شجاعت حسین کی شجاعت

عزیز ظفر آزاد....
حضرت قائد اعظم کی دومقدس امانتیں ہیں پاکستان اور پاکستان مسلم لیگ لہٰذا دونوں آپس میں ایک مضبوط رشتے میں منسلک ہیں تاریخ گواہ ہے جب جب مسلم لیگ کمزور ہوئی پاکستان کو برے حالات کا سامنا رہا مگر جب مسلم لیگیوں نے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا تو مایوسی اور ناامیدی کے بادل چھٹتے اور گھٹتے چلے گئے ۔ دونوں کی بنیادوں کو محب وطن بزرگوں نے ایمان افروز جذبوں اور ایثار اور قربانی کے ولولوں سے سینچا ہے ۔ ان بنیادوںمیں شہیدوں کا خون بھی شامل ہے اورشب بیداری کے بے بہا اشک بھی شاید اس کا ہی نتیجہ ہے کہ جب مسلم لیگیوں کی بداعمالیاں نااتفاقیاں حد کو چھونے لگتی ہیں تو رب ذوالجلال والاکرام شہیدوں کے لہو اور شب بیداروں کی آہوں کی لاج رکھتے ہوئے اتحاد و اتفاق کی جانب رخ تبدیل کردیتا ہے ۔ جہاں تک پاکستانی عوام کا تعلق ہے تو قیام پاکستان سے آج تک مسلم لیگرز کی نا اتفاقیوں اور خود غرضانہ اعمال کے باوجود غیور پاکستانیوں نے ہمیشہ ووٹ کے ذریعے مسلم لیگ کو ہی عزت اور اعتماد دیا اسے خالق جماعت جانتے ہوئے وہ مقام دیا جس کا حکم حضرت قائداعظم نے قوم کو دیا تھا ۔ اگر ہم 2008ء کے الیکشن پر سرسری نظر ڈالیں تو معلوم ہوجائے گا کہ وطن عزیز کی تمام سیاسی مذہبی اور علاقائی جماعتوں کو ملنے والے ووٹوں سے زیادہ مسلم لیگ کے نام پر ووٹ پڑے ۔ عوام نے تو اپنا فرض ادا کر دیا مگر مسلم لیگی قیادت عوام کے فیصلے کے سامنے سرنگوں کرنے کی بجائے ذاتی انا سودے بازی کے مرض میں مبتلار ہی ۔ انہی کی ہٹ دھرمی خود پسندی اور قومی مفاد پر ذاتی سوچ کو فوقیت دینے کا انجام ہے کہ آج ہم پر ایسے حکمران مسلط ہیں جن کے سابقہ اور موجودہ کردار کے تصور سے ہر وطن دوست کی روح کانپ جاتی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی خالق جماعت انتشار کا شکار ہے وہ تقسیم در تقسیم نظر آتی ہے ۔عوام جماعت کو متحد اور منظم دیکھنے کے خواب دیکھتی ہے ۔حالات کی تمام سنگینیوں کا حل مسلم لیگیوں کے اتحادمیں مضمر ہے ۔ قوم دو سال سے اس معاملے میں بزرگ مسلم لیگی نظریہ پاکستان کے سالار قبلہ مجید نظامی کی جانب امید اور آس کی نظروں سے ٹکٹکی باندھے منتظر ہے ۔ جناب نظامی نے بھی قائد اعظم کی سنت کو دہراتے ہوئے پیری میںبھی جس جواں مردی اور بلند حوصلے سے عظیم مشن کو جاری رکھا قابل تحسین ہے ۔ آپ ہر مرحلے پر دعا اور دوا کرتے رہے یہ تو ہر محب وطن پاکستانی مسلم لیگ کے اتحاد میں ہی تمام مسائل کا حل دیکھتے ہیں بلکہ اب تو یہ عوامی مطالبے کی صورت اختیا ر کر چکا ہے مگر راقم نے جتنا مضطرب اور بے قرار جناب مجید نظامی اور پیر صاحب پگارو کو دیکھا اگر یہ کیفیت دوسرے لیگیوں میں سرایت کر جائے تو پاکستان اپنی منزل مراد کی جانب روبا سفر ہو سکتا ہے ۔جہاں تک مسلم لیگی دھڑوں کا تعلق ہے نظامی صاحب نے کوششوں کے دوران بارہا بتایا کہ پیر پگارو کا پیغام ہے کہ مسلم لیگ کے اتحاد کی صورت میں مسلم لیگ فنگشنل غیر مشروط طورپر شامل ہوگی اور پیر صاحب کسی عہدے کے امیدوار نہیں ۔ چوہدری شجاعت نے بھی اتحاد کے ہر مرحلے میں مثبت اشارے دیے تاہم چوہدری شجاعت کا موجودہ فیصلہ کہ سیاسی ملاحیاں کھا لینے کے بعد پیر صاحب پگارو کے گھرجا کے ان کو اپنا رہبر اور ہنما تسلیم کر لینا قابل داد بھی ہے اور واجب تقلید بھی ۔ بلاشبہ شجاعت حسین نے اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے محب وطن اور مدبر رہنما ہونے کا ثبوت دیا اس عمل کو شجاعت کی شجاعت ہی کہا جاسکتا ہے۔ اب مسلم لیگی مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف سے بھی قوم و ملک کے وسیع مفاد میں شامل ہونے کی توقع رکھتے ہیں لیکن انہیں ن لیگ میں راجہ ظفر الحق والے عہدے چیئرمین کا مژدہ بھی سنا دیا گیا ہے۔ زمینی حقائق کے مطابق نواز شریف کو متحدہ مسلم لیگ میں ان کے شایانِ شان عہدہ ملنا چاہئے۔