اُدھر کے بابے تیز ہیں

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

ہر سال کی طرح اس سال بھی رویت ہلال کمیٹی نے اپنا فرض ادا کرتے ہوئے قوم کو ماہ رمضان کے آنے کی خبر دی کہ روز رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا‘ خیر سے بروز اتوار روزے داروں کا پہلا روزہ ہو گا۔
وطن عزیز میں جب سے ہلال کمیٹی کی روایت پڑی ہے‘ تب سے پاکستانی قوم دو دو عیدوں کا لطف اٹھا رہی ہے۔ ہر سال ملک میں دو عیدیں منائی جاتی ہیں‘ کسی سال انکی تعداد تین بھی ہو جاتی ہے۔ صوبہ سرحد ایک دن پہلے جبکہ باقی صوبوں میں دوسرے دن عید کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہم جب ٹی وی پر ہلال کمیٹی کا اجلاس دیکھ رہے تھے‘ حالانکہ دل کو یقین ہو چلا تھا کہ چاند چڑھ گیا ہے‘ مگر پھر بھی ہم نے کمیٹی میں شامل افراد کے ناموں کی لمبی فہرست سنی اور صرف یہ دیکھنے کیلئے اجلاس کی کارروائی میں محو تھے کہ سال کا سب سے باریک چاند دیکھنے کیلئے حکومت کی طرف سے جو کمیٹی بنائی گئی ہے اس میں ماشاء للہ سارے کے سارے موٹی موٹی عینکوں والے بابے موجود تھے ‘ جنہیں چودھویں کا چاند بھی بمشکل نظر آتا ہوگا‘ ایسی آنکھ والا کوئی بابا یا جوان کمیٹی میں موجود نہیں تھا ‘جو پہلی نظر میں چاند دیکھ کر گواہی دے سکتا ہو کہ ’’چن چڑھ گیا اے‘‘۔
ہمیں یاد ہے پچھلے سال بھی عید کا چاند دیکھنے کیلئے یہ اجلاس کافی دیر تک جاری رہا تھا ‘ قوم سو چکی تھی‘اسے یقین تھا کہ چاند ڈھونڈنے والے بابے جا گ رہے ہیں‘ اور وہی ہوا کہ تقریباً رات کے بارہ بچے ان بابو نے اپنا چاند چڑھا کر سوئی ہوئی قوم کو اٹھا کر خریداری اور دیگر کاموں میں مصروف کردیا۔
کبھی ہم افسانوں ‘ ڈراموں یا فلموں میں دیکھا کرتے تھے کہ دنیا والوں کے خوف سے محبوب کا چاند رات کے بارہ بجے نکلتا تھا اور دن نکلے سے پہلے اپنی چاندنی سے مل کر گھر لوٹ جاتا تھا۔ مگر جب سے ہماری عید کے چاند نے رات بارہ بجے چڑھے کا فیصلہ کیا ہے‘ تب سے محبوب کے چاند نے بھی اپنا وقت بدل لیا ہے بلکہ وہ تو اب دن دیہاڑے بھی چڑھ جاتا ہے جسے کوئی غیرت مند باپ‘ بھائی یا ماموں چاچا مشتعل ہو کر قتل کر دیتا ہے۔
عید کا چاند ڈھونڈنے میں سرحدی بابے ہمیشہ کی طرح اس سال بھی زیادہ تیز ثابت ہوتے ہیں‘ وہ اپنا چاند کہیں نہ کہیں سے ڈھونڈ نکالتے ہیں ‘ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ انہیں ہر سال رویت ہلال کمیٹی سے ایک دن پہلے چاند مل بھی جاتا ہے۔
ملک میں یہ بد روایت نہ جانے کب ختم ہو گی ‘ پاکستان کو وجود میں آئے آج 63 سال ہو چکے ہیں‘ مگر ایک قوم ہونے کے باوجود ہم اپنا مذہبی تہوار ایک دن منانے پر متفقہ نہ ہو سکے‘ حالانکہ ترقی کے اس دور میں ایسی جدید ٹیکنالوجی وجود میں آچکی ہے جس کی مدد سے چاند دیکھ کر قوم کو ایک عید منانے پر متفق کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے محکمہ موسمیات کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اول تو ایسا ممکن نہیں کہ ہمارے پاس ایسی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہ ہو‘ اگر بدقسمتی سے اب تک ہمارے پاس یہ ٹیکنالوجی نہیں آئی تو حکومت کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر ایسی دوربینیں درآمد کرنی چاہئیں‘ جس سے یہ مسئلہ حل ہو سکے اور عید جیسے مذہبی تہوار منانے کیلئے پوری قوم کو اکٹھا کرکے ایک دن پر متفق کیا جا سکے۔ جب تک یہ ٹیکنالوجی حاصل کرنا ممکن نہیں‘ تو کم از کم حکومت کو اس کمیٹی میں ایسے جوان علماء کو شامل کرنا چاہئے جو کم از کم رات ہونے سے پہلے پہلے چاند نکلنے کی خبر دے سکیں کہ:
’’چن چڑھ گیا اے‘‘ ۔