ڈاکو نے دروازہ کھولا پیار سے

صحافی  |  رفیق ڈوگر

ڈاکو نے پیار سے باہر سے نہیں اندر سے دروازہ کھولا باہر والے کے لئے کہ ’’آئو حکمرانی کے گلے مل جائو ٹھاہ کر کے‘‘ وہ باوردی پرویز مشرف جس نے اندر سے اقتدار کا دروازہ کھولا تھا اس کے ڈاکو نہ ہونے سے ہے کسی کو اختلاف؟ چودھری شجاعت حسین کو؟ اور جن کے ساتھ این آر او کر کے اس باوردی پرویز مشرف نے اندر سے اقتدار کا دروازہ کھولا تھا ان کے بارے میں کیا فرمایا کرتا تھا وہ کہ وہ کون ہوتے ہیں؟ تو پھر اس نے انہی کے لئے اندر سے اقتدار کا دروازہ کیوں کھول دیا تھا؟ کس نے کھلوایا تھا اس سے اقتدار کا دروازہ اور کیوں کھلوایا تھا؟ پرویز مشرف کی آمریت ملک میں عوامی حمایت سے محروم ہو چکی تھی امریکہ کو اپنی دہشت گردی سے خوفزدہ پرویز مشرف کی حکمرانی مضبوط کرنے کی آزمائش درپیش تھی ویسے ہی جیسے بارک حسین اوباما کو ان دنوں عوام کی حمایت سے محروم ہمارے حکمرانوں کی حکمرانی کو مضبوط کرنے کی آزمائش درپیش ہے جو اس کے کھلوائے دروازے سے اقتدار میں آئے ہوئے ہیں اور اس کے ہالبروک میاں نوازشریف تک کو اس ’’جمہوریت‘‘ سے اپنے پیار محبت کی یقین دہانیاں کراتے پھر رہے ہیں جو اس ڈاکو کے اندر سے کھولے دروازے سے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو کر اڑھائی سال سے صفائی کرتی آ رہی ہے اور صفائی ہی کرتی جا رہی ہے اور تو اور اس مظلومہ نے اس جمہوریت کے چیف ترین ایگزیکٹو پیران پیر کی نسل اور گدی والے یوسف رضا گیلانی کی بیگم صاحبہ کے نام نامی سے سرکاری بنک سے لئے پینتیس کروڑ قرضے کا دھبہ بھی نہایت کامیابی سے صاف کر دیا ہوا ہے اور ان درجنوں اندرونی بیرونی مقدمات کے دھبے بھی جو بھٹو گدی کے حاضر غائب نشینوں کی تاریخی خدمات پر لگے ہوتے تھے اور ان سینکڑے اعلیٰ ترین باصلاحیت خدام اور افسران شفسران کے اعمال ناموں پر لگے دھبے جن کی مائوں نے انہیں جنا ہی اس ملک اور قوم کی خدمات عالیہ کے لئے ہوا ہے۔ کتنی بڑی صفائی کی ہے اور کر رہی ہے اس ڈاکو کے اندر سے کھولے دروازے میں سے اقتدار کے ایوانو ںمیں داخل ہو جانے والوں کی جمہوریت وہی جو صفائی کرتی کراتی ان ایوانوں میں داخل ہو گئی تھی اگر وہ ڈاکو اندر سے اقتدار کا دروازہ نہ کھولتا اور چچا سام نے وہ این آر او نہ کرایا ہوتا کہ سینے مل جائو ٹھاہ کر کے اور میری خدمت کرو واہ واہ کر کے تو کہاں ہوتی آج وہ صفائی پیشہ جمہوریت؟ کہاں ہوتی تھی وہ اقتدار کے ایوانوں میں اس ڈاکو کی مدد سے داخل ہو جانے تک؟ چاہ یوسف میں امریکی ڈاکٹروں کے ہسپتالوں میں؟ جدہ کے شاہی محل میں؟ تو پھر امریکہ کی اور اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو جانے والوں کی مشترکہ مجبوری ہے کہ صفائی پیشہ جمہوریت بہت ضروری ہے۔ رہی وہ جمہوریت جس کے لانے یا جس کو سینے سے لگانے کے خالص پیار محبت کے دکھ درد میں میاں نوازشریف اور اقتدار کے ایوانوں میں اس ڈاکو کے اندر سے کنڈی کھول دینے کی وجہ سے داخل ہوئے بلوچوں کے سردار آصف علی زرداری کی بی بی جی نے میثاق جمہوریت کیا تھا نہ وہ بھی آ ہی جائے گی کبھی اتنی بھی کیا جلدی جب وہ میثاق باندھنے والے میاں جی اور ان بی بی جی کے وارثوں کو اس کے بارے میں کوئی جلدی نہیں ان کے عوام کو کوئی محرومی نہیں اس جمہوریت کے نہ آنے سے تو ہم آپ کیوں کوئی رکاوٹ ڈالیں رواں دواں جمہوریت کی صفائی مہم میں؟ ہاں تو کس کو ساتھ ملا لینے کے لئے کھولدی تھی اقتدار کے ایوانوں کی کنڈی اندر سے اس ڈاکو پرویز مشرف نے ان کے لئے جنہیں کئی سال سے قسم قسم کے خطابات اور لقابات عطا کر کر کے وہ اندر والا اعلان کرتا آ رہا تھا کہ ’’میں تو کنڈی نہیں کھولوں گا‘‘ کس نے کھلوائی تھی وہ کنڈی اس سے اور کس لئے کھلوائی تھی؟ ہماری اور آپ کی فلاح کے لئے؟ ہمارے ملک کی بہتری کے لئے؟ اصلی جمہوریت کی واپسی کے لئے؟ اگر امریکہ کا کنڈی کھلوانے میں ایسا کوئی ارادہ ہوتا تو کیوں نہ آ چکی ہوتی۔ اب تک وہ جمہوریت ہمارے ملک میں؟ تھی یا ہے کسی میں جرأت امریکہ کے کسی حکم کی عدولی کی؟ وہ جو پارلیمنٹ قسم کی ایک چیز آئی ہوئی ہے وجود میں پرویز مشرف کے کنڈی کھول دینے سے ہے اس میں کوئی جرأت ناتواں ہے لب کھولنے کی؟ کتنے سال پہلے منظور کی تھی اس پارلیمنٹ نے آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی بنانے کی متفقہ قرارداد؟ آپ کو یاد نہ ہو تو اس پارلیمنٹ کے متفقہ انتخاب لاجواب سید یوسف رضا گیلانی سے پوچھ لیں ان کی یادداشت اس صفائی جمہوریت کے استعمال سے بہت تیز ہو چکی ہے۔ اتنی تیز ہو چکی ہے کہ جب تک عدالت عالیہ نہ بتائے انہیں یاد ہی نہیں رہتا کہ کسی این آر او زدہ یا سزا یافتہ کو کسی اعلیٰ عہدے پر لگانا غیر جمہوری اور غیر آئینی ہے اور تو اور انہیں تو اتنا بھی یاد نہیں کہ ابھی چند ہی ماہ پہلے اسی پارلیمنٹ نے ایک اٹھارہ نمبری قرارداد منظور کر کے انہیں بتا دیا ہوا ہے اس ملک اور جمہوریت کے چیف ایگزیکٹو بہت تیز ہو گئی ہوئی ہے ان کی یادداشت امریکہ سے آئی اس صفائی جمہوریت کے مسلسل استعمال سے۔ وہ محاورہ تو آپ نے سنا ہی ہو گا کہ ’’ہم اندھے اور کس لئے ہوئے پھرتے ہیں؟‘‘ کسی نے نابینا یعنی اندھے سے پوچھا تھا کہ حافظ جی حلوہ کھائو گے؟ اور اس نے جواباً پوچھنے والے سے پوچھا تھا کہ تمہیں اتنا بھی علم نہیں کہ ہم اندھے اور کس مقصد کے لئے بنے پھرتے ہیں؟ حلوہ تو حلوہ ہے اور بارک حسین اوباما کو اپنی دہشت گردی کے تحفظ کے لئے پاکستان کے اقتدار کے ایوانوں میں ایسے مکین کی ضرورت ہے جسے عوامی حمایت بھی حاصل ہو اور ہالبروک اسی مقصد کے حصول کے لئے مارا مارا پھر رہا تھا سیلاب زدگان کے اور جمہوریت زدگان کے درمیان تو کیا پارلیمنٹ کے قرارداد اعتماد پاس کر لینے سے وہ حمایت حاصل ہو جائے گی این آر او شاہ اور ان کی جمہوریت کو؟ ایک بار نہیں ایک ہزار ایک بار ہو جائے انہیں وہ حمایت حاصل ہوا ہالبروک کا اور ڈاکو کے اندر سے کنڈی کھول دینے سے اقتدار میں آئے ہوئوں کا آپس کا معاملہ ہے ڈاکو نے پیار سے دروازہ ہمارے پاکستان اور اس کے عوام کے لئے تو نہیں کھولا تھا۔