امریکی کالا پانی

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

بلیک واٹر بظاہر ایک امریکی سیکورٹی کمپنی ہے، لیکن بباطن وہ چوں بخلوت مے رود آں کارے دیگر مے کند کا فرض ادا کرتی ہے، اور اس کی کارروائیاں خفیہ ہوتی ہیں اور کہیں کہیں اتمام حجت کیلئے اُسے ظاہر بھی کردیاجاتا ہے ہماری حکومت جس سے کسی معاملے میں امریکہ اجازت نہیں لیتا اور اس کا اعتراف ہمارے وزیر داخلہ بھی کرچکے ہیں بلیک واٹر بھی اپنی سیاہ کاریاں ہمارے ملک میں کھلم کھلا کر رہا ہے بلکہ حکومت پاکستان نے اُسے زمینیں بھی الاٹ کردی ہیں اگر صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ امریکہ ڈرون حملے بند نہیں کرتا ہم نے اُسے اڈے بھی دے دئیے ہیں جن کی زد پر ایران ہے تو پھر امریکہ کو اتوار بازار بھی حوالے کردینے چاہئیں تاکہ کم از کم اشیائے خوردونوش تو سستے داموں مل سکیں اور اگر اس سے بھی آگے جاناچاہیں تو ملک کو امریکہ کو اجارے پر دیدے کیونکہ اجازت ناموں کی شرط تو پہلے ہی حکمران حذف کرچکے ہیں اب یہاں امریکہ سیاہ کرے سفید کرے کسی کو کیا پرواہ، قوم کو اس قدر بے بس، محروم اور غربت زدہ کردیا گیا ہے کہ وہ خدانخواستہ اس کیلئے بھی تیار ہے کہ اس ملک کو چاہے بچہ سقہ چلائے انہیں کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ مہنگائی رخصت ہوجائے،فضا پُر امن ہو، پٹرول عام اور سستا ملے، بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے اور حکمرانوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگا کر اُن کے وظیفے ڈالروں میں مقرر کئے جائیں۔ جب ملک کو اضحوکہ ہی بنانا ہے تو پھر اسے مکمل طورپر سراپا مذاق بنادیا جائے، بھارت کو پاکستان میں بھی قونصل خانے بنانے کی سہولت دی جائے کیونکہ اجازت کی تو اب ضرورت ہی نہیں، پچھلے دنوں ایک بڑے دانشور صحافی نے آہ بھر کر کہا کہ ملک کے حالات بہت خراب ہیں مگر ایسی آوازیں اس نقار خانے میں کون سنتا ہے البتہ امید کی ایک کرن عوام کے افق سے طلوع ہوسکتی ہے بشرطیکہ وہ اپنی بھوک ننگ کو بھلا کر میدان عمل میں نکلیں، وہ سسٹم کو بدلیں، قربانیاں دیں، لیڈروں اور حکمرانوں سیاستدانوں سے اُمیدیں منقطع کرلیں اپنے رب پر اور اپنی تبدیلی لانے کی لگن پر اعتماد کریں ہماری پارٹیوں اور لیڈروں نے بھی جو قربانیاں دیں اگر وہ حقیقی ہوتیں تو یہاں کا نظام بدل گیا ہوتا ایک چھوٹا سا تجربہ سامنے ہے کہ وکلاء اور عوام نے تھوڑی سی کوشش کی قربانی دی، مار کھائی اور عدالتِ عظمیٰ کو آزاد و بحال کردیا اگر یہی ٹمپو وسیع ترہوجائے اور عوام الناس اپنے میں کسی سیانے کو لیڈر مان کر چل پڑیں تو منزل دور نہیں۔اب تو یہ صاف نظر آنے لگا ہے کہ برائے نام حکمرانوں کے تعاون سے امریکہ کو اب پاکستان کے اتحادی ہونے کی پرواہ نہیں وہ تواس چکر میں ہے کہ وہ پاکستان کو اپنا گھر بنا کر اُسے بھارت کو کرائے پر دیدے اب یہ نہیں سوچناچاہیے کہ یہاں امریکی کالا پانی یعنی بلیک واٹر یہاں موجود ہے بلکہ پاکستان میں موجود ہر امریکی کالا پانی ہے اور بالآخر وہ اس ملک کو ہمارے لئے کالا پانی کا جزیرہ بنادے گا جس میں سے ایلیٹ کلاس فرار ہوجائے گی کیونکہ ان کا دراصل کوئی وطن نہیں اُن کا وطن وہی ہے جہاں اُن کی لوٹی ہوئی دولت اور بچے زیر تعلیم ہیں ویسے بھی اب یہاں اُن کے صرف بریف کیس رہ گئے ہیں جو لوگ یعنی لیڈر خونی انقلاب کی باتیں کرتے ہیں وہ دراصل اس سے بچنے کی تدبیر کر رہے ہیں یہ ملک قائداعظم نے غریب عوام کے تعاون کے ساتھ بنایا اگر عوام اپنے میں سے کسی کو قائد بنانے میں کامیاب ہوکر اُس کے پیچھے چل پڑیں تو واقعی خونی انقلاب آکے رہے گا اور چوسا ہوا خون واپس لے آئے گا، میڈیا اچھا ہے یا برا مگر اس نے عوام کو بستروں سے اٹھا دیا ہے اب دیر صرف اس بات کی ہے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور چل پڑیں اور اگر ایسا نہ کیا تو پھر ذوق کے بقول یہی کچھ ہوگا کہ…؎
دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یونہی جب تک چلی چلے
اوراگر چاہیں تو یوں بھی کر سکتے ہیں کہ…؎
’’ اب خوب‘‘ اپنے جامے سے باہر نکل کر چل
دنیا ہے چل چلائو کا رستہ سنبھل کرچل