ٹارزن کی واپسی

کالم نگار  |  شوکت علی شاہ

گزشتہ ماہ ہم نے ایک کالم میں پرویز مشرف کی واپسی کا ذکر کیا تھا۔ گو بات ’’لائیٹ موڈ‘‘ میں کی گئی تھی اور اس پشین گوئی کا تعلق مکافات عمل سے تھا۔ پہلے میاں نواز شریف جلا وطن ہوئے، پھر جنرل صاحب غریب الوطن ہو گئے۔ میاں صاحب کی خواہش تھی کہ ان کا ا مام خمینی کی طرح استقبال ہو، جرنیل صاحب جولیئس سیزر کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں۔ سیزر کے مشہور الفاظ VIDI-VIWI-VICI(میں آیا، میں نے دیکھا اور ہر چیز پر چھا گیا) کی بازگشت آج بھی تاریخ کے مدفن سے سنائی دیتی ہے۔ جنرل مشرف نے بھی اس سے ملتے جلتے شبد کہے ہیں۔ میں پاکستان آ کر ملکی سیاست میں ہلچل مچا دونگا اور حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرونگا کہ مجھے وزیراعظم بننا ہے یا صدارت کا عہدہ سنبھالنا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اس اعلان کے سنتے ہی حکمرانوں کے منہ سے ہنسی کا فوارہ پھوٹ پڑتا اور وہ اسے عصر حاضر کا سب سے بڑا ’’جوک‘‘ قرار دیتے اور میاں نواز شریف بھی اسے مجذوب کی بڑھ یا دیوانے کا خواب سمجھ کر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیتے لیکن ایسا ہوا نہیں ہے۔ ’’غلغلہ ہائے الاماں بت کدہ صفات‘‘ والی کیفیت تو طاری نہیں ہوئی لیکن ایک عجیب قسم کے خوف نے انکو اپنے حصار میں لے لیا ہے۔ پرویز مشرف کو دو سال بعد اس قسم کا واضح بیان دینے کی ہمت کیسے ہوئی؟ اگر بادی النظر میں اس کے صدر یا وزیراعظم بننے کا کوئی امکان نہیں تو وہ سلطان راہی مرحوم کی طرح بڑھکیں کیوں مار رہا ہے۔ ایک معتوب اور راندہ درگاہ شخص کے لب ولہجہ میں اس قدر وثوق اور یقین کہاں سے آ گیا ہے؟ وہ شخص جو ہزار پہروں میں بھی محفوظ نہیں تھا اور جس پر ایک تسلسل سے کئی حملے ہوئے جس کا بچ نکلنا ایک معجزے سے کم نہ تھا، آج کیسے بطور ایک سویلین کے تمام خطرات مول لینے کیلئے تیار ہو گیا ہے؟ کیا اسے بشارت ہوئی ہے یا کہیں سے اشارتاً کہا گیا ہے؟ گو وزیراعظم گیلانی نے بات مزاحاً کہی تھی لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ واپسی پر HE WILL BE CAUGHT UP IN THE LABYRINTH OF LITIGATION (مقدمات کے گورکھدھندے میں پھنس جائے گا) اور اسے اپنے تمام کردہ اور نا کردہ گناہوں کا حساب دینا پڑے گا۔ میاں نواز شریف نے بھی ایک پریس کانفرنس میں خاصی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خاص طور پر انہیں وہ ہتھکڑی نہیں بھولی جس سے انہیں جہاز کی سیٹ کے ساتھ باندھا گیا تھا اصولاً تو انہیں خوش ہونا چاہئے اس طرح انہیں اپنے Terminator سے کسی نہ کسی رنگ میں بدلہ لینے کا موقعہ مل جائے گا۔ بدلے والی بات جملہ معترضہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ اسی پریس کانفرنس میں میاں صاحب نے فرمایا ہے کہ وہ انتقام کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے… خدا کرے ایسا ہی ہو! میڈیا اور ’’اینکر پرسنز‘‘ کو بھی ایک جوسی ٹاپک مل گیا ہے ایک تسلسل کے ساتھ ہر چینل پر جاندار تبصرے ہو رہے ہیں اور اس بات کا کھوج لگایا جا رہا ہے کہ اس بیان کے محرکات کیا ہیں’’خاک کی چٹکی‘‘ کو پرواز کیسے آ گئی ہے۔ حق باہو کا ’’پردیسی ککھ‘‘ شیر کیسے بن گیا ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ جنرل صاحب کے بیان کو الطاف بھائی کے ’’انقلابی نعرے‘‘ کے ساتھ Juxtapose کر کے پڑھا جائے تو بات کچھ کچھ سمجھ میں آتی ہے حکومت کے گرنے کی خبریں مسلسل چھپ رہی ہیں۔ وطن عزیز کے متعلق کسی نے درست ہی تبصرہ کیا تھا۔
WHEN A RUMOUR KEEPS BOUNCING AROUND A THING, IT MAY PROVE TO BE TRUE
میڈیا عوام کی سوچ کا ترجمان ہوتا ہے اور زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھا جاتا ہے۔ حکومت کی ناہلی اظہر من الشمس ہے۔ ’’نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں‘‘ مہنگائی صرف کمر توڑ نہیں بلکہ سارے وجود کو پگھلا دینے والی ہے۔ کرپشن، اقربا پروری، دوست نوازیاں، انتہا پر ہیں۔ کوئی ادارہ بھی ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہا۔ عدالت عظمیٰ نے کامران لاشاری کیس میں جو ریمارکس دیئے ہیں وہ آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ حکمران کس زعم میں مطمئن بیٹھے ہیں رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے امریکہ حکومت کو غرق سیلاب نہیں ہونے دے گا۔ وہ لوگ جو حالات حاضرہ پر گہری نگاہ رکھتے ہیں انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ امریکہ کسی حکومت کو گرا تو سکتا ہے، بچا نہیں سکتا اگر ایسا ہوتا تو شاہ ایران کبھی بھی جلا وطن نہ ہوتا۔
یہ درست ہے کہ کوئی محب وطن شخص غیر آئینی اقدامات کی حمایت نہیں کر سکتا۔ اس حقیقت سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ موجودہ حکومت کو عوام نے منتخب کیا ہے اور اسے قانونی طور پر حکمرانی کا حق حاصل ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب ادارے مفلوج ہو جائیں، وہ لوگ جو انہیں اقتدار میں لائے ہیں، بیزار ہو جائیں، بھوک کی شدت سے دل فگار اور آنکھیں شعلہ بار ہو جائیں تو پھر کیا ہو گا؟ مفلسی جس لطافت کو مٹا دیتی ہے۔ دمشق کی قحط سالی نے یاروں سے عشق چھڑوا دیا تھا۔ آئین، قانون اخلاقی ضابطے اسی صورت میں موثر ہوتے ہیں جب پیٹ میں روٹیاں ہوں۔ عوام کے پیٹ کا ایندھن صرف اسی صورت میں مہیا کیا جا سکتا ہے۔ جب حکمران ملکی دولت کو ملک میں ہی رہنے دیں، ہر روز نئے محل نہ خریدیں بددیانتی، اقربا پروری، حرص و ہوس اور رشوت پر تین حرف پھیر دیں۔ ان کیلئے یہ آخری موقع ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ اسٹریچر پر بھی باہر نکلنا مشکل ہو جائے۔