انٹری ٹیسٹ

کالم نگار  |  محمد مصدق

پاکستان میں انٹری ٹیسٹ صرف اس لئے لاگو کر دیا گیا کہ یہاں نقل ہوتی ہے اور کوئی بھی زیادہ نمبر لے سکتا ہے، اس طرح تو اول آنے والوں کی پذیرائی بھی نہیں ہونی چاہئے کہ شاید انہوں نے نقل کی ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ نقل کے زمانے گئے اب نظام تعلیم بہت اچھا ہو چکا ہے اور اردو میڈیم کے طلبہ بھی انگلش میڈیم کے طلبہ کا مقابلہ کرتے ہیں اور ان کے شانہ بشانہ امتحانات میں پوزیشن لیتے ہیں لیکن اچھے نمبر لینے کے بعد طلبہ ایک نئے عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ انہیں اچھے تعلیمی ادارے میں داخلہ لینے کے لئے نئے سرے سے اپنا نصاب (جس کے امتحانی پرچے وہ دے چکا ہے) دوبارہ سے دیکھنا پڑتا ہے کیونکہ انٹری ٹیسٹ میں اچھے نمبر لئے بغیر اچھے تعلیمی ادارے میں داخلہ ناممکن ہے۔
اب اس سے بڑی ستم ظریفی کیا ہو سکتی ہے کہ انٹری ٹیسٹ میں ایک بنیادی غلطی ہے جس کا ازالہ بہت ضروری ہے۔ ویسے تو بے شمار والدین نے نوائے وقت کو اس مسئلہ کے بارے میں بتایا لیکن ماہر تعلیم اور تحقیق ڈاکٹر پروین خان نے ایک بنیادی نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پروین خان نے بتایا کہ پری انجنیئرنگ میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے گورنمنٹ کالج کے طالب علم نے 1036 نمبر حاصل کئے جبکہ اے لیول میں زیادہ سے زیادہ نمبر 935 ملتے ہیں جس کی وجہ سے میرٹ میں ایک سو ایک نمبروں کا فرق تو انٹری ٹیسٹ سے پہلے ہی پیدا ہو جاتا ہے کچھ عرصہ پہلے ایک پاکستانی طالب علم علی معین نوازش نے 21 اے لے کر دنیا بھر میں پاکستانی ذہانت کے جھنڈے گاڑ دئیے تھے لیکن نئی حیرت کی بات یہ ہے کہ اسی طالب علم کا میرٹ الیکٹرونکس میں اتنا نیچے تھا کہ اسے اچھے تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں مل سکتا تھا لیکن دوسری طرف جن ممالک کا یہ تعلیمی نظام ہے وہ اپنے نظام کا جھنڈا بلند رکھتے ہیں چنانچہ کیمبرج نے اس ذہین پاکستانی نوجوان کو خود داخلہ پیش کیا۔ میاں شہباز شریف اس وقت تعلیم کے میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں اور عملی طور پر پڑھا لکھا پنجاب وجود میں لا رہے ہیں اس لئے انہیں چاہئے کہ آج یعنی اتوار کو ہونے والے انٹری ٹیسٹ میں اے لیول اور دوسرے طلبہ میں انصاف کے ساتھ میرٹ کا تعین کیا جائے۔