کیا کراچی کو زیادہ شہروں میں تقسیم کردینا چاہئے؟

کالم نگار  |  سید سردار احمد پیرزادہ
کیا کراچی کو زیادہ شہروں میں تقسیم کردینا چاہئے؟

کراچی اتنی بڑی آبادی کا ایک شہر بن چکا ہے جو پاکستان جیسے غریب اور ungoverned ملک کے لئے ناقابلِ کنٹرول ہے۔ ہم اکثر یہ بات بڑی دھوم سے بتاتے ہیں کہ کراچی پورے ملک کی معاشی hub ہے۔ یہاں پورے ملک سے آئے ہوئے مختلف طبقوں، زبانوںاور کلچر کے لوگ رہتے ہیں۔ فخر سے بتائی جانے والی یہ باتیں ہی شاید اُس بگاڑ کی ابتداء ہیں جس کے باعث آج سب پاکستانی کراچی کے حوالے سے دکھی ہیں۔ آبادی کا ناقابلِ برداشت بوجھ ایک علاقے میں اکٹھا نہ کیا جاتا اور سب سے زیادہ معاشی سرگرمیوں کو صرف ایک مقام پر جمع نہ کیا جاتا تو ملک کے گوشے گوشے سے سینکڑوں میل چل کر لوگ اپنا خوشحال مستقبل تلاش کرنے کیلئے کراچی میں آباد نہ ہوتے۔ اگر معاشی سرگرمیاں، شہری سہولتیں اور بہتر مستقبل کے مواقع پاکستان کے مختلف حصوں یا کم از کم اندرونِ سندھ کے مختلف علاقوں میں پھیلا دیئے جاتے تو اتنے زیادہ انسانوں کا وزن صرف کراچی پر نہ پڑتا بلکہ بڑے علاقے پر پھیل جاتا۔ سائنس اور منطق کے اصول کے مطابق بھی جب سارا بوجھ ایک مخصوص جگہ پر ڈال دیا جائے تو وہ حصہ دبائو کا شکار ہوجاتا ہے اور اگر وہی وزن بڑے حصے پر پھیلا دیا جائے تو کوئی علاقہ بری طرح متاثر نہیں ہوتا بلکہ وزن بٹ جانے سے بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے کراچی کا دردناک ایشو اُس وقت سے شروع ہوتا ہے جب کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر، معاشی سنٹراور مرکز بننا شروع ہوا۔ اس میں جہاں گزشتہ 70 برس کے ہمارے حکمرانوں کی کم عقلی اور غیرمنصوبہ بندی شامل تھی وہیں مخصوص نیتوں کا عمل دخل بھی تھا۔ اس پورے معاملے کو بہت پہلے شاید foresee کرتے ہوئے ہی ملک کا دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد شفٹ کیا گیا لیکن بعد میں آنے والی چالاک یا سطحی ذہن رکھنے والی حکومتوں نے دارالحکومت کی شفٹنگ کی اصل وجہ کی طرف توجہ نہیں دی بلکہ اسلام آباد کو محض حکمرانی کی مچان بناکر رکھا۔ اب بھی بڑے بڑے ملکی و غیر ملکی مالیاتی اداروں کے تمام مرکزی دفاتر کراچی میں ہیں، اب بھی تقریباًََ تمام بنکوں کے ہیڈ آفس کراچی میں ہیں، اب بھی بڑی اشتہاری کمپنیوں کے ہیڈ آفس کراچی میں ہیں، اب بھی زیادہ تر بڑے میڈیا ہائوسز کے مرکزی دفاتر بھی کراچی میں ہی ہیں اور حد تو یہ ہے کہ چینلز پر اشتہارات کے لئے ریٹنگ کی judgment بھی زیادہ تر کراچی سے ہی کی جاتی ہے۔ فرض کریں اگر کراچی کی آبادی اتنی زیادہ نہ ہوتی تو کیا وہاں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بہتر نہ ہوتی؟ کیا خوبصورت کراچی کچرا سٹی بنتا؟ لیکن آبادی کیسے کم ہو سکتی تھی کیونکہ روزگار اور بہتر مستقبل کے مواقع پورے ملک سے زیادہ یہاں پیدا کئے جارہے تھے یا ہو رہے تھے یہ شروع سے انسانی فطرت ہے کہ جہاں انسانی بھوک، پیاس اور تحفظ کا بندوبست ہوگا اُسی طرف انسانوں کی ہجرت شروع ہو جائے گی۔ بالکل ایسے ہی جیسے چند چیونٹیاں اگر کوئی خوراک کا ٹکڑا دیکھ کر اُس کی طرف جائیں تو اُن کے پیچھے پیچھے لاتعداد چیونٹیاں چلی آتی ہیں۔ سیمیناروں، تقریروں اور میڈیا پر ہم اکثر تجزیئے بھی سنتے ہیں اور نصیحتوں کی باتیں بھی اُن سب میں یہی کہا جارہا ہوتا ہے کہ کراچی میں امن قائم ہونا چاہئے، کراچی کے اثرات پورے ملک پر جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اگر ہم غور کریں تو انسان صرف نصیحتوں اور تجزیئوں سے مکمل طور پر کنٹرول نہیں کئے جا سکتے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو الہامی و مذہبی کتابوں اور اقوالِ زریں کی موٹی موٹی کتابوں میں بہت سی نصیحتیں اور ہدایتیں موجود ہیں لیکن انسانوں کو کنٹرول کرنے کیلئے قانون، منصوبہ بندی اور جزاوسزا کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جب کسی آبادی کا کوئی گروہ قانون سے کنٹرول نہ ہوسکے تو اُس پر نصیحتیں اور اقوالِ زریں بھی اثر نہیں کرتے۔ اُس کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ کراچی کی موجودہ صورتحال سے گھبرائے پاکستانی شہریوں کو دلاسہ دینے کیلئے مختلف تجاویز سامنے آتی رہی ہیں جن میں کبھی کمشنری نظام کو بحال کرنا کبھی ختم کرنا، کبھی بلدیاتی نظام کو لانے کی بات کرنا، کبھی شہر کو رینجرز کے حوالے کرنے کا حکم سوچنا اور آخری آپشن کے طور پر فوج کو بلانا وغیرہ شامل ہیں۔ اِن اقدامات سے کراچی کا موجودہ خراب ماحول اگر کسی طرح وقتی طور پر ٹھیک ہو بھی جائے تو کیا یہ ایک مستقل حل ہوگا؟ کیونکہ اس سے قبل بھی سِول اور فوجی تمام آپشنز اب تک کراچی میں استعمال کئے جا چکے ہیں لیکن معاملات کچھ عرصے بعد پھر پہلے سے زیادہ خراب ہوجاتے ہیں تو کیا ہمیں کراچی کے اصل مسئلے یعنی وہاں معاشی اور دیگر سہولتوں کا پورے ملک سے زیادہ اکٹھے ہونے کو زیرِغور نہیں لانا ہوگا؟ کیا یہ معاشی سرگرمیاں اور سہولتیں اور مختلف دفاتر کے ہیڈ آفس صرف کراچی کی بجائے پورے ملک میں پھیلا نہیں دینے چاہئیں؟ کراچی کے موجودہ ایک شہر کو مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کیا ان زونز کو علیحدہ علیحدہ شہر بناکر ان کی سرحدیں نہیں بنا دینی چاہئیں؟ اور ہر شہر علیحدہ سے ایک مکمل خود مختار انتظامی شہر ہو یعنی پورا کراچی ایک کی بجائے زیادہ شہروں میں تقسیم ہو جائے تاکہ وہاں کی آبادیوں کو آسانی سے قانون کے دائرے میں لایا جاسکے۔ اہم ترین بات یہ کہ کراچی سے سبق سیکھتے ہوئے لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، پشاور، گوجرانوالہ اور ملتان وغیرہ جیسے زیادہ بڑے ہوتے دوسرے شہروں کو بھی ابھی سے کیا کنٹرول کرنا ضروری نہیں ہوگا؟ سب سے ضروری بات یہ کہ پاکستان کے سابقہ کیپیٹل کراچی میں موجود سٹیٹ بینک، مالیاتی اداروں اور بینکوں کے ہیڈ آفسز کو پاکستان کے نئے موجودہ کیپیٹل اسلام آباد میں ہی منتقل کرنا چاہئے کیونکہ ہیڈ آفسز کی جگہ کیپیٹل میں ہی ہوتی ہے۔