عالم اسلام کے عظیم مفکر …… سید ابوالاعلیٰ مودودی

محمد فاروق چوہان......
یہ محمد عربیؐ کی امت کا ملک ہے۔ یہ مارکس اور ماؤزے تنگ کی امت کا ملک نہیں ہے اگر اللہ کے دین کیلئے ہمیں لڑنا پڑتا ہے تو ہم خدا کے فضل سے دس محاذوں پر بھی لڑنے سے نہ چوکیں گے۔ ہم بیک وقت آمریت کا بھی مقابلہ کریں گے اور بے دینی سے بھی لڑیں گے۔ جب تک ہم زندہ ہیں اور جب تک ہمارے سر ہماری گردنوں پر قائم ہیں اس وقت تک کسی کی ہمت نہیں کہ وہ یہاں اسلام کے سوا کوئی اور نظام لا سکے۔‘‘
’’ایک وقت آئے گا جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچاؤ کیلئے پریشان ہو گا۔ سرمایہ دار ڈیمو کریسی خود واشنگٹن اور نیو یارک میں اپنے تحفظ کیلئے لرزہ براندام ہو گی۔ مادہ پرستانہ الحاد خود لندن و پیرس کی یونیورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہو گا۔ نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقدا نہ پا سکے گی اور یہ آج صرف تاریخ میں ایک داستان عبرت کی حیثیت سے باقی رہ جائے گا۔‘‘
مذکورہ بالا یہ تاریخی الفاظ جو آج حقائق کا روپ دھار رہے ہیں عالم اسلام کی اس عظیم شخصیت کے ہیں جسے دنیا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے نام سے جانتی ہے۔ سید مودودی حیدر آباد (دکن) سے شہر اورنگ آباد میں 25 ستمبر 1903ء کو پیدا ہوئے۔ 77 برس پر محیط اپنی زندگی میں زبان اور بیان کے آبدار موتی بکھیرنے اور ہنگامہ خیز زندگی گزارنے کے بعد عالم اسلام کے یہ قابل قدر سپوت امریکہ کی ریاست بفلیو میں 22 ستمبر 1979ء کو جہانی فانی سے کوچ کر گئے۔
مولانا مودودی کی زندگی جہد مسلسل اور عزم و استقامت کا تابناک مرقع ہے۔ انہوں نے ساٹھ سے زائد کتابیں اور کتابچے تحریر کئے جن کے صفحات کی تعداد اٹھارہ ہزار سے زائد ہے جبکہ مولانا کی مختلف مواقع پر کی جانے والی تقاریر اس سے الگ ہیں۔ اگر ان کو بھی صفحہ قرطاس پر منتقل کر دیا جائے تو ایک اچھا خاصا ذخیرہ بن جاتا ہے۔ بلاشبہ وہ بیسویں صدی کے بہترین مورخ و نقاد بھی تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ علم و دانش‘ فکر و نظر اور اعلیٰ کردار و اطوار کے حامل ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
سید مودودی کا سب سے بڑا فکری کارنامہ احیائے دین ہے۔ انہوں نے انتہائی شگفتہ انداز تحریر سے اسلام کے چہرے پر پڑی گرد غبار کو صاف کیا اور اس کی ضیاء پاشیوں اور نور افشانیوں کو پھر سے اجاگر کیا۔ ان کی خاصیت یہ تھی کہ وہ کٹھن مراحل اور مشکلات میں شکستہ خاطر‘ مایوس اور مضمحل نہیں ہوتے تھے۔ یہ وہ دور تھا کہ جب مغرب کی فسوں کاری نے بڑے بڑے مدعیان اسلام کی نظروں کو خیرہ کر دیا تھا۔ ایسے پر آشوب دور میں ملت اسلامیہ کو سید ابوالاعلیٰ مودودی کی شکل میں ایک ایسا مجتہد ملا کہ جس نے نہ صرف اسلام کے مستقبل کی صورت گری کی بلکہ عصر حاضر کے فتنوں کی بھی سرکوبی کی اور اسے علمی دنیا میں بے اثر اور بے وقعت بنا کر رکھ دیا۔
مولانا مودودی میدان سیاست کے شہوار و فاتح تختہ دار تھے۔ ان کی ساری زندگی عجز و انکساری کا نمونہ تھی۔ انہیں ہم سے جدا ہوئے 31 سال ہونے کو ہیں لیکن دنیا بھر میں موجود لاکھوں لوگوں کے قلوب جنہوں نے ان کی فکر سے فیض حاصل کیا ہے ان کی یاد میں تڑپتے ہیں۔ سید مودودی نے اسلام کے احیاء کا جو عظیم الشان کام کیا ہے اس سے صدیوں تک استفادہ کیا جاتا رہے گا۔