لاہور میں پٹرول کی دستیابی و نایابی کے مناظر و واقعات

پاکستان میں اگست اور ستمبر 2010ء نے سیلاب کی تباہ کاری و بربادی اور اس کی آڑ میں ہونے والے واقعات کے باعث پاکستان کی تاریخ میں ایک خصوصی اہمیت حاصل کر لی ہے، اشیائے خوردونوش اتنی گراں ہو چکی ہیں کہ اب اخبارات میں وہ بیانات بھی شائع ہو رہے ہیں کہ پاکستان کا غریب طبقہ تو پیاز کے ساتھ بھی روٹی نہیں کھا سکتا۔ پٹرول تو پہلے ہی مہنگا تھا ساتھ ہی عید کے بعد سے نایاب بھی ہو گیا۔ ابتداً تو سیلاب کو پٹرول کی نایابی کا سبب قرار دیا گیا اور وہ بھی بتایا گیا کہ جنوبی پنجاب میں کوٹ ادو کے قریب جو ریفائزی تھی وہ سیلاب کے باعث پٹرول سپلائی کرنے کی اہل نہیں رہی تھی چنانچہ اس ریفائزی سے پٹرول حاصل کرنے والے پمپس نے ’’بیریئر‘‘ لگا دیئے کہ کوئی ان کے قریب نہ آئے کیونکہ وہاں سے پٹرول دستیاب نہیں تھا۔ پی ایس او نے برے حالات میں بھی سپلائی جاری رکھی مگر ان پمپس پر گاڑیاں اور سینکڑوں موٹر سائیکل 20 ستمبر 2010ء تک قطار اندر قطار پٹرول حاصل کرنے کی تگ و دو کرتے ہوئے نظر آتے رہے۔ ہماری موومنٹ پر بھی دباؤ آیا اور ایک روز تو ایک یونیورسٹی کے قریب ہماری دو پہیوں والی گاڑیاں یعنی موٹرسائیکل سے پٹرول ختم ہو گیا تو ہم نے یونیورسٹی حکام سے رجوع کیا کہ آپ اگر میرٹ کو نظرانداز کر کے داخلے نہیں کرتے تو وہ بھی جائزہ لیں کہ جن لوگوں کو پٹرول مل رہا ہے وہ کس میرٹ پر مل رہا ہے اور اپنے اس پمپ سے ایک بوتل بھرا لیں جس پمپ سے آپ کی گاڑیاں مستقل بنیاد پر پٹرول حاصل کرتی ہیں تو اعوذ و معاذ اللہ وہ ترکیب کارگر رہی اور کچھ دیر کے بعد ہمیں ایک لیٹر تیل مل گیا اور ہم لاہور کی ان سڑکوں پر جن کو بہترین بنا دینے کا وعدہ عامر محمود نے بھی لاہور میٹروپولیٹن کارپوریشن کا سربراہ ہونے کی حیثیت میں کیا تھا مگر ابھی تک ابلتے ہوئے گٹرز کی آغوش میں ہیں جیسے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح روڈ، پر رواں ہوئے، پھر ایک روز ایک خوبصورت مگر بند پمپ کے سامنے ہمارا پٹرول ختم ہو گیا، ہم مسکین بن کر اس پٹرول پمپ کے سامنے کھڑے ہو گئے کیونکہ ہمارے اور پٹرول پمپ کے عملے کے درمیان میں بیریئر کھڑے تھے، کچھ دیر ہماری بے بسی کا نظارا کرنے کے بعد ایک ملازم ہماری طرف بڑھا اور نہایت دھیمی آواز میں فرمایا کہ آپ اپنا موٹرسائیکل پٹرول پمپ کے اندر لے آئیں اور پیچھے چلے جائیں کسی کو پتہ نہ چلنے دیں چنانچہ اندر سے ہماری باچھیں کھل گئیں اور ہم نے ان کی ہدایت پر عمل کیا تو کچھ دیر کے بعد ایک اور باریش ملازم ہمارے پاس آئے کہ کتنے پٹرول سے آپ کا گزارہ ہو جائے گا اس کے جواب میں ہم صرف مسکرائے اور اس طرح کہ ناول کی زبان میں وہ کھسیانی ہنسی تھی مگر پٹرول پمپ والے سچے تھے کچھ دیر کے بعد وہ ڈیڑھ لیٹر کی ایک بوتل پٹرول سے بھر کر لے آئے اور ہم پھر رواں ہو گئے مگر اس وقت جبکہ ہم یہ سطور رقم کر رہے ہیں صورت حال لحظہ بہ لحظہ بدل رہی ہے اور پی ایس او کے علاوہ دوسری کمپنیز کے پمپ بھی کھل رہے ہیں شاید اس لئے کہ پنجاب میں پٹرول کی صورت حال کے بارے میں ہمارے پیارے خادم اعلیٰ پنجاب نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم سے احتجاج کیا تھا۔