سیلاب کی تباہ کاریاںاور ہمارے حکمران

صحافی  |  عطاء الرحمن

لندن سے شائع ہونے والے معروف ہفتہ وار جریدے دی اکنامسٹ نے پاکستان میں سیلاب کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی سرگرمیوں اور خدمات کی تعریف کی ہے لکھا ہے اگردوسرے صوبوں کی حکومتیں اور مرکزی سرکار بھی اتنی تندہی سے کام کرتیں تو تباہی کے اثرات کو کم سے کم کیا جاسکتا تھا۔ دی اکنامسٹ نے ہماری وفاقی حکومت کی سہل انگاری کا بھی ذکر کیا ہے۔ جب آفت آئی تو پاکستان کے میڈیا نے صدر آصف علی زرداری کی فرانس و برطانیہ کے پر تعیش دورے پر سخت تنقید کی۔ برسر اقتدار جماعت کے ترجمانوں نے اسے کیچڑ اچھالنے سے تعبیر کیا۔اب عالمی سطح پر پڑھے جانے والے ایک معتبر جریدے نے بھی اس کا نوٹس لیا ہے۔اگر ہماری تمام حکومتیں اور چاروں صوبائی ایک ہی جذبے،برابر کی تندہی اور مشترکہ پروگرام سامنے رکھ کر ہمارے ملک اور عوا م پر نازل ہونے والی اس سب سے بڑی مصیبت کا مقابلہ کرتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔ دنیا جس کی ہم ناقابل اعتبار اور بدعنوان بھکاری بنے ہوئے ہیں نظروں میں ہمارا تاثر ایسی قوم کا ابھرتا ہے جس کی قیادت نے چیلنج کا اس طرح مقابلہ کیا ہے کہ اپنی مدد آپ کی مثال قائم کردی ہے۔ نواز شریف نے14اگست کو وزیراعظم سے ملاقات کرکے اسی نوعیت کا پروگرام پیش کیا۔جناب گیلانی نے برملا اتفاق کیا۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔
امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے عالمی برادری سیلاب کی تباہی کے نتیجے میں پاکستان تمام نقصان یا ضروریات کو پورا نہیں کرے گی۔جبکہ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا ہے پاکستان کی حکومت کو جتنی کچھ عالمی امداد مل رہی ہے۔اس کے باوجود تمام نقصان کا مداوا نہیں کرے گی۔نواز شریف نے اپنی تجویز میں کہا تھا ایک مشترکہ اور غیر جانبدار کمشن قائم کرکے پہلے شفاف ترین طریقے سے داخلی ذرائع کو اکٹھا کیا جائے قومی سطح پر لوگوں سے بھی مدد اکٹھی کرکے ایک جگہ جمع کی جائے۔ اس کے بعد ہم دیکھیں گے کتنی بیرونی امداد کی ضرورت ہے اور کتنی نہیں۔ حق یہ ہے اگر اس پر عمل کرلیا جاتا تو حکومت کو سیلاب زدگان کی بھرپور مدد کیلئے اس وقت جو قلت وسائل کا سامنا ہے اس سے بڑی حد تک بچایاجاسکتا تھا۔ لیکن ایک اچھی تجویز سیاست اور زردار ی صاحب کی اناکی نذر ہوگئی۔
چند روز پہلے وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا ابھی تک 1.3بلین ڈالر پر مشتمل غیر ملکی امداد آئی ہے جس میں سے اسی فیصد این جی اوز کے ذریعے خرچ ہوگی۔ یہ این جی اوز بھی زیادہ تر بیرونی ہیں۔جو مقامی ہونگی وہ بھی سفارتخانوں کی منظور شدہ۔ یہ اگر شفاف طریقے سے بھی کام کریں تو ان کے OVERHEAD CHARGES اتنے ہیں کہ رقم کا متعد بہ حصہ ان اخراجات کی نذر ہوجائے گا۔اس کے برعکس مذہبی جماعتوں کی رفاہی تنظیموں کا کام ملاحظہ کیجئے۔ ان کے یہاں اضافی اخراجات کے نام سے ایک دھیلہ نہیں خرچ کیا جاتا۔ وہ اس تصور سے ہی ناواقف ہیں سب رضا کار ہیں جو بھاری تنخواہوں، بڑے بڑے دفتروں، ہوائی جہازوں میں سفر اور کاروں میں آمدورفت جیسے ناز نخروں سے بے نیاز ہیں۔ ان تنظیموں کی کارکردگی کے بھی حامی اور مخالف سب معترف ہیں۔ اگر مشترکہ کمیشن کی تجویز پر عمل کر لیاجاتا تو حکومت کی ساکھ اتنی ضرور قائم ہوجاتی کہ ناز نخروں والی این جی اوز بیرونی امداد کی اجارہ دارنہ بنتیں۔ لیکن اس تجویز کا سب سے زیادہ سیاسی فائدہ آج حکومت، اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت اور دیگر سیاسی تنظیمیں مل کر ایک سماجی اور رفاہی مقصد کی تکمیل میں لگی ہوتیں۔ تبدیلی کے جن نعروں نے حکومت کو پریشان کررکھا ہے وہ اتنے بلند آہنگ نہ ہوتے عملاً قومی سطح کا اتحاد وجود میں آجاتا اہل وطن کی نگاہیں دوسری جانب ہوتیں۔