقعات

صحافی  |  معین باری

سانحہ گوجرہ ملکی تاریخ کا افسوسناک واقعہ ہے۔ اندرونی اور بیرونی ملک دشمن عناصر جو خانہ جنگی کرا کے پاکستان کو معاشی، دفاعی لحاظ سے کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی ان کی سازشی پلاننگ کا ایک اہم جزو ہے۔ 1971ء میں خانہ جنگی کے ذریعے ملک دولخت ہوا۔ سوات، مالاکنڈ، وزیرستان میں خانہ جنگی کی آگ بھڑکا دی گئی بلوچستان میں مشرقی پاکستان جیسے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں اور اب دشمنوں نے مسلمانوں اور مسیحیوں کو آپس میں لڑانے کیلئے منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق سانحہ گوجرہ میں دو باتیں غور طلب ہیں۔ پہلی یہ کہ گھیرائو جلائو اورقتل و غارت کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب باہر سے مسلح نقاب پوش جائے وقوع پر پہنچ گئے۔ دوسری خبر یہ کہ تصادم میں نقصان دونوں اطراف ہوا…مسیحیوں کا زیادہ ہوا۔ جن کے گھروں کو آگ لگا دی گئی اور ان کی اموات ہوئیں اطلاعات ہیں کہ مسیحیوں کی فائرنگ سے دس پندرہ مسلمان بھی زخمی ہوئے۔ سابق ایم این اے کیپٹن نثار اکبر نے مجھے بتایا کہ گوجرہ کے جن دیہاتوں میں عیسائی آباد ہیں وہ کافی بااثر، متمول اور منظم لوگ ہیں۔بعض عیسائی زمینداروں کی اپنی زمینیں اور حویلیاں ہیں۔ ان سب کو بھنگی یا خاکروب تصور کرنا غلطی ہے۔
سانحہ گوجرہ کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے جس طریق سے سنبھالا دیا وہ قابل ستائش ہے۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کافی دنوں تک متاثرہ علاقوں میں رہے۔ وہ دونوں مخالف فریقوں کے مابین نفرت اور دشمنی کی آگ کو ٹھنڈا کرتے رہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم بھی گوجرہ تشریف لائے اور زمینی حقائق کو جاننے اور متاثرہ خاندانوں کو سہارا دینے کی سعی کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے معاملہ کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ و سیشن جج فیصل آباد محمود مقبول باجوہ پر مشتمل انکوائری کمیشن تشکیل دے دیا۔ آئی جی پولیس پنجاب سلیم ڈوگر نے بھی گوجرہ پہنچ کر معاملات کا جائزہ لیا۔بعض صوبائی وزراء کے بیانات ٹی وی پر سننے کا اتفاق ہوا۔ جہاں سے پتہ چلا کہ عیسائیوں کی شادی کی تقریب میں عیسائی بچوں نے قرآنی صفحات کا عاجلانہ استعمال کیا جس کا نوٹس بعض مولوی حضرات نے لیا۔
ڈاکٹر اجمل خاں نیازی کے مضمون بعنوان ’’جہاں مسیحی اکثریت میں ہیں‘‘ سے اشارہ ملا کہ ’’چرچ کے سامنے زمین کا جھگڑا تھا ‘‘۔ موصوف لکھتے ہیں ’’اگر چرچ کے سامنے زمین کا جھگڑا تھا تو اس میں قرآن کو لانے کی کیا ضرورت تھی۔ ہم نے قرآن کو جھوٹی قسم کھانے کیلئے استعمال کیا اب اسے خود ساختہ دشمن پر وار کرنے کیلئے ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔‘‘
ڈاکٹر موصوف لکھتے ہیں ’’گوجرہ میں جن علماء کرام نے لوگوں کو اکسایا تھا وہ حملہ ہوتے ہی موقع واردات سے چلے گئے۔ اس دوران کئی دن پہلے انتظامیہ کو باخبر کردیا گیا تھا مگر کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ ڈی پی او اور ڈی سی او نے کوئی پرواہ نہ کی۔ کیا بیوروکریٹ کوئی اعلیٰ مخلوق ہیں۔‘‘ نیازی صاحب بیوروکریٹ اعلیٰ مخلوق تو ہیں… اعلیٰ گھرانوں کے سپوت، اعلیٰ تعلیم یافتہ، پبلک سروس کمیشن کے ذریعے اعلیٰ امتحانوں سے گزرنے والے نوجوان۔ اعلیٰ سول اکیڈمیوں کے تربیت یافتہ جنہیں ’’کریم آف نیشن‘‘ کہا جاتا ہے وہ عام پاکستانیوں کے مقابلہ میں اعلیٰ تو ہونگے۔ وہ عوام سے مختلف بھی ہونگے۔ وہ اس لئے کہ حکومت اور افسری کا نشہ ضرور ہوتا ہے۔ لیکن سارے افسر اور بیوروکریٹ نااہل۔ ڈھیلے اور غیر ذمہ دار نہیں ہوتے۔ سانحہ گوجرہ صرف دو اعلیٰ سول افسروں ڈی سی او اور ڈی پی او کی سستی اور نااہلی کی وجہ سے پیش نہیں آیا۔ اس خونی ڈرامہ کے اور اداکار برابر کے شریک ہوسکتے ہیں۔ڈاکٹر اجمل نیازی لکھتے ہیں ’’انتظامیہ نے جان بوجھ کر حملہ آوروں کو وہ راستہ دکھایا جو آگ اور خون سے لت پت ہو اورپھر راکھ چاروں طرف اڑنے لگی۔ جب فائرنگ ہو رہی تھی تو انتظامیہ اور پولیس کہاں تھی انتظامیہ وقوع ہونے دیتی ہے اور پھرکارروائی ڈالتی ہے۔‘‘
نیازی صاحب گوجرہ میں جو کچھ ہوا بہت برا ہوا…نہ میں وہاں تھا نہ آپ تھے۔ دوستوں کی اطلاعات اور میڈیا کی خبروں سے حالات کا پتہ چلتا رہا۔ گوجرہ کے خونی ڈرامہ کی خبریں سن کر محسوس ہونے لگا کہ جنرل پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام نے ملکی انتظامیہ کو اسقدر کمزور اور بے بس کردیا ہے کہ اپنے فرائض موثر طریق سے سرانجام نہیں دے سکتے۔
-1یاد رہے کہ موجودہ قانون کے مطابق ضلعی انتظامیہ کا انچارج ضلع ناظم ہے نہ کہ D.C.O۔ اسکا کردار محض کوارڈینیٹنگ افسر کا ہے۔
-2پولیس ضلع ناظم کے ماتحت ہے نہ کہ ڈی سی او کے ماتحت۔ امن و امان سے ڈی سی او کا بالواسطہ کوئی تعلق نہیں۔
-3 30جولائی کی شام جب گوجرہ میں بے حرمتی والا واقعہ ہوا تو ایک گھنٹہ کے اندر ڈی سی او اور ڈی پی او دونوں موقعہ پر پہنچے چونکہ معاملہ مذہبی منافرت کا تھا اسلئے دونوں پارٹیوں میں صلح کرانے کی کوشش کی گئی۔
-4 ڈی سی او نے بہت کوشش کی کہ عیسائی برادری کا کوئی معقول آدمی واقعہ کی مذمت کرے تاکہ مولوی حضرات کا غصہ ٹھنڈا ہو لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔
-5 31جولائی کو جمعہ تھا۔ مساجد سے مختلف قسم کے اعلانات شروع ہوئے۔ ڈی سی او اور ڈی پی او دونوں موقع پر پہنچے۔ ڈی سی او نے امن کمیٹی کو متحرک کیا۔ اس میں کوئی لوکل لیڈر، ممبر اسمبلی یا ناظم نہ آیا۔ عیسائی لیڈر شپ بھی غیر حاضر تھی۔ صورت حال کو دیکھتے ہوئے ڈی سی او اور ڈی پی او دونوں نے اپنے اپنے چینل سے افسران بالا کو اطلاع دی۔ راہنمائی اور مدد مانگی۔ جس کے نتیجہ میں پنجاب کنسٹیبلری کی کچھ نفری پہنچی۔ جنہوں نے موقعہ سنبھالا یہ دونوں افسران سارا دن صلح کی کوشش کرتے رہے۔
-6 گوجرہ پولیس کے ایس ایچ او کی چند روز پہلے کچھ ممبران حضرات نے پٹائی کی تھی اور اسے معطل کر دیا تھا۔ پولیس کے حوصلے پست تھے۔ اسی دوران مولوی حضرات مسجدوں میں سپیکروں پر منافرت کے مزید شعلے اگلنے لگے۔ پولیس ممبران کے ڈر سے محض اشک شوئی کرتی رہی۔
-7 31جولائی کی صبح ڈی سی او اور ڈی پی او دونوں موقعہ پر پہنچے پنجاب کنسٹیبلری جسے حالات پر قابو پانے کیلئے بھیجا گیا تھا، نے احکامات ماننے سے انکار کردیا۔ یہ فورس لاہور ایس پی کے ماتحت تھی۔اس دوران 3 گھنٹے گزر گئے۔ حالات خراب ہونے لگے۔ ڈی سی او نے مقامی ممبران ناظم صاحبان اور کامران مائیکل کو بار بارموقعہ پر آنے کی درخواست کی لیکن کوئی نہ آیا۔ صرف تحصیل ناظم آیا وہ 10منٹوں میں غائب ہوگیا۔
-8 اس دوران عیسائیوں نے فائرنگ کردی جس میں اعوان ٹائون کے چند لڑکے زخمی ہوگئے۔ فوری مساجد میں اعلانات ہوئے اور ہجوم ہوگیا۔ پنجاب کنسٹیبلری کو منت سماجت کرکے واپس بلا لیا گیا۔ شام تک جھنگ اور فیصل آباد سے بھی پولیس کی نفری آگئی۔
-9 اب ایک طرف عیسائی آبادی تھی اور دوسری طرف بپھرا ہوا مسلمانوں کا ہجوم۔ یہ تمام عرصہ ڈی سی او اور ڈی پی او ہجوم کے درمیان حالات کو قابو کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ جونہی وہ مولانا حضرات کو روکتے عیسائی آبادی کی طرف سے فائر آجاتا اور ہجوم پھر بپھر جاتا۔ ڈی سی او اور ڈی پی او پر پتھروں اور گالیوں کی بوچھاڑ آجاتی۔
-10 اس دوران ڈی پی او زخمی ہوا اور اسکے گن مین کو بھی گولی لگی۔ ڈی سی او نے پتھر کھائے۔ ٹی این اے کی آنکھ کے نیچے زخم آئے۔
-11 ڈی سی او نے ذاتی طور پر سامنے والی عیسائی آبادی کو وقتی طور پر گھر چھوڑ دینے کیلئے کہا لیکن کچھ لوگ نہ گئے جو باہر سے آنے والے دہشتگردوں کے ہاتھوں مارے گئے، اور بعض عیسائی گھرانوں کو آگ لگا دی گئی۔
-12 پچھلے پہر باقی افسران، مزید پولیس، سردار کھوسہ صاحب اور کامران مائیکل اور باقی لوگ بھی آگئے۔
ان حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بگڑے ہوئے حالات کو سدھارنے میں ناظمین مذہبی لیڈروں، پولیس نفری نے بروقت اور موثر کردار ادا نہ کیا۔ اگر رینجرز کو 31 جولائی دوپہر کے وقت گوجرہ بھیج دیا جاتا تو عیسائیوں کی اموات نہ ہوتیں۔ مسلمان زخمی ہونے سے بچ جاتے اور حالات سنبھل جاتے۔ ہر ضلع ہیڈ کوارٹر میں خفیہ ایجنسیوں کے افسر ہوتے ہیں، انہوں نے وقت سے پہلے سنگین حالات کو بھانپ کر گورنر اور وزیراعظم کو مطلع کیوں نہ کیا۔
اصل حقائق کا تو جوڈیشل انکوائری کے بعد ہی پتہ چل سکے گا کہ سانحہ گوجرہ کے اصل ذمہ دار کون لوگ تھے۔ اس اندوہناک واقعہ سے ایک بات واضح ہے کہ انتظامیہ کو بلدیاتی نظام کے تحت کرنے سے جہاں ملکی امن و امان خراب ہوا ہے وہاں مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آگیا ہے جس نے ملک میں غریب اور سفید پوش کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔