کالاباغ ڈیم … گورنر سلمان تاثیر اور میاں نواز شریف

اصغر علی گھرال ....
لگتا ہے قدرت کو پاکستان بچانا منظور ہے چنانچہ آسمانوں پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حق میں فیصلہ صادر ہو چکا ہے، اب زمین پر اس فیصلہ کے نافذ العمل ہونے کا زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑیگا۔ سیلاب پہلے بھی آتے رہے ہیں لیکن تاریخ کے اس بدترین سیلاب کی پہلے سے کوئی مثال نہیں ملتی۔ عالمی ماحولیات میں تبدیلی،گلوبل وارمنگ اور گلیشئرز کے پگھلنے کے عمل کے باعث آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں دوبارہ ایسی ہی یا اس سے بھی مہیب تر کسی آفت کا کب سامنا کرنا پڑ جائے؟ اس لئے فراست کا تقاضا یہی ہے کہ ایک دن بھی ضائع کئے بغیر ہمیں اسکے بچائو کی تدابیر کرنا ہونگی۔ اس حوالے سے ادارہ نوائے وقت اور محترم مجید نظامی صاحب صد مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کا وقت کی نبض پر ہاتھ ہے اور وہ اپنا قومی فریضہ بطریق احسن ادا کر رہے ہیں۔ حالیہ قومی ریفرنڈم کا انعقاد کر کے عظیم کارنامہ سرانجام دیا گیا ہے۔ اس دوران عید کے تحفہ کے طور پر گورنر سلمان تاثیر کی طرف سے پریس کانفرنس میں کالا باغ ڈیم کی کھل کر حمایت بھی قابل ذکر خوشگوار واقعہ ہے۔ انکی دردمندانہ اپیل تدبر اور روشن دلائل سے مزین ہے۔ چند نکات ملاحظہ فرمائیں۔
(1) سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے اور قومی خوشحالی کے عمل کیلئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہے۔ تمام صوبوں اور قوتوں کو اسکی تعمیر پر متفق ہونا ہوگا۔
(2) اگر فوری طور پر ملک میں ڈیمز نہ بنائے گئے تو یہ اجتماعی خودکشی کے برابر ہوگا۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر فوری طور پر ممکن ہے کیونکہ اس پر کافی کام ہو چکا ہے۔
(3) ماضی میں جو صوبے اس کیخلاف قراردادیں منظور کر چکے ہیں حالیہ سیلاب کے بعد حالات یکسر مختلف ہو گئے ہیں وہ اسکی افادیت کے پیش نظر اسکے حق میں بھی قراردادیں منظور کر سکتے ہیں۔ کل کے دشمن آج کے دوست بھی ہو سکتے ہیں اس سے تمام صوبوں کو فائدہ ہے، کسی صوبے کو نقصان نہیں ہوگا۔
(4)اگر ہم بھارت کیساتھ پانی کے معاہدے کر سکتے ہیں تو اپنے ہی ملک میں صوبے محبت کی فضا میں باہم بیٹھ کر یہ مسائل حل کیوں نہیں کر سکتے؟ تمام صوبوں اور سیاسی جماعتوں کو مل کر بات کرنا ہوگی جس کیلئے میں اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار ہوں۔ بجلی، پانی کی تقسیم اور رائلٹی کے مسائل بھی طے ہو سکتے ہیں۔
(5) سیلاب سے جہاں خوفناک تباہی ہوئی ہے وہاں اربوں روپے مالیت کا پانی بھی سمندر میں گر کر ضائع ہوا ہے۔ اگر ہمارے پاس ڈیمز ہوتے تو نہ صرف سیلاب سے بچا جا سکتا تھا، لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی کو قابل کاشت بناکر زرعی اجناس کی پیداوار بڑھائی جا سکتی تھی اور سستی بجلی پیدا کر کے صنعت کو ترقی دی جا سکتی تھی۔
(6) آخر میں انہوں نے بڑی دردمندی سے انتباہ کیا کہ اگر ہم نے سیلاب کی اتنی بڑی تباہی کے باوجود کوئی سبق نہ سیکھا تو کبھی بھی سبق نہیں سیکھ سکیں گے۔
گورنر سلمان تاثیر کے اس دھماکہ خیز اعلان کے بعد جو ردعمل سامنے آیا اس میں وزیراعظم نے صرف اتنا کہا کہ ’’گورنر کا کالا باغ ڈیم پر بیان غیر ضروری ہے‘‘۔ اسکی زیادہ وضاحت نہیں کی کہ کیوں غیر ضروری ہے۔ شاید سردست وزرائے کرام کے محلوں کے گرد فصیلوں کی تعمیر زیادہ ضروری ہو۔
سندھ سے پیپلز پارٹی کے ایک رہنما نبیل گبول نے کہا کہ گورنر کو ڈیم بارے بیان نہیں دینا چاہئے تھا۔ انہوں نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دیا ہے تاہم انہوں نے پانی کی ذخیرہ اندوزی کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں چھوٹے ڈیم بنانے چاہئیں مگر نامور آبی ماہر انجینئر شمس الملک نے فرمایا ہے کہ ڈیڑھ ہزار چھوٹے ڈیم بھی کالا باغ ڈیم کا بدل نہیں ہو سکتے۔ گورنر پنجاب کے اس عظیم تجزیئے پر فوری ردعمل کے طور پر معقولیت سے عاری تبصرہ لالہ موسیٰ سے ہمارے عزیز کا ہے۔ اطلاعات کے قلمدان کے سربراہ فرماتے ہیں: کالا باغ ڈیم متنازعہ ہے (جیسے یہ کوئی نئی بات ہے) جبکہ بھاشا ڈیم پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، ہم پہلے بھاشا ڈیم بنائینگے!
ان سے پوچھیں: آپکے پاس گورنر صاحب کی کسی ایک دلیل کا بھی کوئی جواب ہے؟ رہ گیا آپ کا بھاشا ڈیم… تو اگلے دن ایک ایک ٹی وی چینل پر یہی ڈیموں کی تعمیر پر مذاکرہ ہو رہا تھا تو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے بتایا کہ بھاشا ڈیم کی راہ میں مشکلات کے پہاڑ ایستادہ ہیں۔ فزیبلٹی تو ایک طرف شاہراہ ریشم کا خاصا حصہ ڈبونا پڑیگا۔ اسکے متبادل کی تعمیر، پھر اس پہاڑی اور انتہائی دشوارگزار خطہ میں سامان، مشینری وغیرہ لے جانے کیلئے راستے اور ٹریک بنانے، پھر ہماری قومی رفتار کو مدنظر رکھیں تو بھاشا ڈیم کا خواب تو 22/20 سال تک شرمندہ تعمیر ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ کیا قوم 20 سال انتظار کر سکتی ہے؟ جبکہ فطرت کے عظیم شاہکار جس پر 8 ارب لگ بھی چکا ہے کے بارے میں گورنر کی تجویز کے مطابق آج فیصلہ ہو جائے تو صبح اس پر کام شروع ہو جائے گا اور یہ ڈیم زیادہ سے زیادہ 5 سال میں تیار ہو کر اگلے 5 سال میں اپنی ساری لاگت واپس کر کے پاکستان کوعظیم خوشحال ملکوں کی صف میں جگہ دیگا۔
صوبہ خیبر پی کے سے حسب توقع حاجی عدیل نے گورنر سلمان تاثیر کے بیان کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا وزیراعظم سمیت جتنے بھی پنجاب سے پی پی پی کے رہنما ہیں صرف وہی کالا باغ ڈیم بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ اور سندھ سے تعلق رکھے والے تمام قائدین کالا باغ ڈیم کی مخالفت کر رہے ہیں (انہوں نے گورنر کی کسی دلیل کا کوئی جواب نہیں دیا)
حاجی عدیل کے بیان کا دلچسپ ترین حصہ میاں نواز شریف کے بارے ہے‘ بڑے فخر اور اظہار طمانیت کے طور پر فرماتے ہیں: میاں نواز شریف کا کالا باغ ڈیم بارے رویہ اعتدال پسند ہے۔ ان سے جب بھی کالا باغ ڈیم بارے پوچھا گیا انہوں نے یہی جواب دیا کہ ملک میں اس وقت سیلابی صورتحال ہے، یہ موقع کسی نئی بحث چھیڑنے کا نہیں ہے۔ اب حاجی عدیل سے کوئی پوچھے کہ سیلابی صورتحال کو پیدا ہوئے تو بمشکل سات آٹھ ہفتے ہوئے ہیں، نواز شریف نے تو عرصہ دراز سے کالا باغ ڈیم کا نام تک نہیں لیا۔ اسمبلیوں میں اس مسئلہ پر طوفان آئے، مسلم لیگ (ن) نے بھی مسلم لیگ (ق) سے ہم آہنگ ہو کر اسکے حق میں آواز بلند کی۔ اخبارات میں بیانات، الیکٹرانک میڈیا پر مذاکرے مگر میاں صاحب کی پراسرار خاموشی! ایک وقت تھا کہ میاں نواز شریف نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو ایٹمی دھماکے کے برابر اہمیت دی۔ وہ ایٹمی دھماکے کے ساتھ ہی یہ دھماکہ بھی کر گزرنا چاہتے تھے مگر حاجی عدیلوں، اسفند یار ولیوں اور پلیجوئوں کی گیدڑ بھبھکیوں سے ’’یرک‘‘ گئے۔ پاکستان کے عوام ان سے توقع رکھتے تھے کہ وہ عدلیہ کی بحالی کے بعد کالا باغ ڈیم بارے بھی لانگ مارچ کی کال دینگے۔ یہ قومی مسئلہ کم اہم تو نہیں تھا لیکن حاجی عدیل کی طرف سے ’’اعتدال پسندی‘‘ کی داد سے لگتا ہے کہ تیسری دفعہ وزیراعظم بننے کے جنون میں آپ نہ صرف پختونخواہ (پختونستان) پر ایمان لے آئے تھے بلکہ کالا باغ ڈیم کیخلاف بھی پاکستان مخالف قوتوں سے اندر خانے کوئی گٹ مٹ، کمٹمنٹ ہو چکی ہے۔ یہ اعتدال پسندی ہے یا پرلے درجے کی منافقت؟ کہ میاں صاحب اس ایشو پر منقار زیر پر ہیں! میاں صاحب! یہ سودے بازی مہنگی پڑیگی۔ اگر کالا باغ ڈیم کے ہیرو سلمان تاثیر (حقیقت میں زرداری) اور چودھری ہوئے تو آپ تیسری دفعہ کا خواب دیکھتے دیکھتے پنجاب سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے، بہاولپور اور گوجرانوالہ ’’ٹریلر‘‘ تھے، اصل فلم آگے ہے! گوردوارے کے باہر کڑاہ پرشاد تقسیم ہو رہا تھا۔ ایک سردار نے کڑاہ والی ہتھیلی چھپا کر دوسرا ہاتھ آگے کر دیا۔ تقسیم کار لاکڑی نے کہا: تم پہلے بھی لے چکے ہو، جائو بھاگو!اس دوران پہلے والی کتا لے گیا تھا۔