غریب عوام کا کیا بنے گا؟

صحافی  |  سکندر خان بلوچ

افواہ چاہے معمولی ہو یا بڑی ،خطرناک ثابت ہو سکتی ہے بشرطیکہ اس کا بروقت تدارک نہ کیا جائے۔ چھوٹی چھوٹی بے ضرر نظر آنیوالی افواہیں بعض اوقات ہمالیہ بن سکتی ہیں۔ ایسی ہی کچھ افواہیں اسوقت ماحول میں گردش کر رہی ہیں جوخطرات میں اضافے کا موجب بن رہی ہیں۔ اس وقت جب پہلے ہی پاکستان مختلف قسم کے خطرات میں گھرا ہے اس قسم کی افواہوںکا تدارک بہت ضروری ہے ۔آج میرے سامنے دو اہم افواہیں ہیں جنہیں خبروں کے روپ میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلی خبر ایک اہم انگریزی روزنامے میں دیکھنے کو ملی اور دوسری اس وقت انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہے۔ دعا ہے کہ یہ صرف افواہیں ہی ہوں حقائق نہ ہوں لیکن اگر بد قسمتی سے ان میں ذرا برابر بھی سچائی ہوئی تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ دشمن کے ہاتھ ہماری شہ رگ تک پہنچ چکے ہیں۔ نتائج کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
پہلی خبر یہ ہے کہ ہمارے تمام اہم سرکاری دفاتر کی بگنگBuggingکی جارہی ہے جس میں صدرِ محترم ۔ وزیر اعظم ۔اہم وزاراتوں کے دفاتر اورر شاید جنرل ہیڈ کوارٹرز بھی ہو۔انکی جدید آلات کے ذریعے سراغرسانی کی جارہی ہے۔ اس مقصد کیلئے کوئی ایسا آلہ استعمال کیا جارہا ہے جس سے مطلوبہ دفتر کی کسی بھی کھڑکی پر شعاعیں پھینک کر دفاتر کے اندر ہونیوالی تمام بات چیت سنی جاسکتی ہے۔ یہ شعاعیں عام لوگوں کو نظر بھی نہیں آتیں۔ مزید بد قسمتی یہ ہے کہ اسکے نہ تو اصل سورس کا پتہ چل رہا ہے اور نہ ہی اس ٹیکنالوجی کا کوئی ہمارے پاس سدِ باب ہے اور یہ کاروائی پچھلے دو سالوں سے جاری ہے۔ یہ شعاعیں ظاہراً ’’ڈپلومیٹک انکلیوDiplomatic Enclave‘‘ سے پھینکی جاتی ہیں اوراس وقت حرکت میں آتی ہیں جب کوئی اہم میٹنگ ہو رہی ہویا کسی اہم موضوع پر بات چیت ہو، یہ شعاعیں آدھے کلو میٹر تک موثر ہیں اور کیبنٹ میٹنگز کی آسانی سے خفیہ سراغرسانی کر سکتی ہیں۔ ایک ایسا واقعہ پچھلے سال ستمبر میں اس وقت سامنے آیا جب وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں کوئی اہم اجلاس ہونیوالا تھا اور اس خطرے کی وجہ سے اجلاس دو گھنٹوں کیلئے ملتوی کرنا پڑا۔ اخباری اطلاع کے مطابق یہ سراغرسانی وزیر داخلہ کے علم میں ہے بلکہ انکے اپنے دفتر کی سراغرسانی بھی جاری ہے۔
اگر اس اہم خبر کا جائزہ لیا جائے تو پچھلے دو سالوں سے ہمارے تمام اہم فیصلوں سے دشمن مکمل طور پر واقف ہے ظاہرہے اگر وہ واقف ہے تو وہ ان فیصلوں پر اثر انداز ہو کر اپنے مطلوبہ نتائج بھی حاصل کر رہا ہوگا۔ بدیگر الفاظ ہمارا کوئی فیصلہ دشمن سے خفیہ نہیںچاہے ہم جو مرضی آئے بیانات دیں‘ اگر امریکہ پاکستان پر دوغلی پالیسی۔ آئی ایس آئی کا دوہرا کردار یا کوئٹہ اور افغان سرحدی پٹی میں طالبان کی موجودگی کا دعویٰ کرتا ہے تو یقینا کسی بنیاد پر ہی ایسا ہو رہا ہے۔ محض تردید سے تو مسائل حل نہیں ہوتے۔اس میں ماضی کے دو اہم واقعات سوچ کی دعوت دیتے ہیں۔ اول سانحہ ممبئی کے بعد صدر زرداری کو ایک جعلی فون کال اور پھر صدر زرداری پر اہم طالبان سے ملاقات کا الزام۔ گو حکومتی سطح پر ان واقعات کی تردید ضرور ہوئی لیکن دشمن کی جاسوسی کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
شنید ہے کہ ایسی جدید ٹیکنالوجی اب تک اسرائیل کے علاوہ اور کسی ملک کے پاس نہیں حتیٰ کہ امریکہ بھی بھاری قیمت ادا کرکے ایسی ٹیکنالوجی اسرائیل ہی سے خریدتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اسرائیل بذات خود کسی دوسرے ملک کے ذریعے پاکستان میں یہ حرکت کررہا ہو۔ شک دو سفارتخانوںکی طرف جاتا ہے اور وہ ہیں امریکہ اور بھارت ۔ عین ممکن ہے کہ اسرائیل امریکی یا بھارتی سفارتخانے استعمال کر رہا ہو۔پاکستان میں بد قسمتی سے ایسے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جن سے یقین ہوجاتا ہے کہ دشمن یہاں پوری طرح سے سرگرم ہے۔ اسرائیل کے اہداف پاکستان میں کیا ہیں اس سے بھی ہم سب پاکستانی واقف ہیں۔ اس کیلئے دو باتیں غور طلب ہیں۔ اول یہ کہ پاکستان میں دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ باوجود سر توڑ کوششوں کے ان پر قابو نہیں پایا جا سکا نہ ہی کوئی ان کا سر پائوں مل رہا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان واقعات کی پشت پر کوئی بہت ہی چالاک قسم کی خفیہ طاقت ہے جو ہمارے اندرونی حالات سے بھی پوری طرح واقف ہے اور منٹوں میں فسادات شروع کرانے کی اہل ہے۔ ہماری خالی ’’بڑھکوں‘‘ کو بھی خوب سمجھتی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ دوسری اہم بات مشکوک بھارتیوں اور امریکیوں کی پاکستان آمد ہے جو عام سفارتی عمل سے ہٹ کر آرہے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک خبر تھی کہ دبئی سے 150بھارتی اور 86امریکی پاکستانی ویزے لیکر پاکستان آئے اور انہیں ویزے صدر مملکت کے کسی خاص دوست یا رشتہ دار کے کہنے پر تمام سفارتی آداب کو پس پشت ڈالتے ہوئے دئیے گئے ۔ان کی منزل قصرِ صدارت اسلام آباد تھی۔ ایسا کیوں ہوا ہے یا کیوں ہو رہا ہے عام پاکستانیوں کیلئے ناقابل فہم ہے۔
دوسری اہم افواہ دوماہ پیشتر مارگلہ کی پہاڑیوں پر پیش آنیوالا بلیو ایر کا سانحہ ہے۔ ائیر لائنز میں سانحات تو ہوتے رہتے ہیں لیکن تحقیقات سے وجوہات کا ضرور کھوج لگایا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کی جاسکے لیکن یہ واقعہ کچھ عجیب قسم کی پر اسراریت کا تاثر دیتا ہے۔ اس سلسلے میں اس وقت دو افواہیں گردش میں ہیں۔ اول یہ کہ یہ جہاز حادثے سے چند منٹ پیشتر بلیک واٹر کے کسی ایجنٹ نے اغوا کر لیا تھا اور وہ اسے 9/11کے حادثے کی طرح کہوٹہ ایٹمی پراجیکٹ کی عمارت سے ٹکرانا چاہتا تھا لیکن محب وطن پائلٹ نے ایسا نہ ہونے دیا اور راشد منہاس شہید کی طرح جہاز پہاڑی سے ٹکرا کر تباہ کر دیا۔ دوسری افواہ یہ ہے کہ جہاز غلطی سے اس طرف چلا گیا جو’’ نو فلائی زون ‘‘کہلاتا ہے اور وہاں انفرا ریڈ ریز کے ذریعے اسے تباہ کر دیا گیا۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ جان بوجھ کر پائلٹ کو ایسے علاقے میں لے جایاگیا جہاں اسے شوٹ کرنا مقصود تھا۔
اتنا اہم قومی سانحہ قیمتی جانوں کا ضیاع اور اس پر حکومتی خاموشی ان افواہوں کو حقیقت کا رنگ دیتی نظر آتی ہے۔ ایسے نظر آتا ہے کہ مصائب نے پاکستان کا راستہ دیکھ لیا ہے۔ جدھر بھی نظر اٹھتی ہے مصائب ہی مصائب نظر آتے ہیں۔سیلاب کے علاوہ باقی سب مسائل حکومتی نا اہلی کی پیدوار ہیں۔ سیلاب کی تباہی میں اضافے کیلئے بھی حکومتی کارکردگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر اہم مسئلے پر حکومت ریت میں منہ دبا کر خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان افواہوں پر حکومت عوام کو اعتماد میں لے پیشتر اسکے کہ یہ حقیقت کا روپ دھار جائیں۔ حکومتی رویے سے تو ایسا نظر آتا ہے کہ حکومت دانستہ یا غیر دانستہ طور پر پاکستان کو اس طرف لے جارہی ہے جہاں کوئی بہت بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے جہاں سے بسلامت واپسی شاید ممکن نہ رہے ۔ تمام بڑے ذمہ دارکردار تو آرام سے اپنے اپنے محلات میں بیرونی ممالک شفٹ ہو جائینگے۔ غریب عوام کا کیا بنے گا؟